بلوچی زبان اور ہماری قومپرست پارٹیاں – غوث بہار بلوچ

58

بلوچی زبان اور ہماری قومپرست پارٹیاں

تحریر: غوث بہار بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

گذشتہ دنوں میرے ایک ایسے دوست جو ایک قوم پرست پارٹی کے عہدے دار بھی ہیں اور اپنی پارٹی کی اشاعتی مواد کو بلوچی زبان کے بجائے اردو زبان میں تشہیر کرنے کے حق میں ہیں نے بتایا کہ ابلاغیات کسے کہتے ہیں، حالانکہ کہیں سے بھی بات ابلاغیات یا Mass Communicationکی نہیں تھی، اس لئے میں سمجھ گیا کہ اس سوال سے وہ دراصل حاصل کیا کرنا چاہتے ہیں، اس سے پہلے بھی کئی بار میری اُن سے اسی موضوع پر بات رہی ہے۔ اس لئے میں نے ابلاغیات کے بجائے اسے سیدھا موضوع کی جانب لے آیا اور بلوچ قومی تاریخ اور قومی تحریک اور قومی سیاست سمیت سب میں بلوچی زبان کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ میں نے اُن کو بتایا کہ بشمول اُن کی پارٹی کے تمام بلوچ قوم پرست پارٹی اور تنظیموں کے آئین میں بلوچی زبان کو بلوچ قومی زبان تسلیم کرتے ہوئے اس کی ترقی اور ترویج کی بات کی گئی ہے، مگر عملاً ایسا کچھ نہیں ہے ۔ یہی وہ نکتہ تھا جس کا اُن کو انتظار تھا، انہوں نے فوراً اردو زبان کی پاکستان کے چاروں صوبوں(بشمول مقبوضہ بلوچستان ) میں اہمیت اور پڑھنے والوں کی کثیر تعداد کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں چونکہ Mass Communicationپر اردو زبان کی اجارہ داری ہے اسی لئے تمام پارٹیاں اور تنظیمیں اپنی تمامتر اشاعتی مواد کو اردو میں چھاپتی ہیں تاکہ پارٹی اور تنظیم کی تشہیر زیادہ سے زیادہ لوگوں میں ہو سکے۔ جب کل بلوچستان آزاد ہوگا تو بلوچی زبان کو قومی زبان تسلیم کرنے سے کوئی نہیں روک پائے گا۔

یہ خیال صرف میرے اس دوست اور اُن کی پارٹی کے قائدین کا نہیں ہے بلکہ سب پارلیمانی اور غیر پارلیمانی حتیٰ کہ بلوچ قومی آزادی کی تحریک کے حامل پارٹی اور تنظیموں کے قائدین کی بھی ہے۔ وہ دانستہ یا نادانستگی میں Mass communication کے نام پر اپنی قومی زبان بلوچی کو ثانوی حیثیت دے رہے ہیں جو کہ ہر حوالے سے ایک غلط حکمت عملی ہے۔ بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ وہ اپنی پارٹی پروگرام کو وسعت دینے کے بجائے اس کی پھیلاؤ میں مذید کمی لا رہے ہیں۔

اگر ہم بلوچ قوم پرست پارٹیوں اور تنظیموں کے کیڈران، کارکنان اور ممبران کو دیکھیں تو اُن میں ننانوے فیصد بلوچ ہیں۔ ننانوے فیصد اس لئے میں نے رقم کی ہے کہ چند پارلیمانی پارٹیوں میں کچھ ہمارے پختون بھائی بھی ہیں، جو اپنے بزرگوں کی روایات اور ہمدردیوں کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ جن میں بیشتر کاکڑؔ اور ترینؔ قبیلوں کے ہیں یا کچھ ہزارہ برادری کے شخصیات ہیں جنہوں نے اپنا مرنا جینا بلوچوں سے منسلک کر رکھا ہے لیکن یہ تعداد اس قدر نہیں ہے کہ اسے بہانہ بناکر اپنی قومی زبان کو ثانوی حیثیت دی جائے اور پھر یہ لوگ بھی کسی نہ کسی طرح بلوچی زبان سے واقفیت بھی رکھتے ہیں اور اپنی اپنی پارٹی آئین میں بلوچی زبان کو قومی زبان قرار دینے میں اُن کی آشیرواد اور فیصلہ بھی شامل ہے۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان کے کسی بھی دوسری قوموں میں بلوچستان کے قومپرست پارٹیوں کو کسی قسم کی پزیرائی نہیں ملی ہے حتیٰ کہ بلوچستان کے پختون بھائی بھی (کاکڑ اور ترین بھائیوں کے محدود حلقے کو چھوڑ کر)بلوچ قوم پرستی کی سیاست کے روادار نہیں ہیں وہ یا تو جمعیت علمائے اسلام میں ہیں یا پھر پختون قوم پرست پارٹی پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور اس کی اسٹوڈنٹس ونگ میں یا پھر عوامی نیشنل پارٹی کی سیاست کرتے ہیں،اسی طرح بلوچستان کے سٹلرز روزازل سے بلوچ قومی سیاست کے بجائے پنجاب کے مسلم لیگ کی سیاست کو اپنائے ہوئے ہیں۔

