خونی شاہراہ کے قہقہے – منظور بلوچ

314

خونی شاہراہ کے قہقہے

تحریر: منظور بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

درجان چلا گیا۔۔۔ ایسے گیا کہ نہ آنے کے لیئے۔۔۔ اب اس نے خاموشی کی چادر اوڑھ لی۔۔ اب اسکو اس بات کی بھی فکر نہیں کہ ایم فل کے کورس کے مکمل ہونے کے بعد تھیسز بھی لکھنا ہے۔۔ اب اسے اپنے مضامین اور ٹاپک سلیکشن کے لیئے بھی کسی کی مدد کی ضرورت نہیں رہی۔۔ اب وہ یہ باتیں مجھے کبھی نہیں بتائے گا کہ آج نمرہ نے کہاں کس دلیری کے ساتھ بلوچ کا مقدمہ لڑا ہے۔۔ وہ یہ بھی نہیں بتائے گا کہ نمرہ کس تیزی کے ساتھ اپنی خود اعتمادی اور جینیئس کے ساتھ بلوچ کا اثاثہ بن رہی ہے اور آگے چل کر اس نے قیادت کے لیئے ترستی بلوچ قوم کی سربراہی کرنی ہے۔۔۔۔ وہ مجھے اب کبھی یہ بھی نہیں بتائے گا کہ آج ارج (اسکی منجھلی بیٹی) نے کیا شرارت کی ہے۔۔۔ اور آج رات کو وہ بھابھی سمیت بچوں کو رات کا کھانا کس ہوٹل میں کھلانے والا ہے۔۔۔ وہ اب مجھے کبھی یہ نہیں بتائے گا کہ ” زامران پکڑ اینو عجبیو چم اس کرینے”زامران اسکا سب سے چھوٹا بیٹا ہے۔۔۔ وہ یہ کبھی نہیں بتائے گا کہ زامران کی مرغیوں کی تعداد میں اور کتنا اضافہ ہوا ہے۔۔۔ وہ یہ بھی نہیں بتائے گا کہ زامران کے طوطے کتنے اور آگئے ہیں۔۔ وہ اب اپنے سیل نمبر سے مجھے کبھی فون نہیں کرے گا کہ چلو کاشان ہی سہی چائے کے کپ پر بیٹھ کر گپ شپ کرتے ہیں۔

وہ مجھ سے اب کبھی سعید کرد کے قصے نہیں کرے گا۔۔ اس کے واقعات جن کو لطیفہ کی رنگ آمیزی کرکے بیان نہیں کرے گا۔۔ چئیرمین آصف بلوچ کا کوئی نیا قصہ نہیں بتائے گا۔۔۔ ملک نصیر شاہوانی کے کراچی جانے آنے کے بارے میں بھی کچھ نہیں بتائے گا۔۔۔ وہ ہمارے ساتھ ایم فل کرنے والے طاہر جمالدینی کو اب کبھی شغل شغل میں تنگ نہیں کرے گا۔۔۔۔ وہ اب مجھے رفیق شاد اور احمد حسین سے متعلق کچھ نہیں بتائے گا۔۔۔۔وہ اب ہم سے کبھی تقاضہ نہیں کرے گا کہ یارو نوشکی کا کوئی پروگرام بناؤ۔۔ رات بھی وہاں گزاریں گے۔۔۔ وہ نوشکی کے حاجی نصراللہ کے خلوص اور محبت کے بارے میں بھی کچھ نہیں بولے گا۔۔ اب اسے یہ شکایت بھی نہیں رہی کہ ایک مرتبہ ایم فل کے انکے ساتھیوں نے اسے اور غنی بلوچ کو بتائے بغیر پکنک کا پروگرام بنایا تھا۔۔۔ اب وہ کبھی اصرار نہیں کرے گا کہ چلو ڈاکٹر تاج رئیسانی کے گھرتھوڑا سا انھیں چڑا کر گپ شپ کریں۔۔اب وہ کبھی بھی مصر نہیں ہوگا کہ آ ج شام چائے پینے میرے گھر آنا۔۔ گپ لگائیں گے۔۔ اب وہ کبھی نہیں پوچھے گا کہ آپ اور یوسف(مینگل) شام کو روز کی طرح کاشان پر ملوگے۔۔۔ اب وہ کسی پکنک کا ڈیمانڈ نہیں کرے گا۔۔۔ سب کہتے ہیں کہ وہ چلا گیا لیکن دل نہیں مانتا۔۔ دل کے ماننے یا نہ ماننے سے کیا ہوتا ہے۔۔ اب وہ اتنی دور جا چکا ہیکہ ہم جتنی صدائیں لگائیں وہ سب بے سود ہیں۔۔ جب اسے ہماری صداؤں کی ضرورت تھی ہم گنگ بنے رہے۔۔ اور جب اسکو ضرورت نہیں رہی تو دل کرتاہے کہ چلتن کے دامان میں آواز کی پوری طاقت سے اسے بلاؤں۔۔۔ اتنا چیخوں کہ گلا رندھ جاء، اتنا روؤں کہ آنکھیں خشک ہوجائیں۔

