جنگی حکمتِ عملی | قسط 28 – دھوکہ اور حقیقت

63

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ
جنگی حکمتِ عملی اور اُس کا تحقیقی جائزہ

مصنف: سَن زُو
ترجمہ: عابد میر | نظرِثانی: ننگر چنا
قسط 28 – دھوکہ اور حقیقت

عام اصول یہ ہے کہ جوجرنیل پہلے آکر جنگی میدان کے پاس پڑاؤ ڈالتا اور وہاں بیٹھ کر دشمن کی آمد کا انتظار کرتا ہے اسے زیادہ جنگی سہولیات میسر آتی ہیں جو فوجی جرنیل دیر سے پہنچتا ہے وہ جلد بازی کرکے جنگ میں کود پڑتا ہے جبکہ دور سے آنے کے باعث وہ بہت تھکا ہارا ہوتا ہے جنگ کے ماہر دشمن کو شہہ دے کر جنگ کے میدان کی طرف آنے پر مجبور کرتے ہیں لیکن دشمن انہیں للچاکر جنگ کے میدان کی طرف آنے پر مجبور نہیں کرتا‘ جب کوئی کمانڈر اپنی پسند سے دشمن کو میدان کی طرف لاتا ہے تو دھوکہ کرکے یا لالچ دے کر اسے ایسا کرنے پر آمادہ کرتا ہے اور جب کوئی کمانڈر دشمن کو آگے بڑھنے سے روکتا ہے تو بھی اسے ایسا کرنے کیلئے دھوکہ یا لالچ کا ڈھونگ اختیار کرنا پڑتا ہے۔

جب دشمن کو سہولتیں میسر ہوں تو اسے تھکانے کے جتن کریں‘ جب اس کے پاس اشیائے خوردونوش وافر مقدار میں ہوں تو اسے (اسٹاک ختم کرکے) بھوکا مارنے کی کوشش کریں‘ اگر وہ ایک جگہ آرام سے بیٹھا ہے تو اسے پیش قدمی پہ مجبورکریں۔
ان مقامات پر حملہ کریں جنہیں بچانے میں وہ ناکام ہوجائے‘ تیز رفتاری سے پیش قدمی کرکے اس طرف پہنچیں‘ جس طرف دشمن کا وہم وگمان بھی نہ ہو۔

اگر آپ بناتھکے ایک ہزار ”لی“ سفر کرلیتے ہیں تو جان لینا چاہئے کہ آپ دشمن کی غیر موجودگی میں سفر کررہے ہیں‘ اگر آپ کو یہ یقین ہے کہ جس جگہ پر آپ حملہ کررہے ہیں اسے آپ باآسانی فتح کرلیں گے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دشمن کے پاس اس جگہ کو بچانے جتنی قوت نہیں ہے‘ اگر آپ کو یہ یقین ہے کہ جس مقام کو آپ بچانا چاہتے ہیں اسے کسی طرح سے بچالیں گے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دشمن کو اس مقام پر حملہ کرنے کی جرات ہی نہیں یا اس کے پاس حملہ کرنے جتنی قوت ہی نہیں ہے اس لئے جب حملہ کرنے کا ماہر جرنیل حملہ آور ہوتا ہے تو دشمن یہ سمجھ نہیں پاتا کہ کس مقام کو بچایا جائے اور کس پر حملہ کیا جائے؟!

جنگی ماہرجرنیل ایسے دھوکے اور فریب سے کھسک جاتا ہے کہ اپنے پیچھے کوئی نام و نشان نہیں چھوڑتا‘ ایسے خفیہ طریقے سے نکل جاتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ بھی نہیں سکتا کیونکہ اس کے دشمن میں مزاحمت کی قوت ہی نہیں ہوتی ہے‘ جب وہ تیز رفتاری سے پیچھے ہٹتا ہے تو دشمن اس تک پہنچ نہیں پاتا ہے۔

جب میں دشمن سے لڑنا چاہوں تو قلعے کی اونچی دیواروں اور چاروں اطراف گہری کھائی کے باوجود دشمن مجھ سے مقابلے کیلئے مجبور ہو‘ اس لئے کہ میں نے ایسی نازک جگہ پہ حملہ کیا ہے جسے وہ بچانے کی کوشش کرے گا لیکن جب میں لڑنا نہیں چاہتا تو زمین پر فقط ایک لکیر کھینچ کر خود کو بچاسکتا ہوں اور دشمن مجھ پر حملہ کرنے کے قابل ہی نہیں ہوپائے گا‘ اس لئے کہ جس جانب اس کی پیش قدمی کی مرضی تھی اس جانب سے میں نے اس کا رخ ہی موڑ دیا ہے۔

اگر میں نے دشمن کی ترتیب و تقسیم کا مکمل یقین کرلیا ہے اور اسی طرح میں دشمن کی نظروں سے خود کو بچانے میں بھی میں کامیاب ہوگیا ہوں تو پھر میں اپنی فوج کو ایک مقام پر اکٹھا کرکے دشمن کی فوج کو منتشر کرسکتا ہوں‘ اگر میں عسکری قوت کو ایک جگہ مجتمع کررہا ہوں اور دشمن منتشر ہورہا ہے تو پھر اس کے انتشار اور بدنظمی کا فائدہ اٹھا کر اس پر حملہ کردینا چاہئے‘ اس سے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ میری عسکری تعداد زیادہ ہوگی اگر میں کسی خاص درے پر زیادہ فوج پر کم فوج سے جاکر حملہ کردوں گا تو یہ تھوڑی سی فوج تنگ دروں میں جاکر پھنس جائے گی۔ دشمن کے فرشتوں کو بھی پتہ نہیں چلنا چاہئے کہ میں اس کے کس مقام پر حملہ کرنے والا ہوں‘ اگر اسے یہ پتہ نہیں چل سکا کہ میں کس مقام پر اس سے مقابلہ کرنا چاہتا ہوں تو وہ زیادہ مقامات پر عسکری تیاریاں کرے گا اگر وہ زیادہ مقامات پر عسکری تیاریاں کرے گا تو میں صرف چند مقامات پر لڑوں گا۔

