آخری لاپتہ شخص کے رہائی تک احتجاج کرینگے –  ماما قدیر بلوچ

285

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر نے کراچی پریس کلب میں طلبا اور صحافیوں سے ملاقات کرکے لاپتہ افراد کے بازیابی کے لیے احتجاجی کیمپ لگانے کے حوالے سے گفتگو کیا جبکہ اس موقعے پر جبری گمشدگی کے متاثرہ حانی گل بلوچ بھی ماما قدیر کے ہمراہ تھے۔

ماما قدیر بلوچ نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ کچھ روز بعد بلوچ لاپتہ افراد کے لیے کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ قائم کررہے ہیں لہٰذا میں سیاسی و سماجی حلقوں سمیت طلبا و دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ احتجاج میں ہمارا ساتھ دے۔

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ آخری لاپتہ شخص کے رہائی تک ہم اپنا احتجاج جاری رکھینگے۔

دریں اثنا ماما قدیر بلوچ اور حانی گل نے گذشتہ دنوں ٹریفک حادثے میں زخمی ہونے والے نمرہ پرکانی اور دیگر افراد کے عیادت کیلئے ہسپتال گئے جہاں بی این پی کے رہنماء نذیر احمد بلوچ، این پی کے رہنماء سعداللہ بلوچ، ملک نصیر شاہوانی، بی ایس او کے سیکرٹری جنرل منیر جالب بلوچ، چئیرمین جاوید بلوچ و دیگر موجود تھے۔

خیال رہے نمرہ پرکانی ایک سوشل ایکٹوسٹ ہے جبکہ ٹریفک حادثے میں ان کے والد درجان پرکانی جانبحق ہوئے تھے جو بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما، بلوچستان یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر و معروف ٹی وی آرٹسٹ تھے۔