وہ زمستان کی رات تھی۔ ہیٹر کے پاس کچھ پڑھ رہا تھا کہ بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے غنی بلوچ نے انکی موت کی دل دہلا دینے والی خبر کنفرمیشن کے لیئے مجھ جیسے دل ناتواں کو بھیجی۔ میں بالکل سن ہوکر رہ گیا۔۔۔ میں یقین کرنے کو تیار نہیں تھا۔۔ جو دل پہ گزری وہ بیان کرنے کے لیئے الفاظ نہیں صر ف محسوس کیا جا سکتا ہے۔میری حالت ایسی تھی کہ دل پہاڑ کے نیچے کچلا جا رہا تھا۔۔ اچھا ہوا کہ سیل فون کی بیٹری جواب دے گئی۔۔ اور میرا دل تو پہلے ہی جواب دے چکا تھا۔۔زمستان کی برفیلی ہوائیں بوجھ بن گئی تھیں۔ روتا تو کس کے ساتھ روتا۔۔ رات سو چکی تھی۔۔ صبح غم و اندوہ لیکر ساتھ آئی تھی۔۔خبر کنفرم تھی۔۔ بچے بھی حادثے کے دوران زخمی تھے۔۔ دوپہر ڈھائی بجے جنازہ تھا۔۔ برف، کیچڑ اور سردی میں بھی بہت بڑی تعداد آچکی تھی۔ یہ سب اس کے چاہنے والے تھے۔۔ اس دن محسوس ہوا کہ یار درجان تمہارا حلقہ کتنا بڑا تھا۔۔ کون تھا جو اشک بار نہ تھا۔۔

اس کی موت کی خبر سن کر سوچا تھا کہ صبح گلیاں ویراں ہونگی۔۔ ٹریفک کا بہاؤ رک جائیگا۔۔۔ ہوائیں اپنا راستہ بھول جائیں گی۔۔ پورا شہر سڑکوں پر ہوگا۔۔حکومت، پارٹیوں، این ایچ اے اور تمام متعلقہ محکموں سے پوچھا جائے گا کہ ہمارا پیار ہمارا دلار کہاں ہے۔؟ اس نے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا تھا۔۔ درجا ن مر ا نہیں تھا۔ قتل کیا گیا تھا۔۔ اسے قاتل سسٹم، نا اہل پارٹیوں، این ایچ اے سب نے مل کر قتل کیا تھا۔۔ اسے قدرت نے نہیں مارا تھا۔۔ اسے ہماری بے حسی، کرپشن، کمیشن، ٹھیکیداری سیاست نے مارا تھا۔۔ اسے ہمارے کرپٹ اور گونگے نام نہاد لیڈروں نے مارا تھا۔۔ قاتل سسٹم کے وہ سارے پرزے جو بلا واسطہ یا بالواسطہ اس قتل میں شریک تھے۔۔ وہ در جان کو نہیں اپنے جرم کو دفنانے آئے تھے۔۔