گو کہ اس وقت میں پارلیمانی ،غیرپارلیمانی اور بلوچ قومی آزادی کے حامل پارٹیوں اور تنظیموں سے مخاطب ہوں، مگر وہ پارٹیاں اور تنظیمیں جو خود کو بلوچستان کی قومی آزادی کے دعویدار سمجھتی ہیں، اُن سے زیادہ توقع کے ساتھ اظہار کر رہا ہوں ۔ اس سے پہلے میں نے اپنے ایک بلوچی مضمون میں بھی کچھ اسی طرح کا اظہار کیا تھا تب یہی بات سوشل میڈیا میں گردش کر رہی تھی۔ اصل میں ہماری پارٹی قائدین کو اس بات کی غلط فہمی ہوگئی ہے کہ بلوچی زبان کی دنیا سے اردو زبان کی دنیا زیادہ وسیع ہے۔ یہ بات بھی سچ ہے کہ پاکستان میں راویؔ بھی الٹی بہتی ہے، پنجابی زبان ایک بہت بڑی قومی اور تاریخی زبان ہے جو پاکستان اور ہندوستان میں کروڑوں کی تعداد میں بولی جاتی ہے اور دنیا کے بہت ساری دیگرممالک میں بھی بولی اور سمجھی جاتی ہے مگر وہ پاکستان میں ایک علاقائی زبان ہے اور اس کے مقابلے میں اردو زبان جو پنجابی زبان کے ایک چوتھائی کے برابر بھی نہیں ہے، وہ قومی زبان ہے، باقی قومی زبانوں کا بھی یہی صورت حال ہے مگر یہاں مسئلہ کچھ اور بھی ہے۔

