کلانچ میں صحت اور پسنی میں تعلیمی مسائل کو حل کیا جائے – ایم ایس اے

17

مکران سوشل ایکٹیوسٹس (ایم ایس اے) کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں صحت کے سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور غیر حاضر اسٹاف کے خلاف کاروائی کی جائے۔ سیول ڈسپنسری حُر کلانچ عملہ نہ ہونے کی وجہ سے بند ہے، ضلع گوادر کا دیہی علاقہ کلانچ میں صحت کے بنیادی سہولیات ناپید ہیں۔ حر کلانچ میں موجود سیول ڈسپنسری کی عمارت عملہ نہ ہونے کی وجہ سے بند ہے۔ کمپوڈر اور دیگر عملے کو اب تک تعینات نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے علاقے کے لوگ صحت کے حوالے سے مشکلات سے دوچار ہیں۔ علاقے کے لوگ معمولی سی زکام کے علاج کیلئے شہر جاتے ہیں۔ کلانچ کے بیشتر دیہی علاقوں میں صحت کے سہولیات غیر تسلی بخش ہیں۔

ترجمان نے نے کہا ہے کہ ایم ایس اے کلانچ کے کوآرڈینیٹر کی جانب سے دیئے گئے معلومات کے مطابق سیول ڈسپنسری حر کلانچ ایک سال تک عملے سے محروم ہے، محکمہ صحت کو اس حوالے سے بارہا شکایت کی گئی ہے لیکن تاہم اس ڈسپنسری میں کمپوڈر و دیگر عملے کو تعینات نہیں کیا گیا ہے۔ مکران کے دیگر علاقوں میں بھی سینکڑوں کی تعداد میں سیول ڈسپنسریز اور بنیادی مراکز صحت غیر فعال ہیں، جہاں یا تو عملہ کی تعیناتی عمل میں لائی گئی یا ہے ڈسپنسر ڈیوٹی دینے سے قاصر ہیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ تینوں اضلاع میں محکمہ صحت کے افسران کی جانب سے اب تک ان علاقوں میں دورہ نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی اسٹاف کی تعیناتی کو یقینی بنایا گیاہے۔ پورے بلوچستان سمیت مکران ڈویژن کے دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات موجود نہیں جس سے لوگ پریشانی و مختلف بیماریوں میں مبتلاء ہیں۔

مکران سوشل ایکٹیوسٹس(ایم ایس اے) کے ترجمان کا پسنی میں تعلیمی سہولیات کے فقدان کے حوالے سے کہنا ہے کہ انٹر کالج پسنی میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے، کالج کی عمارت انتہائی خستہ حال اور رہنے کی قابل نہیں ہے۔ پسنی انٹر کالج کی بسیں ناکارہ ہوچکی ہیں جبکہ کالج میں لازمی مضامین کے لیکچرار موجود نہیں ہیں۔ انتہائی قلیل اسٹاف اور کم سہولتوں سے کالج کو چلایا جارہا ہے۔

ترجمان کا کہنا کہ کالج میں بنیادی تعلیمی سہولیات میسر نہیں ہیں، طلباء کی پک ایند ڈراپ کیلئے موجود بسیں خراب ہیں۔ اساتذہ کی کمی کی وجہ سے طلباء کا تعلیمی سال ضائع ہورہا ہے۔ تحصیل پسنی کے سینکڑوں طلباء ہائیر ایجوکیشن کیلئے ہر سال کالج میں داخلہ لینے آتے ہیں لیکن سہولیات کی عدم دستیابی کے بنا پر مایوس ہیں۔ پسنی انٹر کالج کے مسائل کے حوالے سے تعلیمی ذمہ داران اور انتظامیہ کو بارہا آگاہ کیا جاچکا ہے اس کے باوجود بھی کسی نے نوٹس نہیں لیا۔ کالج کی عمارت کی چھت انتہائی خسہ حال ہے جس میں رہتے ہوئے طلباء ڈر محسوس کرتے ہیں جبکہ اسٹاف کی تعداد بھی کم ہے۔

رجمان نے پسنی انٹر کالج کے پرنسپل اور اسٹاف کی کوششوں کو سراہاتے ہوئے کہا ہے کہ انتہائی کم وسائل کے ساتھ کالج میں تعلیمی نظم و نسق کو جاری رکھے ہوئے اساتذہ قابل تحسین ہیں۔ بلوچستان حکومت، تعلیمی افسران اور ضلعی انتظامیہ پسنی کالج کی عمارت کی مرمت کو یقینی بنائے اور طلباء کی پک ایند ڈراپ کیلئے نئے بس فراہم کرے جبکہ انٹر کالج پسنی میں اکیڈمک اسٹاف کی تعداد کو بڑھا کر لازمی مضامین کے لیکچرار کو فوری تعینات کیا جائے۔