اگر وہ فوج کے اگلے حصے کو مضبوط کرے گا تو پچھلا حصہ کمزور رہے گا اگر پچھلے حصے کو مستحکم بنائے گا تو اگلا حصہ کمزور ہوگا‘ اگر وہ دائیں حصے کو مضبوط کرے گا تو بایاں حصہ کمزور ہوگا‘ اگر وہ اپنی فوج کو ادھر ادھر بھیجے گا تو وہ ہر جگہ کمزور ہوگا۔

تعداد کے نقطہ نظر سے تبھی کمزور ہوا جاتا ہے جب امکانی حملوں کا ڈر ہوتا ہے اور فوج ادھر ادھر تقسیم ہوجاتی ہے‘ یوں دشمن کی تعداد اور قوت امکانی جنگ کے محاذوں پر ہی ختم ہوجاتی ہے۔

اگر دشمن کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ جنگ کب اور کہاں لڑی جائے گی تو وہ اپنی فوج لے کر ایک ہزار”لی“ سفر کرکے جنگ کے میدان میں آپہنچے گا لیکن اگر دشمن کو جنگ کے میدان اور وقت کا پتہ نہیں ہوگا تو اس کی فوج کا دایاں حصہ‘ بائیں حصے سے لاعلم ہوگا اور نہ ہی بایاں حصہ آگے بڑھ کر دائیں حصے کی مدد کرپائے گا‘ اسی طرح نہ ہی فوج کا اگلا حصہ‘ پچھلوں کی مدد کر سکے گا اور نہ ہی پیچھے والے مشکل وقت میں آگے والوں کیلئے مدد گار ثابت ہوں گے۔ فرض کریں میرا اندازہ ہے کہ ”یوئی“ کی فوج تعداد میں بہت زیادہ ہے‘ اگر جنگ کا نتیجہ اس کے خلاف ہے تو زیادہ فوج کا کیا فائدہ؟ اس لئے میں کہتا ہوں کہ فتح کے لئے کوشش انتہائی ضروری ہے‘ اگر دشمن کی فوج تعداد میں زیادہ ہے تو میں کم از کم اسے جنگ سے روک تو سکتا ہوں۔

دشمن کی منصوبہ بندی کا اچھی طرح تجزیہ کریں تاکہ آپ اس کے کمزور اور طاقتور نقاط کو جان پائیں‘ اس کی پیش قدمی کے انداز کو سمجھنے کیلئے اسے چھیڑنے کی کوشش کریں نیز اسے دھوکہ یا لالچ دے کر اس کے قائم کردہ مرکز سے باہر نکالنے کی کوشش کریں تاکہ آپ کو اس کی فوجی ترتیب‘ تقسیم اور محل وقوع کا سب پتہ چل جائے۔ اس کی بنیادی قوت اور کمزوری کا پتہ لگانے کیلئے اس پر چند آزمائشی حملے بھی کئے جائیں کسی فوج کی قطعی ترتیب وتقسیم کا مطلب اس فوج کی اصلی قوت کو چھپانا ہے‘ ایسا کرنے کے بعد دشمن کے جاسوس یا کسی ماہر کی منصوبہ بندی آپ کا بال بھی بیکا نہیں کرپائے گی‘ فتح کیلئے منصوبہ بندی بھی صورتحال کو مدنظر رکھ کر تیار کی جاتی ہے لیکن بہت سے لوگ ایسی باتوں کو سمجھ نہیں پاتے ہیں۔ ہر آدمی بظاہر نظر آنے والی چیزوں کو دیکھتا ہے لیکن یہ بات سمجھ نہیں پاتا کہ فتح کس طرح سے حاصل کی جاتی ہے‘ اس لئے فتح حاصل کرنے کے بعد اس کمانڈر کی جنگی چال کو دہرایا نہیں جاتا بلکہ ہر کمانڈر کو حالات کے مختلف پہلوؤں کا تجزیہ کرنا چاہئے۔

ایک فوج کو پانی کے بہاؤ کی طرح ہونا چاہئے جس طرح پانیزمین کی اونچی سطح کو چھوڑ کر نیچے آتا ہے اسی طرح فوج کو دشمن کے طاقتور حصوں کو چھوڑ کر کمزور مقامات پر حملہ کرنا چاہئے۔

جس طرح پانی زمین کی بالائی صورتحال کے مطابق اپنا بہاؤ اختیار کرتا ہے اسی طرح فتح حاصل کرنے کیلئے ایک فوج کو دشمن کی صورتحال کے مطابق تبدیلیاں کرنی چاہئیں اور یہ ایک فطری بات ہے‘ پانچ عناصر مثلاً آگ‘ پانی‘ دھات‘ لکڑی اور زمین میں سے کوئی بھی عنصر ہمیشہ غالب حیثیت نہیں رکھتا ہے‘ چار موسموں میں سے ہمیشہ ایک سا موسم نہیں رہتا‘ دنوں میں بھی کچھ چھوٹے تو کچھ بڑے ہوتے ہیں‘ چاند بھی کبھی سکڑتا تو کبھی پھیلتا رہتا ہے‘ عسکری ترتیب کیلئے بھی یہی اصول کارفرما ہوتا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