قاتل سسٹم کے بہت سارے پرزے وہاں موجود تھے۔۔۔بی این پی کے کچھ لیڈر صاحبان وہاں موجود تھے۔۔ ایک لیڈر صاحب تو دوران تدفین ایک شخص سے مسلسل گفت گو میں مگن تھے۔۔۔ کیا ہوا تھا؟ کچھ بھی تو نہیں۔۔ لوگ تو پیدا ہی مرنے کے لیئے ہوتے ہیں۔۔ اور قدرت کے ساتھ کیا ہو سکتا ہے؟جسکی موت آنی ہو۔۔ اسکو کون روک سکتا ہے۔۔ لیکن یہ قتل تھا۔۔ بی این پی کے لیئے درجان ایک پرزہ تھا۔۔ اور بھلا بی این پی بے چاری کر بھی کیا سکتی ہے؟ اسکا سنتا کون ہے؟ بھر بھی شاباش ہے بی این پی کو مرتے کچلتے بلوچوں کے لیئے چھ نکات تو بیان کیئے ہیں۔۔۔ ایسے ہی چھ نکات جس طرح تبلیغی کرتے ہیں۔۔ وہ بھی آپ کو صبر کی دعا دیں گے اور تاکید کریں گے کہ یہ قدرت کے معاملات ہیں۔ جس کی جتنی لکھی ہے؛ وہ اتنی ہی جیئے گا۔۔۔ لیکن یہ لمبا چوڑاکالا دیو جو کوئیٹہ سے کراچی تک لیٹا ہوا ہے۔۔ لیکن وہ تو خون کا پیاسا ہے۔۔۔ وہ روزانہ انسانی لہو کا خراج مانگتا ہے۔ جتنے لوگ بلوچستان میں دہشت گرد نہیں مارے گئے۔ اس سے زیادہ لوگ اس کالی خونی سڑک کے ہاتھوں موت کی نیند سلائے گئے ہیں۔۔

اگر قانون کی عملداری ہوتی، این ایچ اے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی، بلوچستان کے ٹریلین ڈالرز سے بھی زیادہ وسائل سے یہ سڑک دو رویہ تو کیا چار رویہ بن سکتی تھی۔۔ لیکن اس صورت میں لوگوں کو اربوں کے کمیشن نہیں ملتے، انجینیئر اور ٹھیکیداروں کے محلات نما بنگلے نہیں بنتے۔۔ ہم کیسے مانیں کہ یہ سب قدرت نے کیا۔۔ لیکن یہی ڈرائیور یا ڈرائیورز جنکی وجہ سے روزانہ جانیں چلی جاتی ہیں۔ یہی لوگ دوبئی،سعودی عرب اور یورپ میں ایسا کچھ نہیں کرتے۔۔حکومت،بیورو کریسی،سیاسی پارٹیاں،ٹرانسپورٹر مافیا،این ایچ مانے یا نہ مانے۔۔ بلوچستان کے عوام مانتے اور جانتے ہیں کہ یہ سب قتل ہے یہ بلوچستانی اوربلوچ عوام کی نسل کشی ہے۔۔ دہشت گردی کے واقعات میں مارے جانے والے دو ہزار نہیں ہونگے۔۔ جبکہ اس قاتل سڑک پر سالانہ چھ ہزار حادثے ہوتے ہیں۔۔ اور مرنے والوں کی تعداد ایک عام اندازے کے مطابق آٹھ ہزار سے زائد ہے۔۔۔ ہم کیسے مانیں کہ یہ قتل نہیں یہ نسل کشی نہیں۔ جہاں ڈکلیئرڈ جنگیں ہوتی ہیں۔ ان سے زیادہ لوگ صرف ایک شاہراہ نے مارڈالے۔۔۔ اور ہم بے حس لوگ ان قتل اور خون کو قدرت کے کھاتے میں ڈال کر اپنے ملا اور بڑوھوں کے صبر کے بھاشن سن کر دوسرے خونی واقعہ کا انتظار کرتے ہیں۔۔۔۔ تف ہے ہم پر ہماری بے حسی پر کہ خود کو انسان سمجھتے ہیں۔

بلوچ بھی عجیب صورت حال سے دو چار ہیں۔۔ بچے اپنا بچپنا بھول چکے ہیں۔۔ وہ وقت سے پہلے سنجیدہ،وقت سے پہلے نوجوان اور وقت سے پہلے بوڑھے ہوتے جا رہے ہیں۔۔ بلوچ خواتین اور ماؤں کی زندگیوں میں ایک نہ ختم ہونے والا انتظار لکھا گیا۔۔ ہر اک آہٹ پر بوڑھی آنکھیں خوش گمانی سے چمکنے لگتی ہیں کہ شاید انکا جگر کا ٹکڑا ظالموں کے چنگل سے نکل کر آگیا ہے۔۔ نوجوان روزگار کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔۔ اور جب تھک جاتے ہیں۔۔ تو پھر ہر غم کا علاج”دم مارو دم مٹ جائیں غم” کی راہ لیتے ہیں۔ پھر انکی راتیں جاگتی اور دن سوتے ہیں۔

