جنگی حکمتِ عملی | قسط 32 – میدانِ جنگ کی (9) خصوصیات

76

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ
جنگی حکمتِ عملی اور اُس کا تحقیقی جائزہ

مصنف: سَن زُو
ترجمہ: عابد میر | نظرِثانی: ننگر چنا
قسط 32 – میدانِ جنگ کی (9) خصوصیات

سپاہ کو جنگ میں استعمال کرنے سے قبل میدان کو درج ذیل اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے‘ اپنے ملک کے اندر طویل علاقے میں پھیلا ہوا میدان‘ سرحد کے قریب میدان‘ سامنے اور سادہ‘ کھلا ہوا اور آسان‘ تین اطراف سے جدا ممالک کی سرحدوں کے باعث مرکزی حیثیت کا حامل میدان‘ محنت طلب‘ خوفناک اور مشکل‘ چاروں اطراف سے گھرا ہوا اور خطرناک میدان۔

جب حکمران اپنی ملکی سرحدوں کے اندر لڑتا ہے تو وہ ایک کھلے میدان میں ہوتا ہے‘ جب وہ غیر ملک کی سرحدوں میں تھوڑا آگے تک جاتا ہے اور جنگ کرتا ہے تو ایسے میدان کو سرحد کے قریب میدان کہا جاتا ہے‘ جس میدان کو دونوں فریقین باآسانی گھیر سکتے ہیں اسے سامنے اور سادہ میدان کہتے ہیں‘ اگر کوئی میدان دونوں فریقین کی پہنچ میں ہوتا ہے تو اسے آسان اور کھلا ہوا میدان کہیں گے‘ جس ملک کے تینوں اطراف تین ممالک کی سرحدیں ہوں اسے ”مرکزی حیثیت کا حامل میدان“ کہا جائے گا‘ جو فریق اس میدان پر پہلے حملہ آور ہوگا وہ چاروں اطراف موجود ممالک کی مدد باآسانی حاصل کرسکے گا‘ جب فوج دشمن ملک کی حدود کے اندر بہت آگے نکل گئی ہو اور دشمن ملک کے چھوٹے بڑے شہروں کو پیچھے چھوڑ گئی ہو تو ایسے میدان کو ”محنت طلب میدان“ کہا جائے گا‘ جب فوج پہاڑ‘ جنگل‘ ڈھلوانی علاقے‘ اتھلے پانی والے علاقے‘ تنگ گھاٹیوں‘ دلدل اور پانی سے بھرے ہوئے علاقوں‘ یا ایسے علاقے جن سے گزرنا دشوار ہو‘ گزر جائے تو ایسے علاقوں کو مشکل اور کٹھن علاقے کہا جائے گا‘ جس علاقے تک رسائی محدود ہو‘ باہر نکلنے کا راستہ ٹیڑھا میڑھا ہو یا جہاں دشمن کی مختصر تعداد بڑی فوج کے خلاف باآسانی مزاحمت کرسکے تو ایسے میدان کو ”گھِرا ہوا“ کہا جاتا ہے‘ جس میدان میں فوج اپنے دفاع کیلئے جان جو کھم میں ڈال کر بہادری کے ساتھ لڑنے پر مجبور ہوتی ہے اسے خطرناک میدان کہتے ہیں‘ اس لئے آپ کیلئے ضروری ہے کہ کسی ملک میں کھلے ہوئے میدان میں جنگ نہ کریں اور سرحدی میدان پر کھڑے نہ رہیں۔

جب دشمن اہم اورآسان میدان پر پہلے قبضہ کرلے تو آپ اس سے جنگ کرنے کی کوشش نہ کریں‘ اگر آپ آسان اور کھلے ہوئے میدان میں ہیں تو آپ کی فوجی ترتیب ڈھیلی ڈھالی نہیں بلکہ گتھی ہوئی ہونی چاہئے‘ اگر ایسا کریں گے تو آپ کا رابطہ ختم ہوسکتا ہے‘ اگر آپ نے مرکزی میدان پر قبضہ کرلیا ہو تو پھر قریبی ممالک کے ساتھ اتحاد کی کوشش کریں‘ اگر آپ محنت طلب اور خوفناک میدان میں ہیں تو دشمن کی لوٹ مار کرتے ہوئے ایک جگہ جمع ہوجائیں‘ مشکل میدان پر ہوتے ہوئے نئی حکمت عملی سے متعلق سوچ بچار کریں‘ اگر آپ خوفناک میدان میں ہیں تو دل نہ ہاریں بلکہ دشمن سے بہادری کے ساتھ مقابلہ کریں۔