آئیے ذرا کھل کر بات کرتے ہیں، بلوچ قومی آزادی کے حامل پارٹیاں اور تنظیمیں پاکستان کی ریاست کو اس نقشے کے تحت جس میں مقبوضہ بلوچستان شامل ہے نہیں مانتے اور پاکستان کو قابض ریاست سمجھتی ہیں اور اسی کے خلاف جدوجہد کر رہی ہیں، اسی طرح وہ اس ریاست کی پارلیمنٹ کو بھی نہیں مانتی ہیں، اس لئے کہ یہ پارلیمنٹ قابض ریاست کی پارلیمنٹ ہے، اس میں جس طرح کی بھی قانون سازی ہوگی وہ قبضہ گیریت کو مزید دوام بخشنے کے لئے ہوگی، اس لئے یہ پارٹیاں ریاست کی جمہوریت کو بھی نہیں مانتی ہیں، ان کا دعویٰ ہے اور بہت حد تک درست بھی ہے کہ یہاں جمہوریت برائے نام ہے ، وفاقی پارٹیوں کی حالیہ اکیسویں(21) آئینی ترمیم جس میں ریاست کی عدلیہ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کے مقابلے میں فوجی عدالتیں قائم کی گئی ہیں نے قوم پرستوں کے اس دعوے کو سچ ثابت کر دکھایا ہے۔ اسی طرح ظاہر بات ہے کہ وہ ریاست کی جب قانون ساز ادارے کو نہیں مانتے اسی طرح اس کی قانون اور قانون کے محافظوں کو بھی نہیں مانتے۔ اور یقیناً اس ریاست کی عدلیہ بھی تو ریاست کی عدلیہ ہے، یقیناً اس کی ہمدردیاں اپنی ریاست کے ساتھ ہوں گی جس طرح کہ انہوں نے زبردستی اغواء شدگاں (جنہیں’’ لاپتہ افراد‘‘ کے غیر منطقی اصطلاح سے یاد کیا جاتا ہے) بلوچ سیاسی و سماجی کارکنوں کے مسئلے اور مقدمات میں کر دکھایا ہے اس لئے اس ریاست کے عدلیہ کو بھی ماننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اسی طرح رہ جاتی ہے، ریاستی پریس اور الیکٹرانک میڈیا تو اس ابلاغ عامہ یا ابلاغ خاصہ نے بلوچ مسئلے میں چپ سادھ لے کر اپنی جانبداری کو دنیا کے سامنے طشت از بام کیا ہواہے اس لئے بلوچ قومی پارٹیاں اس کو بھی نہیں مانتی ہیں، یعنی ہماری یہ پارٹیاں اور تنظیمیں اس ریاست کی پانچوں ستون میں سے کسی ایک کو بھی نہیں مانتی ہیں، تب حیرانگی کی بات یہیں آکر ہمیں اپنی اتھاہ گھرائیوں میں ڈبو دیتی ہے کہ اردو زبان جو اس ریاست کی قومی زبان بھی ہے، سرکاری زبان بھی ہے اور پاکستان کے دیگر تمام تاریخی قومی زبانوں کی ترقی اور ترویج کا راستہ بھی بند کئے ہوئے ہے اس کی اشاعت اور ترقی و ترویج پر کمر بستہ کیوں ہیں؟ میں دنیا کے کسی بھی زبان کی مخالفت نہیں کرتا اورنہ ہی اس طرح کی بیہودہ سوچ پر میرا ایمان ہے بلکہ میں کسی بھی زبان کو آنکھ سے تشبیہ دیتا ہوں آپ جس قدر زبانیں سیکھیں ،بولیں ،لکھیں اسی قدر آپ کی سوجھ بوجھ کی بینائی بڑھتی ہے مگر میں نے ایک کالم پڑھا تھا جس کا عنوان تھا’’اردو زبان و ادب کی ترقی اور ذخیرہ الفاظ میں پاکستانی زبانوں کا کردار‘‘ اس مضمون یا کالم کے لکھنے والے کانام لکھنے سے رہ گیا اس لئے یاد نہیں کہ وہ کون صاحب تھے مگر وہ لکھتے ہیں کہ’’۔۔۔۔میں انگریزی کے زبردست حامیوں میں سے ہوں لیکن اس کے ساتھ ساتھ حفظ مراتب کا بھی قائل ہوں۔ میں اپنی ماؤں،ماسیوں کے ہوتے ہوئے کسی اور کو ’’آنٹی‘‘ بنانے کے لئے تیار نہیں ہوں، میرے پاس اپنا گھر ہے اپنا خاندان ہے،اپنا پروار ہے، میں اس کے ساتھ رہ کر ترقی کر سکتا ہوں اور اس کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہوں۔۔۔‘‘۔

یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے بنگلہ دیش کی آزادی کی تحریک شروع ہوئی تھی جب پاکستانی قائدین نے اردو کو پاکستان کا قومی زبان قرار دیا تھا اور بنگالیوں کو قطعاً یہ بات گوارہ نہیں ہوئی کہ وہ اپنی قومی زبان کی جگہ کسی دوسری زبان کو اپنا قومی زبان جان لیں، انہوں نے اسی زیادتی کے خلاف تحریک شروع کی اور یہی تحریک بنگلہ دیش کی پاکستان سے علیحٰدگی پر منتج ہوئی ۔ اس لئے اردوزبان مجھے جس قدر بھی پیاری ہو میں اسے اپنی قومی زبان بلوچی کی ترقی اور ترویج کی راہ میں حائل ہونے نہیں دے سکتا۔ ہماری پارٹیوں اور تنظیموں کی یہ عمل بلوچی زبان کے آگے حائل رکاوٹوں میں مذید اضافہ کرنے کے مترادف ہے۔