اور ہمارے بوڑھے گزشتہ دو عشروں سے تو بالکل ہی بے کار،ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھے۔۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ ایک نوجوان کو(اس نوجوان کو جسنے اس بوڑھے اور اسکے پورے خاندان کا سہارا بننا ہے) اپنے ناتواں اور کمزور بازوؤں پر اٹھا کر اس میدان کی جانب چل پڑتے ہیں،جسے قبرستان کہاجاتا۔۔۔ پھر ایک بڑا سا گڑھا کھود کر یہی بوڑھے ہاتھ اپنے سجیلے، نوجوانی سے بھر پور بیٹے، جسے اب مردہ کہا جاتا ہے،کوسبھی مل کر اس گڑھے میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے ڈال آتے ہیں۔۔ آتے وقت اس کی قبر پر ہاتھوں سے مٹی پھینکی جاتی ہے؛ کوئی آواز بلند کرتا ہے کہ پیچھے کچھ اور لوگ بھی ہیں انکو بھی موقع دیں کہ وہ قبر پر مٹی پھینک کر ثواب حاصل کر سکیں۔۔ بوڑھے شام ہونے سے پہلے ” کونٹ” پر بیٹھنے کے لیئے چلے جاتے ہیں۔اس لیئے کہ اب انکی باقی زندگی اسی کونٹ پر گزرنی ہے۔ وہ تب تک منتظر رہتے ہیں،جب تک اگلا حادثہ نہیں ہوتا،ایک اور خاندان تباہ نہیں ہوتا(جب میں یہ تحریر لکھ رہا تھا تو اس روز بھی اس قاتل سڑک پر حادثے میں تین انسانی جانیں تلف ہو چکی تھیں۔۔)

ہم بھی عجیب لوگ ہیں خونی شاہراہ پر سفر کرنے والوں کو بے شمار نصحیتیں کرتے ہیں آہستہ چلانا،سپیڈ نہیں لگانا،اوور ٹیک نہیں کرنا وغیرہ۔۔ وغیرہ۔۔۔۔پھر لاشعوری طور پر حادثے کے منتظر رہتے ہیں۔

پھر جب حادثہ ہوجاتا ہے۔۔ تو قیامت کا منظر ہوتا ہے۔۔ پورا خاندان پاگلوں کی طرح روتا ہے۔۔ زندگی پھر وہی نہیں رہتی،جو حادثے سے قبل تھی۔۔ پھر لوگ ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں یا پھر جنازوں کی آمد کا انتظار کرتے ہیں۔۔۔پھر کونٹ پر فاتحہ ہوتا ہے۔۔ ہر بڑا آدمی ایک کیمرے والے کے ساتھآتا ہے تاکہ اسکی بھی تصویر میڈیا پر آسکے۔۔ اس قاتل سسٹم کے نمائندے جو ملک،میر،ایم پی اے،ایم این اے،سینیٹر،وزیر،پارٹی سربراہ جب آتے ہیں بظاہر ہمدردی کرنے۔۔۔ لیکن در پردہ آپکو ان آلہ کاروں کے ذریعے پیغام دیا جاتا ہے کہ تقدیر کے لکھے کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔۔۔ اب یہ ہمارا کلچر بن چکاہے۔۔ حادثے،موت اور صبر کا کلچر۔۔

دوسری طرف دن رات دعوے ہیں کہ ہم نے بلوچستان کو جنت بنا ڈالا۔ دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔۔ تعلیم زیادہ ہوگئی ہے۔۔ سکول،کالجز اورجامعات کی تعداد بڑھ گئی ہے۔۔ بلوچ بہت با شعور ہیں۔۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ الحمداللہ اب بلوچستان میں امن ہی امن ہے۔ تو پھر اے گونگے، بہرے حکمرانوں یہ کیوں نہیں بتاتے کہ ہر دوسرے روز ہم لاشیں کیوں اٹھاتے ہیں۔۔ آپ کے بقول امن ہی امن ہے۔۔ تو پھر یہ قاتل کون ہے جو ہم سے روزانہ ہمارے پھول مسل کر چلا جاتا ہے۔۔

تعلیم؛ ڈگری پر اتھرانے والو۔۔۔ قاتل سسٹم کے میروں،معتبروں سے سیلفی بنانے والو یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ سونا اگلتا بلوچستان اس قابل نہیں کہ اس کواس کالی لمبی دھڑنگی شاہراہ کے جبڑوں سے بچایا جائے۔۔

