خضدار: سالوں سے جبری طور پر لاپتہ نوجوان بازیاب نہیں ہوسکے

180

سالوں سے لاپتہ افراد کے لواحقین تاحال اپنے پیاروں کے بازیابی کے منتظر

بلوچستان بھر کی طرح اس وقت بلوچستان کے دوسرے بڑے شہر ضلع خضدار سے بھی درجنوں افراد سالوں سے لاپتہ ہیں، جن میں سے کچھ ایک دہائی سے زائد عرصے سے لاپتہ ہیں۔ ان لاپتہ افراد کے لواحقین گذشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے احتجاج کررہے ہیں۔

سیاسی و سماجی حلقوں سمیت لاپتہ افراد کیلئے آواز اٹھانے والی تنظیموں کے مطابق مذکورہ افراد کو لاپتہ کرنے میں پاکستانی فورسز، خفیہ ادارے اور ان کی تشکیل کردہ ڈیتھ اسکواڈ گروہ براہ راست ملوث ہیں۔

ضلع خضدار سے لاپتہ کیئے گئے نوجوانوں کی عدم بازیابی سے عوامی و سیاسی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے، توتک آپریشن میں بزرگ قبائلی رہنما محمد رحیم قلندرانی کو ان کے خاندان کے دیگر 16 افراد کے ہمراہ حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا جس کے بعد وہ تاحال لاپتہ ہیں۔

خضدار سے کئی سیاسی کارکنان کو لاپتہ کیا جاچکا ہے جن میں 27 مارچ 2009 کو لاپتہ کیے جانیوالے تین کارکنان کبیر بلوچ، عطاء اللہ بلوچ اور مشتاق بلوچ کے علاوہ شمس بلوچ، غفار بلوچ، غفور بلوچ، منیر ایڈووکیٹ، سعد اللہ بلوچ، ریاض موسیانی، عنایت اللہ بلوچ، عنایت اللہ چنگیز شامل ہیں۔

اسی طرح 8 جون 2009 کو لاپتہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے سابق مرکزی وائس چیئرمین ذاکر مجید، 18مارچ 2014 سابق چیئرمین زاہد بلوچ اور 28جون 2009 لاپتہ کیے جانیوالے بلوچ نیشنل موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر دین محمد تاحال بازیاب نہیں ہوسکے ہیں۔

لاپتہ افراد کے لواحقین کا تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ ہمارے پیاروں کے حوالے سے ہمیں معلومات فراہم کی جائے کہ زندہ ہیں کہ نہیں، اگر وہ زندہ ہیں تو انہیں منظر عام پر لایا جائے۔

خیال رہے لاپتہ افراد کے لواحقین کے جانب سے متعدد کیسز میں پاکستانی فورسز، خفیہ اداروں اور ڈیتھ اسکواڈ اہلکاروں کیخلاف مقدمات درج کیئے جاچکے ہیں۔