یہاں پر میں ایک مثال دے دیتا ہوں یہ1972 کا واقعہ ہے جب بنگلہ دیش بننے کے بعد مغربی پاکستان کو پورا پاکستان تسلیم کیا گیا، مگر اس نئے پاکستان میں کوئی از سرنو انتخابات نہیں کرائے گئے بلکہ پرانے پاکستان کے1970 والی انتخابات میں کامیاب ہونے والی پارٹیوں کے ساتھ گزاراکرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس طرح پیپلز پارٹی کو وفاق میں مسند اقتدار پر بٹھایا گیا اور بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام کو حکومت بنانے دی گئی، اس طرح وزیر اعلیٰ کی کرسی سردار عطاء اللہ خان مینگل صاحب کے حصے میں اور گورنر شپ کی کرسی جناب میر غوث بخش بزنجو (اللہ جنہیں اپنی جوار رحمت میں جگہ دے) مرحوم کے حصے میں آئی۔ اُن دنوں بلوچستان میں شامل پختون قوم کی سیاسی قوت کا بلوچ قوم کے ساتھ اس قدر تعصب اور معایدانہ کا رویہ نہیں تھا اور نہ ہی وہ بلوچی زبان کی مخالفت اور بلوچستان کے حصے بخرے کے درپے تھے۔ اس لئے جب سردار عطاء اللہ خان مینگل صاحب نے بلوچی زبان کو بلوچستان کی سرکاری زبان ہونے کا اعلان کیا تو سبھی لوگوں اور پارٹیوں نے اسے خوش آمدید کہا۔ لیکن جب بلوچی زبان میں سرکاری اور دفتری کارروائیوں کی نوبت آئی اور بیوروکریسی کی زبان اور اس کی بنائی ہوئی اصطلاحات استعمال کرنے کی باری آئی تو بلوچی زبان ایک سرکاری زبان کی حیثیت سے اپنی فرائض نبھانے میں ناکام رہی، اس لئے کہ اس سے پہلے بلوچی زبان کو نہ ایسی کوئی حیثیت ملی تھی اور نہ ہی اس کو ایسے دنوں کے لئے تیار رکھا گیا تھا اور تو اور بلوچی زبان کو لکھنے والی اسکرپٹ پر بھی یار لوگوں کا اتفاق نہ ہو سکا ایک گروہ چاہتا تھا کہ بلوچی زبان کو رومن اسکرپٹ میں لکھا جائے تو دوسری گروہ اسے عربی اسکرپٹ میں لکھنے کے حق میں تھا اور پھر دونوں ملاؤں میں مرغی حرام ہوگئی اور بلوچستان حکومت نے اردو زبان کو بلوچستان کی سرکاری زبان بنانے کا اعلان کرکے نوٹیفیکیشن جاری کردیا اور ہماری اسی کمزوری کا خمیازہ آج تک بلوچی زبان بھگت رہی ہے۔

اِس وقت ایک بار پھر ہماری پارٹیاں اور تنظیمیں بلوچی زبان کے بجائے اردو زبان کو اپنی اشاعتی مواد کے لئے استعمال کر رہی ہیں، جس سے ایک تو بلوچی زبان کے بدلے اردو زبان بلوچ قوم میں جگہ پاتی جا رہی ہے، جو اس کا کسی بھی طرح حق نہیں ہے، دوسری طرف بلوچی زبان ایک بار پھر اس سائنسی دور میں نئی نئی اصطلاحات، نئے نئے الفاظ کی درآمدگی اور برآمدگی سے یکسر محروم ہو کر رہ رہی ہے اور بقول بلوچی زبان کے وہ ’’اوشت‘‘ کا شکارہوکر رہ گئی ہے، اس لئے کہ زندہ قومیں اپنی زبان کو اپنے ساتھ لے کر چلتی ہیں اور اپنی زبان سے پیار کرتی ہیں، اس لئے کہ زبان ہی قومی یکجہتی کی ضامن ہوتی ہے مگر ہمارے قائدین صاحباں اپنی قومی زبان کو پیچھے چھوڑ کسی دوسری زبان کو اپنے ساتھ لئے گھوم رہے ہیں ۔ جس کی وجہ سے بلوچی زبان بلوچ دنیا میں بھی ناآشنا ہوتی جا رہی ہے اس لئے کہ اس کی جگہ پر ایک دوسری زبان انہیں لکھنے پڑھنے کو دی جا رہی ہے۔ جب کسی زبان کو نشر و اشاعت کے لئے استعمال نہیں کیا جاتا ہے اس میں نئی نئی اصطلاحات بنانے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے، اس میں نئی نئی سائنسی، سیاسی اور زندگی سے متعلق دیگر اظہارکے لئے نئے نئے الفاظ لانے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی ہے اور اس طرح زبان اپنی بولنے والوں کی ضروریات کو بھی پوری کرنے سے قاصر رہ جاتی ہے۔ اب اس سے ایک یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کل بلوچستان آزادہو جائے ظاہر بات ہے کہ بلوچی زبان 1972 میں ایک صوبے کی زبان کی اہلیت نہیں رکھ پائی تھی اس وقت ایک ملک کو چلانے کی اہلیت کہاں سے پائے گی ۔ کیوںکہ اس وقت بلوچی زبان صرف اور صرف ادب میں ترقی کر رہی ہے اور وہ بھی غریب اور نادار ادیبوں ،شاعروں،افسانہ نگاروں ،ڈرامہ نویسوں اور اسٹیج کرنے والوں اور فلم نویسوں اور فلم بنانے والوں کی توسط سے، سیاست اور ریاست کی توسط سے نہیں۔ سیاسی اصطلاحات اور سیاسی الفاظ تو اس میں کوئی نہیں بن رہی ہے، کوئی نہیں آ رہی ہے اور کسی ملک کو چلانے کے لئے ادبی نہیں سیاسی الفاظ اور سیاسی اصطلاحات کی ضرورت پڑتی ہے تو کیا اُس وقت بھی بلوچی زبان کے بجائے اردو زبان کو بلوچستان کا قومی اور سرکاری زبان بنایا جائے گا؟

