ریاست ہوگی ماں جیسی – ‏ماریہ زیب اعوان

42

ریاست ہوگی ماں جیسی

تحریر: ‏ماریہ زیب اعوان

دی بلوچستان پوسٹ

پاکستان کی نوزائدہ مملکت کے لیے ہر محاذ پر نت نئے مسائل ابھر رہے تھے۔ وادی کشمیر جوکہ پاکستان کے ریاستی مفاد کے لیے شہہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے، وہاں پر حالات بہت زیادہ خراب ہو گئے تھے۔ جناح صاحب جیسے زیرک سیاستدان کو حالات کی سنگینی کا اندازہ تھا۔ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے جناح صاحب افواج پاکستان کو کشمیر میں کاروائی کا حکم صادر کر دیتے ہیں۔ لیکن افواج پاکستان کے کمانڈر ان چیف جنرل سر فرینک والٹر میسروی صاحب جنگ لڑنے سے انکار کر دیتے ہیں اور ایک عجیب سی غیر یقینی صورتحال بن جاتی ہے۔ ان حالات میں وزیرستان کے قبائل بغیر کیسی ذاتی مفات اور لالچ کے دفاع وطن کے لیے آگے بڑھتے ہیں اور اپنے خون سے ایک تاریخ رقم کرتے ہیں اور وہ تاریخ پاکستان کو آزاد کشمیر بطور تحفہ پیش کرتے ہیں۔

آج انہی قبائل کے نوجوان، خواتین، بوڑھے، ایک نوجوان منظور احمد پشتین کی قیادت میں ریاست ماں سے اپنے حصے کی محبت اور شفقت کا مطالبہ کر رہی ہے۔ جنوری کے اس یخ بستہ ماحول میں بنوں گل کے تاریخی شہر میں لاکھوں لوگوں کا اجتماع اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اس شہر کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے اور اسکا ازالہ نا گزیر ہے ورنہ مایوسی ہمشیہ بغاوت کو جنم دیتی ہے۔

ریاست اور ریاستی اداروں کا کام اپنی عوام سے مقابلہ نہیں بلکہ اپنی عوام کے حقوق کے تحفظ کی غیر مشروط یقین دہانی ہوتی ہے۔

ریاست ہو گی ماں جیسی جسکی نظر میں سب بچے برابر ہونگے اور ریاست ہر بچے کو یہ یقین دلائے گی کہ اسکی نظر میں سب برابر ہیں، ریاست شہریوں کے درمیان محبتیں بڑھاتی ہے۔ فاصلے کم کرتی ہے اور سب کو تحفظ دیتی ہے۔

ریاستی شہریوں کی بھی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ باہمی عزت اور احساس کا رشتہ یقینی بنائے۔ یہ حق کسی کو نہیں دیا جاسکتا کہ وہ فیصلہ کریں کہ کون زیادہ محب وطن ہے اور کون کم۔

لاہور اور اسلام آباد کے لوگوں کو یہ لائیسنس کبھی نہیں دیا جاسکتا کہ وہ لوگوں کے حب الوطنی کے پیمانے بنائے۔ یہ غدار غدار اور کافر کافر کا کھیل اس ملک کی دیواروں کو کھوکھلے کئے جارہے ہیں، کیوں نہ لڑنے کے بجائے ایک دوسرے کی بات سن لی جائے، کیوں نہ طاقت کے بجائے دلیل کو مضبوط کیا جائے۔ اگر ملک کے کسی حصے میں بہت سارے لوگ سڑکوں پے ہیں تو کیو ں نہ انکی بات سن لی جائے۔

ریاست کیوں خائف ہے اگر ریاست نے کچھ غلط نہی کیا؟ پختون تحفظ موومنٹ ہر لمحہ یہی بات کر رہی ہے کہ وہ پاکستان کے آئین کیساتھ کھڑے ہیں ۔ کیا ریاست پاکستان کے آئین کے مطابق اپنے جائز انسانی حقوق کا مطالبہ اتنا بڑا گناہ ہے کہ ہم انکا سماجی بائیکاٹ کر دیں؟