کیوں کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ روزانہ بلوچستان سے کتنے ارب اور کھرب دیگر علاقوں کو منتقل ہوتے رہتے ہیں۔۔ اگر ستر سال کا حساب لگایا جائے اور اسکا صرف پانچ فیصد اس شاہراہ پر خرچ کیا جائے یہ چار تو کیا آٹھ لینوں میں بن سکتا ہے اور وہ بھی سنگ مرمر کا۔۔

ہمارے لوگ حادثوں میں نہیں مر رہے بلکہ روزانہ کی بنیاد پر دن کی روشنی میں ہماری جو دولت چرائی جارہی ہے،یہ حادثے یہ اموات اسکا نتیجہ ہیں۔۔۔ ہماراآپکا جھوٹ مھوٹ کا لیڈر اس لیئے حقائق نہیں بتاتا کہ اس لوٹ مار میں وہ بھی شامل ہے اور تو اور کوئیٹہ میں بیٹھے صحافت کے نام پر دکانداری کرنے والے بھی اس لوٹ میں شریک ہیں۔۔

بلوچستان سے متعلق ایوانوں میں پالیسی ساز اداروں اور میڈیا میں جتنا جھوٹ بولا جاتا ہے؛ وہ سب قاتل شاہراہ کے ایک ہی واقعے میں فائلوں میں اسی وقت سڑ جاتا ہے۔۔

بلوچستان کی رہنمائی کے تمام دعوے دارو۔۔۔ آج تم کو ایک جاندار نہیں بلکہ ایک بے جان سڑک آنکھیں دکھا رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ تم لوگوں کے پا س دماغ ہے،وسائل ہیں، اربوں روپے ہیں، لاکھوں ملازم ہیں،لیکن اس کے باوجود میں تھمارے پھول جیسے بچے،سجیلے نوجوان، عورتیں چھینتا رہونگا اور وہ بھی روزانہ کی بنیاد پر۔۔ تھمارے پاس رونے دھونے کے سواء اور کچھ نہیں ہوگا۔
جب تھمارے اپنے آنسوؤں سے تھمارا اپنا دل نہیں پسیجتا، تو تمہارے رونے سے مجھے کیا فرق پڑے گا۔۔۔ میرا کام اس لیئے بھی آسان ہے کہ میرے مدمقابل بے حس لوگ ہیں۔۔۔ کوئی اور ہوتا تو وہ اپنے ایک پیارے کے لیئے تنہا پہاڑ کاٹ ڈالتا۔۔۔ لیکن یہاں زندہ لوگوں کی شدید کمی ہے۔۔ اگر چند ایک ہیں؛ تو وہ میرا لقمہ بنیں گے۔۔۔

جام صاحب آپکی دودھ بھری حکومت، اپوزیشن کے پی ایس ڈی پی کے شور شرابے،اختر مینگل کے چھ نکات،نیشنل پارٹی کا سو سالہ جشن۔۔۔۔ کچھ نہیں چایئے اگر دے سکتے ہو تو میرا دوست درجان مجھے دو۔۔۔ اگر ایسا بھی نہیں کر سکتے تو ہمدردی کے ڈرامے بھی مت دکھاؤ۔۔

