کوئٹہ: انسانی حقوق کے کارکن راشد حسین سمیت دیگر لاپتہ افراد کیلئے احتجاج

95

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں انسانی حقوق کے کارکن راشد حسین بلوچ سمیت دیگر بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

مظاہرہ لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے کی گئی جبکہ مظاہرے کی قیادت وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ اور بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی چیئرپرسن بی بی گل بلوچ کررہی تھی۔

مظاہرین نے لاپتہ افراد کے تصاویر اٹھا رکھی تھی جبکہ متحدہ عرب امارات اور پاکستان حکومت کے بلوچ دشمن پالیسیوں کیخلاف نعرے لگائے جارہے تھے۔ اس موقعے پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی لواحقین سے اظہار یکجہتی کرنے کیلئے احتجاج میں شرکت کی۔

لاپتہ انسانی حقوق کے کارکن راشد حسین کے لواحقین نے مظاہرے میں ان کی جبری گمشدگی کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ راشد حسین بلوچ کو گذشتہ سال 26 دسمبر 2018 کو متحدہ عرب امارات شارجہ سے گرفتار کیا گیا اور مسلسل چھ ماہ تک اس کو لاپتہ رکھا گیا اور اس دوران ان کے حوالے سے نہ کوئی معلومات فراہم کی گئی اور نہ ہی انہیں کسی عدالتی فورم پر لایا گیا چونکہ وہ کسی بھی غیر قانونی عمل میں ملوث نہیں تھا تو اس دوران اماراتی حکمران بار بار اس بات کا اقرار کرتے رہے کہ وہ ہمیں کسی بھی مقدمہ میں مطلوب ہے اور نہ ہی وہ اماراتی قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں حتیٰ کہ 22 جون کو جب وہ راشد حسین کو اپنے ملک سے غیر قانونی طور پر ڈی پورٹ کر کے رات کے اندھیرے میں جب یہاں پاکستان کے اداروں کے حوالے کرتے ہیں تو ان دستاویزات میں بھی یہ بات باقاعدہ عیاں ہے کہ راشد حسین پر اماراتی قانون کا کوئی چارج نہیں ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 22 جون 2019 کو غیر قانونی طور پر بغیر سفری دستاویزات کے راشد حسین کے تمام انسانی حقوق کو سلب کرکے خفیہ طور پر پاکستان کے خفیہ اداروں کے حوالے کرکے عالمی انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی کی گئی جس کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں جس کے خلاف آج کے متحدہ عرب امارات کے 48 ویں یوم آزادی کے دن جب وہ اپنی آزادی کا جشن منارہے تو ہم احتجاج کے ذریعے انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ انہوں نے غیر قانونی عمل کا مرتکب ہوکر راشد حسین کو موت کے منی میں دھکیل دیا ہے جبکہ اس کی تمام تر ذمہ داری متحدہ عرب امارات کے حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

مظاہرے میں آواران سے گمشدگی بعد لیویز حکام کے ذریعے منظر عام پر لائے جانے والے خواتین کے رہائی کا مطالبہ کیا گیا جبکہ خواتین کو اسلحہ و گولہ بارود کے ہمراہ منظر عام پر لائے جانے کو من گھڑت اور بلوچ خواتین کو بدنام کرنے کا طریقہ قرار دیا گیا علاوہ ازیں بلوچستان میں جاری فوجی آپریشنوں کی بھی مذمت کی گئی۔

مزید پڑھیں: پیہم ستم رسیدہ، بلوچ زادیاں – ٹی بی پی فیچر رپورٹ

مظاہرین نے متحدہ عرب امارات کے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اماراتی حکمران کسی بھی طرح اس انسانی جرم سے پہلو تہی نہیں کرسکتے اور نہ ہی وہ کنارہ کشی اختیار کرسکتے ہیں بلکہ وہ عالمی انسانی قوانین کے خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں اور بلوچ قوم اور عرب کے درمیان صدیوں سے محبت و تاریخی رشتے میں دراڈ ڈالنے بلکہ اس رشتے کو ختم کرنے کا موجب بنے ہیں۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں سے لاپتہ افراد کے لواحقین نے آکر احتجاج میں حصہ لیا جبکہ مظاہرے میں سبی سے جبری طور پر لاپتہ چنگیز جکرانی ولد محمد خان جکرانی کی والدہ بیٹے کی جدائی سے نڈھال ہوکر بے ہوش ہوگئی، چنگیز جکرانی کے والدہ کے مطابق میرے بیٹے کو پانچ سال قبل پاکستانی فورسز کے اہلکاروں نے بائی پاس سے حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کیا جس کے بعد وہ تاحال لاپتہ ہے۔

وی بی ایم پی کے رہنما نے ماما قدیر بلوچ نے چنگیز جکرانی کی والدہ کے بے ہوشی کے حوالے سے بتاتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں مسلسل احتجاج کررہے ہیں اور ہر بار اپنے پیاروں کی جدائی میں کوئی والدہ، کوئی بہن نڈھال ہوکر بے ہوش ہوتی ہے لہٰذا ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت انسانی حقوق کی عالمی تنظیم بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور دیگر انسانی حقوق کے پامالیوں پر توجہ دیتے ہیں اپنا کردار ادا کریں۔

راشد حسین کے لواحقین کے مطابق ایک سال کے دورانیے میں انہوں نے تمام قانونی ذرائع استعمال کیے لیکن متحدہ عرب امارات اور نہ ہی پاکستان میں انہیں کسی عدالتی فورم پر پیش کیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس طرح کسی شخص کو لاپتہ رکھ کر انسانیت کی تذلیل کو بند کیا جائے اور راشد حسین سمیت تمام لاپتہ اسیران کو منظر عام پر لاکر عالمی و ملکی قوانین کا احترام کیا جائے۔