کیا کوئی ایسا طریقہ کار نہیں ہوسکتا کہ مسنگ پرسن کا معاملہ احسن طریقے سے حل ہو؟ کیا یہ ممکن نہیں جو بے گناہ ہے یا انکو کسی غلط فمہی میں نظر بند کر دیا گیا ہوانکو رہا کر دیا جائے؟

کیا یہ ممکن نہیں لینڈ مائنز کو صاف کیا جائے، اگر وسائل یا ٹیکنالوجی کا کوئی مسئلہ ہو تو اقوام متحدہ اور عالمی دنیا سے مدد حاصل کی جائے؟

کیا یہ ممکن نہی آئی ڈی پیز کی باعزت آباد کاری کی جائے، اگر وسائل کی کمی ہے تو قوم سے مدد مانگ لی جائے؟ کیا حق نہیں بنتا کہ جن لوگوں نے وطن اور قوم کی خاطر دہشت گردی کیخلاف لازوال قربانیاں دی ہیں انکی اجتماعی مدد کی جائے؟

کیا اس مملکت میں ایک سچ اور مفاہمتی کمیشن نہی بنایا جاسکتا جو کہ حقائق تک پہنچ کر ایک پائیدار امن کی بنیاد رکھیں؟ کیا یہ اتنی نا ممکن بات ہے کہ اسفند یار ولی خان، محمودخان اچکزئی، حضرت مولانا فضل الرحمان، منظور احمد پشتین اور حکومت اور ریاستی اداروں کے درمیان ایک بامقصد قومی جرگہ ہو جوکہ پشتون قوم کو مطمئن کر سکیں۔ کیا یہ سب نا ممکن ہے؟

یہ سب چیزیں ممکن ہیں، یہ بھی عین ممکن ہے کہ حالت جنگ میں غیر ارادی طور پر کچھ غلطیاں ہوئی ہوں اور شاید وہ غلطیاں ریاستی پالیسی نہ ہوں، مگر ان سے قبائلی عوام کے جذبات مجروح ہوئے ہوں۔ تو کیوں نہ آگے بڑھ کر بڑے دل کیساتھ معافی تلافی کریں اور ریاست مفاہمتی عمل میں پہل کریں کیونکہ ریاست ہوگی ماں جیسی۔

پختون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور احمد پشین سے بھی بصد احترام عرض ہےکہ کچھ باتوں کا آپکو سنجیدگی سے نوٹس لینا ہو گا، جو لوگ پختون قوم کو تشدد کیطرف لیکر جانا چاھتے ہیں ان سے مکمل لاتعلقی ظاہر کرنا ہو گی۔ بابا ئے امن باچا خان کے عدم تشدد کے نظرئیے کو مضبوطی سے پکڑنا ہو گا، کچھ حد تک یہ ذمے داری بھی ان پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی تحریک کے نوجوانوں کے اشتعال پر سخت نظر رکھے۔ ریاستی مفادات ،خطے کی غیر یقینی صورتحال اور افغانستان میں پاکستان کے ریاستی مفادات یہ باتیں بھی انتہائی حساس اور اہم ہیں۔ افغانستان کی سیاست میں پاکستان کیخلاف بڑھتی ہوئی نفرت بھی ایک سنگین مسئلہ ہے اور چونکہ منظور پشتین ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف ایک قابل قبول شخصیت ہے۔ تو اپنے سیاسی اثرورسوخ کو دونوں ملکوں کے درمیان فاصلے کم کرنے کے لیے استعمال کریں۔

پی ٹی ایم کے سپوٹر اور حمایت یافتہ لوگ پوری دنیا میں موجود ہیں۔ منظور پشتین کو اس بات کو بھی یقینی بنانا ہو گا کہ بیرونی دنیا میں پاکستان مخالف لوگ اس پاکیزہ تحریک کو پاکستان کیخلاف استعمال نہ کرسکیں۔ لیڈر وہ نہیں ہوتا جو قوم کو مسائل میں دھیکلے بلکہ قوم کو مسائل سے نکالے لیڈر سیلاب کے سامنے بند باندھتا ہے تاکہ قوم کو تباہی سے بچایا جا سکے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