دس افراد کو بازیاب کرکے دو درجن سے زائد افراد کو لاپتہ کیا گیا- این ڈی پی

79

نیشنل ڈیموکرٹیک پارٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں شاہرائی اموات حد سے زیادہ تجاوز کرگیا ہے، بلوچستان میں نام نہاد آپریشن ، گیس لوڈ شیڈنگ ، مسخ شدہ لاشیں،نامعلوم افراد کے ہاتھوں قتل اور سڑک حادثات سے مر رہے ہیں۔

ترجمان نے کہا بلوچستان جوکہ ایک مکمل کالونی کی شکل پیش کرتا ہے،اتنا بھیانک معاشرہ بلوچستان کے عوام کو دانستہ طور پر دیا گیا ہے ، بلوچستان کے برعکس ہم پنجاب کو دیکھیں تو پنجاب خوشحال ہے پورا میڈیا پنجاب کو توجہ دیتا ہے وہاں اگر چھوٹا سا مسئلہ ہو تو میڈیا پورا دن اسکو دکھاتا رہتا ہے،  موٹروے بنا دیئے گئے ہیں، ہسپتال میں بنیادی سہولیات میسر ہیں، تعلیمی اداروں میں فورسز نہیں ہیں، جبکہ بلوچستان میں زندگی بہت سخت ہے،غربت اپنے عروج کو پہنچ گیا ہے، تعلیم یافتہ طبقہ روزگار کے لیئے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہی ہیں،میڈیا کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے بلوچستان میں میڈیا کو آزادانہ طور پر کام کرنے نہیں دیا جارہا۔

ترجمان نے کہا حالیہ دنوں دس لاپتہ افراد کو بازیاب کرکے دو درجن سے زیادہ بلوچوں کو ضلع آواران میں گرفتار کرکے لاپتہ کردیا گیا، ماما قدیر کے جدوجہد کو ہم ٹھکرا نہیں سکتے،لاپتہ افراد کے مسئلے کو عالمی سطح تک پہنچانے میں ماما قدیر نے دن رات محنت کی کئی دفعہ انکو جان کی دھمکیاں تک دی گئی اور دی جارہی ہیں،ان سب حالات کے باوجود ماماقدیر بلوچ اپنے جدوجہد سے دستبردار نہ ہوئے بلکہ پہلے سے زیادہ لاپتہ افراد کے آواز کو بلند کیا، کئی ہزار پیدل کلومیڑ چل کر پُرامن احتجاج ریکارڈ کروایا۔

ترجمان نے کہا این ڈی پی ماما قدیر سمیت تمام انسانی حقوق کے حقیقی جہدکاروں کی حمایت کرتی ہے،بلوچستان کے شعور یافتہ عوام کو اپنے مستقبل کے حوالے سے سنجیدہ ہوکر سوچنا ہوگا کہ اسی طرح زندگی گزرانا ہوگا یا ایک زندہ قوم کی حیثیت  سے مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے اپنے آنے والی نسلوں کو ایک آزاد اور خودمختیار معاشرہ فراہم کرئے جہاں انسانیت کا بول بالا ہو، جہاں تعلیمی اداروں میں بندوق نام کی چیز وجود نہ رکھتی ہو، ایک سیکولر نظام رائج ہو،ایک ایسا معاشرہ جہاں انسان کے بنیادی سہولیات میسر ہوں، یہ سب تب ممکن ہوگا جب بلوچ قوم ہجوم سے نکل کر ایک قوم کی شکل میں اپنے قومی شناخت کو بحال کرنے میں آگے بڑھی گئی۔

ترجمان نے کہا کل کوئٹہ  کراچی قومی شاہراہ پر جامعہ بلوچستان کے اسسٹنٹ پروفیسر “در جان پرکانی” اوتھل کے قریب روڑ حادثے میں جانبحق ہوئے این ڈی پی درجان پرکانی کی حادثاتی موت کا ذمہ دار حکومت بلوچستان پر لگاتی جہے جو بھی حکومت آتا ہے صرف فوجی آپریشنز، لوگوں کو لاپتہ کرنا جیسے جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں،بلوچستان کے حقیقی وارثوں کو بلوچستان کی فکر ہے بلوچ قوم کی ہر فرد کی زندگی نہایت سخت اور مشکلات سے دوچار ہے۔

ترجمان نے آخر میں کہا کہ این ڈی پی ہر وقت ہر فورم پر بلوچستان کے سیاسی حقوق کی آواز کو بلند کرتی رہے گی۔