جنگی حکمتِ عملی | آخری قسط – جاسوسوں کا استعمال

97

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ
جنگی حکمتِ عملی اور اُس کا تحقیقی جائزہ

مصنف: سَن زُو
ترجمہ: عابد میر | نظرِثانی: ننگر چنا
آخری قسط – جاسوسوں کا استعمال

جب ایک لاکھ فوج بھرتی کرکے کسی جنگی مہم کیلئے دور روانہ کی جائے گی تو حکمران اور افراد کا روزانہ کا خرچ ایک ہزار سونے کے سکے ہوجاتا ہے‘ اس کے علاوہ ملک میں اور ملک سے باہر ایک انتشار زدگی کا عالم ہوجاتا ہے‘ لوگ آمدورفت کے عذاب میں مبتلا ہوجاتے ہیں‘ اس کے ساتھ انہیں کاشتکاری کا کام بھی ختم کرنا پڑتا ہے‘ یوں سات لاکھ آدمی متاثر ہوتے ہیں۔ (قدیم عہد میں ایک خاندان آٹھ گھرانوں پر مشتمل ہوتا تھا جب ایک گھر سے ایک آدمی جنگ پر بھیجا جاتا تھا تو باقی سات گھرانے اس کی مدد کرتے تھے۔ اس طرح جب ایک لاکھ فوج محاذ پر بھیجی جاتی تھی تو یوں پیچھے رہ جانے والے سات لاکھ گھرانے اچھی طرح زراعت و کاشت نہیں کرسکتے تھے۔)

دشمن فریق‘ فیصلہ کن فتح کیلئے کئی برس آپس میں لڑتے رہتے تھے جو حکمران اپنے سامان میں دلچسپی اور دوچارسو نے کے سکے خرچ نہیں کرسکتا تھا اسے دشمن کی فوجی صورتحال کا پتہ نہیں چل پاتا تھا‘ ایسے حکمران کو نہ تو ملک کی کوئی فکر ہوتی ہے نہ ہی عوام سے کوئی تعلق ہوتا ہے‘ ایسا جرنیل نہ تو حکمران کا بہی خواہ ہوتا ہے اور نہ ہی ایسا حکمران کبھی جنگ میں فتح یاب ہوتا ہے اس لئے ذہین حکمران اور عقلمند جرنیل جس طرف جاتے ہیں فتح ہی فتح حاصل کرتے ہیں اس لئے کہ انہیں دشمن کی عسکری صورتحال کا پہلے سے ہی پتہ چل جاتا ہے‘ ایسا قبل از وقت پتہ انہیں جنوں‘ بھوتوں یا دیوتاؤں کے ذریعے نہیں چلتا ہے‘ نہ ہی گزشتہ واقعات یا علم نجوم کے ذریعے انہیں ایسی معلومات ملتی ہیں‘ انہیں یہ علم ایسے افراد کے ذریعے ہوتا ہے جو دشمن فوج کی صورتحال سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں۔

ایسے جاسوسوں کی پانچ اقسام ہیں جیسے کہ ملکی جاسوس‘ اندرونی جاسوس‘ دہرے کردار کے حامل جاسوس‘ افواہ پھیلانے والے جاسوس‘ اور بچ جانے والے جاسوس‘ جب جاسوسوں کی یہ پانچ اقسام اپنے کام میں لگی ہوتی ہیں اور ان کی کارکردگی پوشیدہ ہوتی ہے تو اس قسم کے مشترکہ کام کو ”ہنرمندی سے وابستہ فطری تانا بانا“ کہا جاتا ہے۔ ایسے جاسوس ملک کے حکمران کا نادر خزانہ ہوتے ہیں‘ ملکی یا دیسی جاسوس دشمن ملک سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں ہم مقرر کرکے ان سے کام لیتے ہیں‘اندرونی جاسوس دشمن ملک کے سرکاری اہلکاروں میں سے ہوتے ہیں جو ہمارا کام کرتے ہیں‘ دوہرے کردار کے حامل وہ جاسوس ہوتے ہیں جو اصل میں دشمن کے جاسوس ہوتے ہیں لیکن استعمال انہیں ہم کرتے ہیں‘ افواہیں پھیلانے والے جاسوسوں کا تعلق ہم سے ہوتا ہے جنہیں دشمن فوج میں افواہیں پھیلانے کیلئے مقرر کیا جاتا ہے‘ بچ جانے والے جاسوس‘ دشمن فوج سے خیروعافیت سے واپس آنے والے جاسوسوں کو کہا جاتا ہے۔

