گیارہ سال سے اپنے پیاروں کے منتظر ہیں – لواحقین لاپتہ کبیر بلوچ

81

لاپتہ کبیر بلوچ کے لواحقین نے انسانی حقوق کی عالمی دن کے موقعے پر اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ آج دنیا بھر میں تمام سیاسی و سماجی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں انسانی حقوق کا عالمی دن منا رہے ہیں اس دن کو منانے کا مقصد انسانی آزادی، حقوق اور ان کو اپنے مرضی سے جینے کا حق دینے اور آزادی اظہار رائے کو یقینی بنانے کے لئے شعور اجاگر کیے جانا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی تمام آزادیوں کو سلب کیا گیا ہے یہاں انسان کسی بھی طرح سے آزاد نہیں ان کے سیاسی، سماجی، معاشی و معاشرتی، تعلیمی حقوق اور تحریر و تقریر کی آزادی کو بھی چھین لیا گیا ہے، یہاں کسی بھی قسم کی حقوق لوگوں کو حاصل نہیں، آزادی اور حقوق کے لئے آواز اٹھانا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ ہزاروں انسان لاپتہ ہے جن میں ہمارے لخت جگر کبیر بلوچ اور ان کے ساتھی مشتاق بلوچ و عطاء اللہ بلوچ شامل ہے۔ ان کو 27 مارچ 2009 کو خضدار سے لاپتہ کیا گیا 11 سال کا طویل عرصہ مکمل ہورہا ہے لیکن وہ تاحال لاپتہ ہے ان کے حوالے سے کسی قسم کی معلومات نہیں مل سکی ہے کہ وہ زندہ ہے یا ان کو مار دیا گیا ہے۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ ضلع خضدار کے علاقے توتک سے اجتماعی قبریں دریافت ہوئے تھے لیکن اس حوالے سے تحقیقات و لاشوں کی برآمدگی و ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کے بجائے ان قبروں کو دوبارہ بند کرکے ذمہ داروں کو بچانے کے لئے تفتیش و تحقیقات کا سلسلہ روک دیا گیا، آج ہزاروں خاندان اپنے پیاروں کے لئے منتظر ہے لیکن  ان کی کوئی شنوائی نہیں  ہورہی، توتک سے دریافت ہونے والے اجتماعی قبروں کی دوبارہ قبر کشائی کرکے وہاں دفن کیے گئے لاشوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جائے اور اصل حقائق و ذمہ داروں کو منظر عام پر لاکر لاپتہ نوجوانوں کے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں توتک اجتماعی قبروں کی حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے ایک فیکٹ فائنڈنگ ٹیم علاقے میں بھیج دیں تاکہ اصل حقائق منظر عام پر آسکیں۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ کبیر بلوچ سمیت دیگر لاپتہ نوجوانوں کے متعلق ان کے خاندانوں کو آگاہ کیا جائے اگر وہ زندہ ہے تو ان کو منظر عام پر لایا جائے اگر ان کو شہید کیا گیا ہے تو بھی خاندانوں کو آگاہ کریں انہیں مزید اذیت سے دوچار نہیں کیا جائے۔