قدیم دور میں ماہر جرنیل کیلئے کہا جاتا تھا کہ وہ سپاہ کی ابتداء اور ہر اول دستے کو باہمی طور پر ملنے ہی نہیں دیتے تھے  کیونکہ ایسا ہونے سے ان کی بڑی ڈویژن‘ چھوٹے ڈویژن کی ہر اول (Fronts) کے ماہر جنگجو و اور عقبی حصہ (Rear) کے جنگجو‘ کم علم سپاہیوں‘ عسکری عملداروں اور عام عسکری سپاہیوں کی بہت زیادہ مدد کرسکتے تھے جو کہ جرنیل نہیں کرنے دیتے تھے‘ جب دشمن فوج منتشر ہوجاتی تھی تو اسے پھر ایک جگہ جمع ہونے سے روک دیتے تھے‘ اگر دشمن مل کر ایک ہو جاتے تھے تو انہیں پھر سے الگ الگ کردیتے تھے‘جب ضروری سمجھتے تھے تو صف بندی کرکے پیش قدمی کرتے تھے اور جب ضروری نہیں سمجھتے تو پڑاؤ ڈال کر آرام کرتے تھے‘ کوئی فرد یہ سوال بھی پوچھ سکتا ہے کہ ”اگر نظم و ضبط کی حامل کوئی طاقتور فوج حملہ کرے تو مجھے کیا کرنا چاہئے؟“ تو اس کے لئے میرا جواب یہ ہے کہ”جو چیز اس نے حاصل کرلی ہے اس سے وہ چیز چھین لو تو وہ تمہاری خواہش کا احترام کرے گا“ جنگ کا اصل جوہر تیز رفتاری ہے‘دشمن کی سستی سے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کریں‘ پیش قدمی ان راستوں پر کریں جو دشمن کے وہم وگمان میں بھی نہ ہوں‘ جن کیلئے اس نے قبل از وقت حفاظتی‘ خیال سے کوئی بندوبست نہ کیا ہو۔

حملہ آور فوج کیلئے اہم اصول یہ ہیں کہ جب آپ دشمن کی سرحدوں سے بہت زیادہ آگے نکل جائیں تو اپنی فوج کو متحد رکھیں‘ اس طرح دفاع کرنے والا ملک آپ پر غالب نہیں آسکے گا‘ سرسبز و شاداب علاقے کو لوٹ کر اپنی سپاہ کیلئے خوردونوش کا انتظام کریں‘ اپنی سپاہ کو اچھی خوراک دینے کی کوشش کریں انہیں غیر ضروری طور پر نہ تھکائیں‘ سب کے ایک طرح سے حوصلے بلند کریں‘ ان کی طاقت کو بچانے کی کوشش کریں‘ اپنی سپاہ کی نقل و حرکت سے متعلق ایسے منصوبے تشکیل دیں کہ دشمن کو ان سے متعلق کوئی علم نہ ہوسکے‘ آپ اپنی سپاہ کو ایسی اہم جگہ پر مورچہ زن ہونے کا حکم دیں کہ انہیں وہاں سے بھاگنے کی راہ نہ ملے اور خوفناک صورتحال کے باوجود وہ کہیں بھاگ نہ سکیں‘ اگر وہ مرنے مارنے کو تیار ہوں گے تو کیا چیز ہے جسے وہ حاصل نہ کرسکیں گے؟ اس صورتحال میں اہلکار اور عسکری سپاہی متحد ہو کر لڑیں گے اور کسی سے نہیں ڈریں گے‘ جب ان کے بھاگنے کے تمام راستے بند ہوں گے تو جان جوکھم میں ڈال کر سر دھڑکی بازی لگادیں گے۔

جب دشمن کی سرحدوں کے اندر بہت آگے نکل جائیں تو متحد رہنے کی کوشش کریں‘ تب اور کوئی راہ نہ پاکر دشمن کے ساتھ دست بدست لڑ کر دو دو ہاتھ کرنا چاہیں گے‘ ایسی صورتحال میں سپاہ کو خبردار کرنے یا کوئی حوصلہ دینے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