دوسری طرف ہماری سیاسی پارٹیوں اور تنظیموں کو جس طرح اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ یہی غلط فہمی ہے کہ وہ اپنی اشاعتی مواد یعنی ترجمان، بروشرز، سیاسی جرائد اور رسالے اردو میں اس لئے چھاپتی ہیں کہ اردو زبان کی دنیا بلوچی زبان کی دنیا سے زیادہ وسیع ہے جس سے اُن کی پارٹی یا تنظیم کو زیادہ وسیع تر انداز میں پذیرائی ملے گی۔ مگر حقیقت میں نتیجہ اس کے برعکس ہے۔ اس لئے کہ تمام بلوچ سیاسی(قوم پرست اور آزادی پسند )پارٹیوں اور تنظیموں کی ممبر شپ بلوچ قوم کے فرزندوں کے پاس ہے، وہ خواہ بلوچستان میں ہوں کہ سندھ اور پنجاب کے بلوچ علاقوں میں۔ اور ان کی اشاعت کردہ مواد کو بھی یہی پارٹی کے کارکناں ہی پڑھتے ہیں، جس کی وہ ممبر ہیں ، اسی طرح بلوچ قومی آزادی کے حامل پارٹیوں اور تنظیموں کی بھی ہمدردیاں صرف اور صرف بلوچ عوام کے پاس ہے، پنجابی قوم کے لوگوں کو بلوچستان کی قومی آزادی کی جدوجہد اور اس کی پارٹی اور تنظیموں کے پروگرام سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، اسی طرح پختونستان کے لوگوں کو بھی بلوچ قومی تحریک آزادی سے کوئی سروکار نہیں ہے ، بعینہہ سندھ کے سندھی قوم پرستوں کے علاوہ دوسرے کسی سندھی بھائی کو بھی بلوچ قومی تحریک سے کوئی ربط نہیں اور نہ ہی سندھ کے مہاجروں(اردو بولنے والے) کو بلوچستان کے اس قومی تحریک سے کوئی وابستگی ہے ۔ اس لئے سوائے بلوچ قوم کے فرزندوں کے اِن پارٹیوں اور تنظیموں کے اِن اشاعتی مواد کو ماسوائے چندے دیگر قوم کے لوگوں کے کوئی نہیں پڑتا ہے اور یہ دوسری قوم کے لوگ جو زیادہ سے زیادہ دوفیصد ہوں گے۔ بلوچ جیسا بھی ہو وہ بلوچی زبان میں لکھی ہوئی مواد کو پڑھ سکتا ہے، اس لئے کہ ایک تو یہ مواد اس کی اپنی زبان میں ہوتی ہے کہیں ایک آدھ جگہ پڑھنے میں غلطی کربھی جائے تو اسے فوراً احساس ہوجاتا ہے اور اس کو درست کرلیتا ہے دوسری طرف سے بلوچی جس اسکرپٹ میں لکھی ہوتی ہے اردو بھی اسی اسکرپٹ میں لکھی جاتی ہے کوئی یہ کہے کہ اسے اردو پڑھنا آتا ہے اور بلوچی پڑھنا نہیں آتا تو یہ بقول فارسی کے’’خوی بد را بھانہ بسیار‘‘ والی بات ہوتی ہے۔اس لئے کوئی پارٹی یا تنظیم دو فیصد لوگوں کے لئے اپنی قومی زبان کی اہمیت کو گھٹا دے یہ کوئی سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے۔

