حقیقی رہنما کی پہچان – شوان بلوچ

106

حقیقی رہنما کی پہچان

تحریر: شوان بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

کچھ عرصے سے ایک ٹرینڈ چل رہا ہے کہ شکریہ سردار اختر مینگل۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے میرے ذہن میں مسلسل ایک سوال آتا ہے کہ یہ اختر مینگل کون ہیں؟ کل تھوڑا وقت نکال کر اختر مینگل کو تھوڑا نزدیک سے جاننے کی کوشش کی تو ایک حیرانگی محسوس ہوا۔ یہ لوگ بھی چھوٹے چھوٹے خوشیوں کے لیے بڑے غموں کو بھول جاتے ہیں۔ خیر وہ بات چھوڑ دیں۔ اختر مینگل جو 1997 میں بلوچستان کے وزیر اعلیٰ تھے، یہ وہ وقت تھا جب اختر مینگل نے 28 مئی 1998میں نواز شریف کے ساتھ چاغی کو اپنے ہاتھوں سے جلایا تھا، جو آج تک ویران پڑا ہے۔ وہاں ابھی تک لوگ متاثر ہیں۔ وہاں ابھی تک بارشوں کے بادل نہیں آتے ہیں۔ جب لوگوں نے سوال پوچھنا شروع کیا تو اختر مینگل کے پاس کوئی جواز نہیں تھا اور آخر میں یہ کہنے لگا اور آج تک بھی اختر مینگل سے یہ بات کیا جاۓ تو اس کا جواب یہی ہے کہ ہم سے اس وقت نہیں پوچھا گیا تھا اور ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔ اسی لیے میں نے اُس وقت استعفیٰ دیا تھا۔

یہ وہی اختر مینگل ہیں جو ہر وقت بلوچستان کے لیے آستین کا سانپ بن کر رہ رہے ہیں۔ جب جنرل پرویز مشرف کا حکومت 2008 میں ختم ہوا تو صاحب نے لوگوں میں ورک کرنا شروع کیا، مگر اپنا تعداد کم دیکھنے سے یہی محسوس کیا کہ مشکل ہے بلوچستان کا عوام اب میرا ساتھ دے تو اسی کا فائدہ اٹھا کر دبئی میں جاکر خود جلاوطنی لے لی۔ جب وطن پاکستان کے وفاداری کا کام وطن کو پڑا تو 2013 میں واپس پاکستان آئے اور انتخابات میں حصہ لیا اور ورکنگ شروع کیا، یہ وہی انتخابات تھے جب بلوچ آزادی پسندوں نے بلوچ عوام کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے انکار کروایا تھا اور یہ درس دیتے رہے کہ کوئی بلوچ اپنا ووٹ کسی بھی پارٹی کو نہیں دےگا۔ مگر ہم بھی اتنے تعلیم یافتہ نہیں تھے سیاستدان گھر گھر میں خود جاکر لوگوں کو یہ دکھانے کی کوشش کر رہے تھے کہ ہم آپ لوگوں کے عزیز ہیں، ہمیں اپنا ووٹ دے دیں۔ جب کچھ لوگوں نے انکار کیا تو رشوت دینا شروع کیا لوگوں کو پیسے کی لالچ دے کر ان کے ووٹ خرید لیے اور کچھ غریبوں کو اپنے سرداری اور اپنے طاقت کی دھمکیاں دے کہ ووٹ حاصل کیے۔ مگر بدقسمتی سے قومی اسمبلی میں دو سیٹیں حاصل کیے اور اپنا تعداد کم دیکھ کر وردی والوں کی آڈر سے بائی کاٹ کیا، قومی اسمبلی سے اور اپنے پالیسی بدل دیے اور کچھ ایسے پالیسی اپنائے کہ بلوچ قوم کو یہی محسوس ہو جائے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی بلوچ قوم کا ایک صحیح اور صاف و شفاف پارٹی ہے۔