جرنیل ان سے کسی امداد کا تقاضا نہیں کرے گا لیکن پھر بھی وہ اسے مل جائے گی‘ ان سے پیار محبت کا تقاضا نہیں کرے گا لیکن پھر بھی فوج اس کے ساتھ بے انتہا محبت کرنا شروع کرے گی‘ وہ ان پر نظم وضبط قائم رکھنے کیلئے کوئی دباؤ نہیں ڈالے گا لیکن پھر بھی وہ خود ہی اپنے تئیں نظم وضبط قائم رکھنے کی بھر پور کوشش کریں گے۔

میرے عسکری عملداروں کے پاس کسی قسم کی دھن دولت نہیں ہے اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دھن سے نفرت کرتے ہیں‘ انہیں طویل العمری کی بھی کوئی خواہش نہیں ہے اس کا سبب یہ ہے کہ وہ طویل العمری سے دور بھاگتے ہیں‘ جس روز سپاہ کو باہر نکلنے کا حکم ملتا ہے تو اہل خانہ کی پلکیں نم ہوجاتی ہیں اور ان کے رخسار سے اشک‘ خشک نہیں ہوتے لیکن اگر آپ نے انہیں خطرناک صورتحال کی طرف دھکیل دیا تو وہ ”ژان ژو اور چاؤ کوئی“ جیسے بہادربن جائیں گے۔ (ژاں ژو اور چاؤ کوئی کیلئے کہا جاتا ہے کہ وہ بہار اور خزاں کے عہد سے تعلق رکھتے تھے‘ بے انتہا بہادر اور جنگجو تھے اور موت سے نہیں گھبراتے تھے)۔

جنگ کی عادی فوج چینگ پہاڑیوں کے سانپ کی طرح لڑتی ہے‘ جب اس سانپ کی گردن پر چوٹ لگائی جاتی ہے تو وہ اپنی دم کی طرف سے حملہ کرتا ہے اور جب اس کی دم پرچوٹ پڑتی ہے تو وہ منہ کی طرف سے حملہ کرتا ہے‘ کیا سپاہ میں بھی ہم آہنگی کے ذریعے ایسی خوبی پیدا کی جاسکتی ہے؟ اس کے لئے میرا جواب ہے کہ ہاں۔ سپاہ ایسا کرسکتی ہے گو کہ وو اور یوئی کے لوگ ایک دوسرے کے جانی دشمن ہیں‘ وہ ایک ہی کشتی کے سوار ہیں‘ کشتی اگر طوفان کی زد میں آکر ہچکولے کھانے لگی تو وہ اپنا سر بچانے کیلئے ایک دوسرے کی یوں مدد کریں گے جیسے بوقت ضرورت دایاں ہاتھ بائیں کی مدد کرتا ہے‘ فوجی سپاہیوں کو بھاگنے سے روکنے کیلئے ان کے گھوڑوں کو زیادہ خوراک دینا اور رتھ کے پہیوں کو زمین پر مضبوط کرنا لازمی نہیں ہے‘ بہادری کے ایک جیسے معیار کو قائم کرنے کیلئے ”بہتر فوجی انتظام“ کرنا ضروری ہے‘ اس کیلئے میدان کا صحیح استعمال بھی ضروری ہے‘ جہاں طاقتور اور کمزور فوج کو ایک جیسی سہولت مل جاتی ہے‘ جرنیل کی دانشمندی اس بات میں ہے کہ وہ بڑی فوج کی رہنمائی ایسے کرے جیسے کہ ایک اکیلے آدمی کا ہاتھ پکڑ کر اس کی کمان کررہا ہو۔