یہ تمام جاسوس کمانڈر کے انتہائی قریب ہوتے ہیں‘ ان سے زیادہ کمانڈر کے کوئی قریب نہیں جاتا ہے‘ جاسوسوں کو بہت زیادہ آزادی حاصل ہوتی ہے ان کی سرگرمیوں کو بہت زیادہ پوشیدہ رکھا جاتا ہے جو آدمی دانشمند‘ مخلص‘ صحیح انسان اور انصاف پسند نہیں ہوتا ہے اسے جاسوس مقرر نہیں کیا جاتا ہے‘ دشمن فوج سے صرف ذہین اور عیار آدمی ہی سچی خبریں حاصل کرسکتا ہے۔

وہ آدمی صحیح معنوں میں ذہین ہوناچاہئے جس جگہ جاسوسی ممکن نہ ہو تو نہیں کرنی چاہئے اگر جاسوسی سے متعلق تیار کردہ منصوبہ فاش ہوجائے گا اور جاسوسی سے متعلق تمام راز دشمن کو معلوم ہوجائے گا تو اس سے وابستہ جاسوس اور اس سے تعلق رکھنے والے افراد بھی قتل ہوجاتے ہیں۔

عام طور پر جن فوجوں پر آپ حملہ کرنا چاہتے ہیں‘ یا جن شہروں پہ کمک لے کر یلغار کرنا چاہتے ہیں یا جن افراد کو آپ قتل کرنا چاہتے ہیں تو پہلے قلعہ کے اندر مقیم فوج کے کمانڈر اور دوسرا عملہ‘ قیادت‘ قلعہ کے رکھوالوں اور ذاتی پہرہ داروں کے ناموں کا پتہ ہونا ضروری ہے‘ آپ اپنے جاسوسوں کو ہدایات دیں کہ وہ ملنے والی خبروں کی تصدیق اور صحیح احوال معلوم کریں‘ اہم بات یہ بھی ہے کہ آپ کی فوج میں دشمن کے جوجاسوس کام کررہے ہیں ان سے متعلق بھی آپ کو سچی اور کھری معلومات ہونی چاہئیں۔

انہیں رشوت کی پیشکش کرکے اپنی فوج کی جاسوسی کے کام سے لگائیں‘ انہیں ہدایات دیں اور ان کا بہت زیادہ خیال رکھیں۔ دوہرے جاسوسوں کے ذریعے ملکی یادیسی جاسوس اور اندرونی جاسوس مقررکئے اور کام پہ لگائے جاتے ہیں‘ ان جاسوسوں کی مدد سے افواہ پھیلانے والے جاسوس دشمن فوج کے پاس پہنچ جاتے ہیں‘ اس کے علاوہ بچ جانے والے سپاہی اپنا مقررہ کردہ کام کرکے دشمن کے ہاں سے خیر وسلامتی کے ساتھ واپس آجاتے ہیں۔

ملک کے حکمران کو ان پانچ قسم کے جاسوسوں سے باخبر ہونا چاہئے‘ سب سے اہم اور مرکزی بات دوہرے کردار کے حامل جاسوسوں سے کام لینے سے تعلق رکھتی ہے‘ اس لئے یہ ضروری ہوگا کہ انہیں اپنے فرض کی ادائیگی کیلئے مکمل آزادی ہونی چاہئے۔

قدیم عہد میں شئینگ گھرانے کا رتبہ اور کمال یے ژی (Yi zhi) کی وجہ سے تھا‘ اس نے ژیا(Xia) کی ماتحتی میں بھی کام کیا تھا۔ ژاؤ(یاچاؤ) گھرانے کاعروج وکمال بھی لویا(Luya) کی کوششوں کانتیجہ تھا‘جس نے (Yin) کے ماتحت رہ کر کام کیا تھا‘ اس لئے فقط دوراندیش حکمران اور دانشمند جرنیل جوذہین افراد کو جاسوسی کی غرض سے ملازم رکھتے اور انہیں صحیح استعمال کرسکتے ہیں‘ وہی کامیابیاں حاصل کرسکتے ہیں‘جنگ میں جاسوسی سرگرمیاں انتہائی اہم ہوتی ہیں‘ فوج کی ہر نقل و حرکت ان کی دی ہوئی اطلاعات کے مطابق ہوتی ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