جب 2018 کے الیکشن ہوئے تو قومی اسمبلی میں 4 سیٹیں حاصل کیے اور لوگوں کو یرغمال کرنے کے لیے اپنے چھ نکات سامنے لاۓ، جن میں سرفہرست میں بلوچستان کے لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کی تھی اور قومی اسمبلی میں سردار نے پانچ ہزار افراد کی ڈیٹا فراہم کیا۔ جب کہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز جو 2009 سے بلوچ لاپتہ افراد کی ڈیٹا جمع کر رہا ہے اور ایک ہفتے کے لیے ابھی تک ان کا کیمپ بند نہیں ہوا ہے اُس کے مطابق بلوچ لاپتہ افراد کی تعداد 48 ہزار ہیں اور جس میں 6 ہزار کی مسخ شدہ لاشیں ملے ہیں۔ کیا اختر مینگل ایک دن وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ میں گئے تھے، یہ پوچھنے کے لیے کہ بلوچستان سے کتنے افراد لاپتہ ہیں؟ کیا اختر مینگل نے اپنے چھ نکات میں یہ کہا تھا کہ بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کے ساتھ ساتھ کوئی بلوچ لاپتہ نہیں کیا جائے؟ کیا اختر مینگل نے بلوچستان یونیورسٹی اور باقی تعلیمی اداروں میں سے ایف سی کو نکالنے کی بات کی تھی؟ کیا اختر مینگل نے بلوچستان میں جو ہر پانچ قدم ایف سی کے چیک پوسٹ ملتے ہیں جن کی وجہ سے پورا بلوچستان متاثر ہے سارے بلوچ اپنے گھروں سے باہر نکلنے سے ڈرتے ہیں کیا اختر مینگل نے چیک پوسٹوں کو کم کرنے کی بات کی تھی؟ وغیرہ وغیرہ!
جواب:-جی نہیں۔

جب کہ آج بلوچستان میں ایک لاپتہ افراد بازیاب ہو جائے تو ہر کوئی یہی کہتا ہے کہ شکریہ اختر جان آپ کی وجہ سے آج کتنے ماؤں کے دل خوش ہیں۔ مگر کوئی یہ بات نہیں سوچتا کہ اگر ایک گھر خوش ہوتا ہے تو سو گھر برباد ہوتے ہیں۔ اگر ایک ماں کی دل خوش ہوتا ہے تو سو ماؤں کے دل خراب ہوتے ہیں۔

ماما قدیر اپنے ساتھیوں کے ساتھ 2009 سے اسی مسئلے کےلئے ایک پُرامن طریقے جدو جہد کر رہے ہیں۔ کیا ہم لوگوں نے اُن کی قربانیوں کو صرف اور صرف ایک سیاستدان کی دو باتوں کو سُن کر بھول گئے؟ نیلسن منڈیلا کہتے ہیں! لیڈر وہ ہوتا ہے جو آنے والے نسلوں کے لیے سوچتا ہے اور جبکہ سیاستدان آنے والے الیکشن کے لیے سوچتا ہے۔ جس کو آج ہم اپنا لیڈر سمجھتے ہیں، وہ ہمارے کل کے لیے ایک خطرناک عذاب بن کر آنے والے ہیں۔ مگر ہم اسکو تو خوشی خوشی گلے لگا رہے ہیں۔ جو آج آرمی ایکٹ ترمیم کو ووٹ دے سکتے ہیں اور کل کوئی اور ظالم ہمارے اوپر مسلط کرنے میں ایک قدم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

تو خدارا آج تھوڑا سوچیں اپنے کل کے لیے۔ ہم یہ باتیں بہت پہلے سے سُن رہے ہیں۔ ہمیں ابھی باتوں کی ضرورت نہیں ہے بلکہ سچ کو ساتھ دینے کی ضرورت ہے۔ لوگوں میں شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اُن کرداروں کو ساتھ دینے کی ضرورت ہے جو ہمارے کل کے لیے سوچتے ہیں،جو روشنی کی طرف قوم کو لے کر جارہے ہیں انکا ساتھ دینے کی ضرورت ہے۔ شکریہ اختر مینگل کو چھوڑیں کہ کل یہ ہمارے اوپر بھاری ہوگا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