ایک بہتر جرنیل کا کام ہے کہ وہ پرسکون‘ بااخلاق‘ غیر جانبدار اور خود پر قابو رکھنے کے قابل ہو‘ اسے چاہئے کہ اپنا منصوبہ عملداروں اور فوجی سپاہیوں سے پوشیدہ رکھے کیونکہ وہ صورتحال کے مطابق اپنے طریقہ کار میں تبدیلی اور منصوبے میں رد وبدل کرسکتا ہے‘ اس لئے یہ ضروری ہے کہ کسی بھی آدمی کو یہ پتہ نہیں چلنا چاہئے کہ وہ کیا کررہا ہے۔
اپنا عسکری کیمپ بدلتے رہنا اور ناہموار راستے سے پیش قدمی کرنی چاہئے اس طرح سے بھی کسی کو اس کے مقاصد کا قبل از وقت اندازہ نہیں ہوسکے گا۔

دانشمند جرنیل کا یہ بھی کام ہے کہ جب سپاہ اوپر پہاڑی پر چڑھ جائے تو نیچے سے سیڑھی نکال لے کیونکہ وہ سپاہ کی قیادت کرتے ہوئے دشمن ملک میں بہت آگے چلاجاتا ہے اور وہاں پہنچ کر ٹریگر دبا دیتا ہے‘ وہ سپاہ کی کشتیوں کو جلادیتا ہے اور کھانا پکانے کے برتن توڑ دیتا ہے‘ تب اپنی سپاہ کو بھیڑوں کے ریوڑ کی طرح ادھر ادھر لے جاتا ہے اور کسی کو پتہ نہیں چلتا کہ جرنیل کہاں جانا چاہتا ہے‘ سپاہ کو ایک جگہ پر جمع کرکے اسے جوکھم کے مقام پر بھیج دینا بھی دانشمند کمانڈر کا کام ہوتا ہے۔

میدان کی 9 خوبیوں کو دیکھ کر اسے مختلف قسم کے اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں مختلف صورتحال کو دیکھ کر کبھی پیش قدمی کرتا ہے تو کبھی دفاع کرتا ہے‘ مختلف حالات میں فوجی سپاہیوں کی نفسیات کو سمجھنا بھی دانشمندجرنیل کے فرض میں شمار ہوتا ہے۔

عام طور پر جب دشمن ملک کے اندر بہت آگے تک حملہ کیا جاتا ہے تو سپاہ کو زیادہ متحد رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے‘ کم فاصلے کے حملے میں سپاہ منتشر رہتی ہے‘ اس لئے کھلے ہوئے میدان کی جنگ میں میری کوشش یہ ہوتی ہے کہ جیسے تمام سپاہ کا مقصد ایک ہی ہونا چاہئے‘ سرحد کے میدان میں‘ میں اپنی سپاہ کو ایک دوسرے کے ساتھ رکھنے کی کوشش کروں گا‘ اہم اور سادہ میدان میں‘ میں چاہوں گا کہ دشمن پر عقب سے حملہ کرنا چاہئے‘ آسان اور کھلے میدان میں‘ میں اپنی ساری توجہ دفاع پر دوں گا۔

مرکزی میدان میں ہوتے ہوئے میری کوشش ہوگی کہ قریبی حکمران کے ساتھ اتحاد قائم کروں‘ جب میں محنت طلب اور خوفناک میدان میں ہوں گا تو تیز رفتاری سے پیشقدمی کرتا ہوا راستوں سے دور نکل جاؤں گا‘ پھیلے ہوئے میدان میں‘ میں آنے والے اور باہر جانے والے اہم راستوں کو بند کردوں گا‘ جب میں خطرناک میدان میں ہوں گا تو میں یہ ظاہر کروں گا کہ اب نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے اس لئے کہ فوج گھیرے میں آجاتی ہے تو شدید مزاحمت کرتی ہے‘ جب بچنے کا کوئی راستہ نہ ہوگا تو وہ سرہتھیلی پر رکھ کر لڑتی ہے‘ جب فوج کی جان جوکھم میں ہوتی ہے تو وہ جرنیل کے احکامات کو سرآنکھوں پر رکھتی ہے۔
اپنے ہمسایہ ممالک کے منصوبوں سے لاعلم آدمی ان کے ساتھ اتحاد نہیں کرپائے گا پہاڑیوں‘ جنگلوں‘ اُتھلے پانی کے علاقوں‘ دلدلوں‘ تنگ گھاٹیوں سے ناواقف آدمی اپنی فوج کی رہنمائی نہیں کرسکے گا‘ جب مقامی قیادت کو استعمال نہیں کیا جاسکے گا تو اسے صحیح محل وقوع کا پتہ نہیں چل پائے گا‘ اگر جرنیل میدان کی 9 خوبیوں میں سے ایک سے بھی غیر واقف ہوگا تو اسے اہم اور غالب بادشاہ کی سپاہ کا کمانڈر ہونے کو ”نااہلی“ سمجھا جائے گا‘ اگر سب پر غالب بادشاہ کسی طاقتور حکمران پر حملہ آور ہوگا تو اپنے دشمن کی فوج کو صف بندی کی مہلت نہیں دے گا‘وہ دشمن کو اس قدر حواس باختہ کردیتا ہے کہ اس کے اتحادی بھی اس کی مدد نہیں کرسکتے ہیں۔