اے بلوچستان کے لوگوں تم میں سے کوئی نہیں جو اس خونی شاہراہ کی راہ میں ڈٹ جائے۔۔۔ اور اعلان کرے کہ اے قاتل شاہراہ ہم اپنا سب کچھ قربا ن کرینگے،لیکن اپنے لوگ مرنے کے لیئے تیرے حوالے نہیں کرینگے،ہم تیرے خلاف آج سے کھڑے ہونگے اس وقت تک جب تک اس شاہراہ پر صفر شرح حادثوں کے ساتھ سکون اور اطمینان سے سفر کرینگے۔۔
اگر بلوچستان کے لوگ زندوں میں شمار نہیں ہیں، وہ اب تک لاشیں اٹھانے سے تھکے نہیں؛ تب میری دعا ہے کہ کسی طاقتور جنرل کی بیگم صاحبہ کا گزر اس خونی شاہراہ سے ہو اور کوئی معجزہ ہوجائے کہ تمام تر پروٹوکول کے باوجود اس کا ٹام(کتا) اور نینو(بلی) کسی حادثے کا شکار ہوں (میں حیوانوں کی زندگی کو بھی انسانی زندگی کی طرح قیمتی سمجھتا ہوں،ہوں نا آدمی، خودغرض،کمینہ۔۔ یہاں بھی اپنا فائدہ سوچ کر کہہ رہا ہوں)۔۔ فور سٹار جنرل کی بیگم صاحبہ کا کتا یا بلی ہیں اس خونی شاہراہ کی بھینٹ چڑھ جائے شاید ہماری قسمت بدل جائے۔۔ راتوں رات این ایچ اے ایک تھگڑی آرڈر پر جی جی کرتے نہ صرف اسے چار رویہ بنائے بلکہ اس سے پہلے ایسے بہت سارے قانونی و حفاظتی اقدام اٹھائے کہ حادثے ایک پرانی کہانی بن جائیں۔۔۔۔ لیکن بھلا ایسا معجزہ بھی ہو تو کیوں بلوچستان کی پوری آبادی بارہ لاکھ خاندان ہونگے۔۔ جبکہ پورا بلوچستان سونے اور چاندی سے بنا ہے۔۔ نسل کشی کا فریضہ ایک شاہراہ نے اٹھا رکھا ہے؛ یہ توفائدہ ہی فائدہ۔۔۔ بلوچوں کو مارنے کا گناہ اٹھائے بغیر مقصد کا حصول۔۔۔۔ زندہ باد کوئیٹہ کراچی شاہراہ کتنی بڑی مشکل حل کردی۔۔۔۔ کہاں ہیں وہ سارے الو کے پٹھے جو فائلوں میں گم منصوبے بنا رہے ہیں۔۔۔ آج سے کسی فائل کی ضرورت نہیں صرف صبح شام اس شاہراہ کے چرن چوؤ۔۔۔۔ اس کی دھو ل آنکھوں میں لگاؤ۔۔۔ جو تمھیں سیکنڈ اور منٹ کے حساب سے ارب پتی کررہی ہے۔

رہ گئے بلوچ۔۔ ان کے جاگنے میں مدت لگے گی۔۔ جب وہ جاگیں گے تو چاروں طرف پچاس پچاس منزلہ عمارت ہونگی۔۔۔ اور ایک چھوٹے سے ٹکڑے پربلوچوں کی آبادی ہوگی۔۔ جہاں وہ اب بھی خانہ بدوش ہونگے۔۔ باہر سے آنے والے لوگوں کو یہاں کے اصل رہائشیوں سے ملاقات کرائی جائے گی۔۔۔ اوران کے سامنے کوئیٹہ کراچی شاہراہ دنیا کے جدید ترین اصولوں کے مطابق ہوگئی ہے اور گائیڈ بتا رہا ہوگا کہ یہ ہماری واحد شاہراہ ہے جہاں نصف صدی کے دوران ایک حادثہ تک رو نما نہیں ہوا۔۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔

SHARE
Previous articleافغانستان: مسافر طیارے کو حادثہ، 80 سے زائد افراد کے جانبحق ہونے کا خدشہ
Next articleسیاسی بصیرت و معروض | پہلا قسط – حنیف دلمراد
منظور بلوچ
بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے بینچہ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر ڈاکٹر منظور بلوچ اس وقت بلوچستان یونیوسٹی میں براہوئی ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین ہیں۔ آپ نے براہوئی زبان میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے، اسکے علاوہ آپ ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز اور ایل ایل بی بھی کرچکے ہیں۔ آپکے براہوئی زبان میں شاعری کے تین کتابیں، براہوئی زبان پڑھنے والے طلباء کیلئے تین کتابیں اور براہوئی زبان پر ایک تنقیدی کتابچہ شائع ہوچکا ہے۔ منظور بلوچ بطور اسکرپٹ رائٹر، میزبان اور پروڈیوسر ریڈیو اور ٹی وی سے منسلک رہ چکے ہیں۔ آپ ایک کالم نویس بھی ہیں۔ آپ بطور صحافی روزنامہ مشرق، روزنامہ رہبر، روزنامہ انتخاب، روزنامہ آزادی، روزنامہ آساپ، روزنامہ ایکسپریس نیوز میں بھی کام کرچکے ہیں اور آپ ہفتہ وار سالار کوئٹہ کے ایڈیٹر بھی ہیں۔ آپ دی بلوچستان پوسٹ میں بلوچستان کے سیاسی اور سماجی حالات پر باقاعدگی سے کالم لکھتے ہیں۔