بلوچستان یونیورسٹی شدید مالی بحران کا شکار ہے- لشکری رئیسانی

44

 بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان یونیورسٹی شدید مالی بحران کی زد میں ہے۔صوبائی حکومت اپنی نااہلی کے باعث اس جانب توجہ نہیں دے رہی ہے۔

 بی این پی رہنماء  نے کہا کہ 2020ء بلوچستان میں تعلیم، علم اور کتاب کا سال ہونا چائیے تاکہ بلوچستان کے لوگ علمی ادبی اور فکری بنیادوں پر صوبے کی پسماندگی کا خاتمہ کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ بار بار ہمیں بتایا جاتا ہے کہ سی پیک منصوبہ بلوچستان کی تعمیر و ترقی میں اہم کرار ادا کریگی تاہم زمینی حقائق یہ ہیں کہ اس وقت بلوچستان کے واحد اعلیٰ علمی درسگاہ بلوچستان یونیورسٹی تاریخ کے بدترین مالی بحران سے دوچار ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی کو درپیش مالی بحران اس سرزمین کے لوگوں کیخلاف گہری سازش ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ کا المیہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ملک میں ہونے والے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کامعور گوادر کو قرار دیا جارہا ہے صوبے کی سب سے بڑی علمی درسگاہ مالی بحران کی زد میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ حسب روایت اور تاریخ بلوچستان کے لوگوں کیساتھ دھوکہ کرکے انہیں ترقی کا جھانسہ دیا جارہاہے سی پیک کے ثمرات اس وقت بلوچستان کے لوگوں تک پہنچیں گے جب صوبے کے لوگ فنی تعلیم حاصل اور تعلیمی ادارے مالی طور پر مستحکم ہوکر ریسرچ اور تحقیق پر کام کرکے صوبے کو درپیش بحرانوں اور مسائل سے نکالنے کی راہ تلاش کرینگے۔

انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت بلوچستان سے تعلیمی پسماندگی کے خاتمے کیلئے بلوچستان یونیورسٹی کو مالی بحران سے نکال کر ادارے کو خصوصی گرانٹ فراہم کرے۔