اس سے یہ معلوم ہوگا کہ بڑے حکمران کو طاقتور اتحادی کے ساتھ جنگ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے اور نہ ہی طاقتور ممالک کی حوصلہ افزائی کی کوئی ضرورت ہوتی ہے‘ وہ اپنے دشمنوں کو خوفزدہ کرکے ان کی ریاستوں کے شہروں پر قبضہ کرکے ان کے راج کو ڈانواں ڈول کرسکتا ہے‘ انعام بھی ملک میں موجود رسم ورواج اور روایت کو چھوڑ کر اپنے طریقے سے دیتا ہے‘ ایسے احکامات جاری کرتا ہے جن کی مثال پہلے موجود ہی نہیں ہے‘ اس طرح تم ساری فوج سے اکیلے آدمی کی طرح کام لے سکتے ہو‘ تم اپنی مرضی تھونپے بغیر سپاہ کو کھلا چھوڑ سکتے ہو کہ وہ جو چاہیں کریں‘ تم اپنے فائدے کیلئے انہیں آزاد چھوڑ سکتے ہو اور انہیں یہ بھی نہیں بتاؤ گے کہ انہیں کون سے خطرات درپیش آسکتے ہیں؟ انہیں نہایت خطرناک صورتحال میں پھینک دو‘ وہ خود ہی کو شش کرکے اس سے بچ نکلیں گے‘ تم انہیں جان جوکھم میں ڈالنے والے میدان میں چھوڑ دوگے تو پھر بھی وہ زندہ رہ پائیں گے‘ جب فوج کو اس خطرناک صورتحال میں چھوڑ دیا جائے گا تو اپنی قوت کے بل بوتے پر شکست کو بھی فتح میں بدل دے گی‘ جنگی سرگرمی کا کٹھن مرحلہ دشمن کے اداروں کا پتہ لگانا ہوتا ہے‘ اگر ایسا کوئی سراغ مل گیا تو تم دشمن کے خلا ف فوج کی صف بندی کرسکتے ہو‘ اس طرح اگر تم ہزار ”لی“ سے بھی لشکر لے کر حملہ آور ہوگے تو بھی اس ملک کے جرنیل کو قتل کر پاؤگے‘ اسے اپنی عقل و ذہانت سے اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل کرلینا کہا جاسکتا ہے۔

اس لئے جب منصوبے کے مطابق حملہ کرنے کا موقع ملے تو دروں پر جاکر قبضہ کرکے کھلے راستوں کو رد کردیں‘ دشمن کے ایلچی کے ساتھ مزید مذاکرات ختم کردیں اور مندر کی کونسل کو منصوبے پر عمل کرنے کیلئے ہدایات بھجوادیں‘ اگر دشمن خود آپ کو موقع دے تو اس سے تیز رفتاری سے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کریں‘ جنگ کا مقام مقرر کرنے سے پہلے اس جگہ پر قبضہ کرلیں جو دشمن کیلئے انتہائی اہم ہے‘ اپنے منصوبے پر عمل کرنے اور فتح حاصل کرنے کیلئے دشمن کی جنگی صورتحال کے مطابق تبدیلیاں بھی کی جاسکتی ہیں‘ اس لئے ابتداء میں آپ کو ایک کنواری لڑکی کی طرح بھی بننا پڑے گا‘ اگر دشمن تمہیں گزرنے کیلئے ہلکا سا راستہ بھی دے تو خرگوش کی طرح تیز رفتاری سے گزر جاؤ‘ پھر وہ کبھی بھی تمہیں روک نہیں پائیں گے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