دوسری طرف بلوچستان صرف یہی نہیں ہے، جو پاکستان کا مقبوضہ ہے بلکہ کوئی چوبیس لاکھ بلوچ ایران میں بھی موجود ہے جن میں شاز ہی کوئی سو دوسو کے قریب لوگ جو یاتو بیماری کی غرض سے یا پھر تبلیغ کے لئے پاکستان آئے ہوں اور ٹوٹی پھوٹی اردو سیکھ چکے ہوں تو ہوں مگر دیگر کوئی بلوچ کو اردو زبان پڑھنا لکھنا نہیں آتاہے، وہ یا تو فارسی زبان پڑھ لکھتے ہیں یا پھر بلوچی زبان۔ اور یہ جو پارٹیاں اور تنظیمیں جو تشہیر کے لئے اپنی اشاعتی مواد کو اردو میں چھاپتی ہیں توا س کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ وہ ایران کے چوبیس لاکھ بلوچوں کو یکسر مسترد کر دیتے ہیں جہاں قومی شعور دینا از بس ضروری ہے۔ اس کے علاوہ عرب ممالک اور افغانستان میں بھی بڑی تعداد میں بلوچ بستے ہیں جو اردو کے بجائے بلوچی زبان میں لکھنا پڑھنا بہتر انداز میں جانتے ہیں اور ان میں اچھے اچھے ادیب شاعر اور دانشور حضرات بھی ہیں۔ ہاں اگر مغربی ممالک میں ایسی کوئی مواد چھاپنی ہو تو بیشک انگریزی یا اس ملک کی اپنی زبان میں چھاپی جا سکتی ہے۔

میرے خیال میں یہ بات ہمارے قوم پرست پارٹیوں اور تنظیموں کے قائدین کے علم میں ضرورہے کہ ریاست پاکستان کی قومی اسمبلی کے قائمہ کمیٹی برائے قومی زبان جس کی سربراہی محترمہ ماروی میمن کر رہی ہیں ، جنہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں بتائی تھی کہ’’۔۔۔۔ماھرین لسانیات سے ہونے والے تبادلہ خیالات کے بعد اب تک وہ کم از کم سات ایسی زبانوں کے بارے میں سمجھ سکی ہیں کہ انہیں قومی زبان کا درجہ ملنا چاہیے۔ ان میں شنا، کشمیری، پہاڑی، پشتو، سرائیکی، سندھی اور پنجابی شامل ہیں۔۔۔۔۔‘‘۔ویسے بھی ماھرین لسانیات کے مطابق اگلے پچاس سالوں میں سینکڑوں زبانیں معدوم ہو جائیں گی جس میں پاکستان کے پچاس زبانوں میں سے کئی زبانیں ان معدوم ہونے والی زبانوں کی فہرست میں شامل ہیں اور یقیناً ہم یہ بات سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ ماروی میمن صاحبہ اور ان کی وضع کردہ ماھر لسانیات لوگوں کے فیصلے کے مطابق بلوچی زبان کو اس ریاست کی قومی زبان کا درجہ دینے کا فیصلہ نہیں ہونے والی ہے، جس سے یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں کہ اس ریاست کی مقتدرہ نے بلوچ قوم کی طرح اس کی زبان کو بھی معدوم ہونے والی زبانوں میں شامل کرلیا ہے یا اُن کی کوشش ہوگی کہ بلوچی زبان بھی اسی فہرست میں شامل ہوجائے اب اس فیصلے کوچیلنج سمجھ کر بلوچ قومی پارٹیاں اور تنظیمیں ہی باھم مل کر اپنی قومی زبان کو ان کی دست برد سے بچا سکے گی۔ اگر ہم خود یوں ہی دوسروں کی زبانوں پہ تکیہ کرتے رہے اور اپنی قومی زبان کو ثانوی حیثیت دیتے رہے توبہت جلد نہ رہی گی بانس نہ بجے گی بانسری والا مسئلہ ہوجائے گا۔

اس لئے میری تمام قوم پرست پارٹیوں اور تنظیموں سے دست بستہ گزارش ہے کہ وہ اپنی پارٹی اشاعتی مواد کو اردو کے بجائے بلوچی زبان میں چھاپ لیں اس میں نئے نئے الفاظ اور نئی نئی اصطلاحات جو یقیناً سائنسی اور سیاسی ہوں گے بننے اور آنے دیں تاکہ وہ کل کے لئے تیار ہو سکے۔منتوار۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