پیہم ستم رسیدہ، بلوچ زادیاں – ٹی بی پی فیچر رپورٹ

287

پیہم ستم رسیدہ، بلوچ زادیاں

دی بلوچستان پوسٹ فیچر رپورٹ
بہزاد دیدگ بلوچ

بلوچستان کے ایک پسماندہ ضلع آواران میں مورخہ 30 نومبر 2019 کو ایک خلاف معمول پریس بریفنگ میں علاقائی لیویز فورس نے چار بلوچ خواتین کو بھاری اسلحہ سمیت میڈیا کے سامنے پیش کیا اور یہ دعویٰ کیا کہ لیویز نے سی ٹی ڈی اسکواڈ کے ہمراہ کاروائی کرکے بلوچ مسلح تنظیموں بلوچ لبریشن فرنٹ اور بلوچ لبریشن آرمی سے تعلق رکھنے والی ان خواتین کو اسلحہ سمیت گرفتار کرلیا ہے۔ وضع سے گھریلو خواتین لگنے والی، بلوچی لباس زیب تن کیئے ان خواتین کے نام بی بی سکینہ، سید بی بی، نازل اور حمیدہ بتائے گئے۔

گوکہ بلوچستان کے حالات کے متعلق روایتی ذرائع ابلاغ مکمل خاموشی کا شکار نظر آتی ہے لیکن معمولی سی ہی تحقیق سے ہی یہ امر طشت ازبام ہوجاتی ہے کہ یہ وہی خواتین ہیں، جن کیلئے دو دن سے بلوچستان کے انسانی حقوق و حقوقِ نسواں کی تنظیمیں، بلوچ سیاسی کارکنان کوئٹہ پریس کلب کے سامنے اور سوشل میڈیا پر مسلسل احتجاج کررہی تھیں اور یہ الزام عائد کررہے تھے کہ ان خواتین کو مختلف واقعات میں، مختلف علاقوں سے پاکستانی افواج اور خفیہ ادارے اہلخانہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گرفتار کرکے لاپتہ کرچکے ہیں۔ اور مذکورہ پریس کانفرنس سے چند گھنٹے قبل ہی بلوچ ہیومن رائٹس کی چیئرپرسن بی بی گل بلوچ نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ میں ماما قدیر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرکے ان خواتین کی گرفتاری کا الزام سیکورٹی فورسز پر عائد کرتے ہوئے اس عمل کو ” اجتماعی سزا” کا نام دیا تھا اور اگلے روز احتجاج کا بھی اعلان کیا تھا۔

بلوچستان کے ضلع آواران میں یہ پہلا واقعہ نہیں کہ خواتین کو گرفتاری کے بعد لاپتہ کیا گیا ہے، اس سے پہلے بھی فورسز اس طرح کے واقعات بارہا دہرا چکے ہیں۔ گذشتہ سال 22 جولائی کو پاکستانی فورسز بلوچستان کے ضلع آواران کے تحصیل مشکے میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر وہاں سے تین خواتین کو ماورائے قانون گرفتار کرکے لاپتہ کرچکے تھے، ان اغواء ہونے والوں میں ایک 55 سالہ خاتون نور ملک زوجہ اللہ بخش اور انکی دو جوانسال صاحبزادیاں 22 سالہ حسینہ زوجہ اسحاق اور 18 سالہ ثمینہ ولد اللہ بخش تھیں۔ یہ اس گھر سے اغواء ہونے والے پہلے افراد نہیں بلکہ 3 جولائی کو نور ملک کے 10 سالہ بیٹے ضمیر ولد اللہ بخش کو فورسز اٹھا کر لے گئے تھے۔

اس واقعے سے دو ماہ قبل یعنی چار جون 2018 کو ضلع آواران سے منسلک ضلع واشک کے علاقے ناگ رخشان میں فوج نے امدادی سامان کی تقسیم کے بہانے خواتین کو زبردستی آرمی کیمپ منتقل کرکے ان کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا، اور اُن کی عصمت دری کی گئی تھی۔ اور طویل عرصے تک خواتین کو کیمپ میں بند رکھا گیا تھا، جہاں ایک خاتون جنسی زیادتی کی وجہ سے حاملہ ہوگئی تھی اور پھر اسے زبردستی اسقاطِ حمل پر مجبور کیا گیا تھا۔

ضلع آواران بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ کا آبائی ضلع ہے۔ آواران کے ایک مقامی صحافی کے مطابق “ضلع آواران اور گردونواح کے اضلاع بی ایل ایف کے مضبوط گڑھ ہیں۔ جہاں بھاری عوامی حمایت مسلح تنظیم کو حاصل ہے، اسی حمایت کو زائل کرنے کیلئے پہلے مقامی آبادیوں پر روزانہ کے بنیاد پر آپریشن ہوتے رہے اور بالخصوص مردوں کو سینکڑوں کی تعداد میں اغواء کرکے لاپتہ کیا گیا اور باقی ماندہ آبادی کو ڈرایا دھمکایا گیا، اسی تسلسل کے تحت اب بلوچ سماج میں خواتین کے موضوع کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے، خواتین کو نشانہ بنایا جارہا ہے تاکہ جو لوگ گرفتاری اور موت کے سبب بلوچستان کی تحریک آزادی کی حمایت سے دستبردار نہیں ہوئے ہیں تو وہ خواتین پر آکر مجبور ہوجائیں۔”

خواتین کو نشانہ بنانے کے اس تسلسل میں ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ کے خاندان کو اس وقت براہ راست نشانہ بنایا گیا، جب 30 اکتوبر 2017 کو انکی اہلیہ فضیلہ بلوچ کو انکی چار سالہ بیٹی پوپل جان کے ہمراہ پاکستانی خفیہ اداروں نے کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ سے اغواء کرکے لاپتہ کردیا۔ انہیں بلوچ لبریشن آرمی کے سابق سربراہ اسلم بلوچ عرف جنرل کی ہمشیرہ اور انکی چار بچوں، ایک کزن اور ایک بھتیجے سمیت اغواء کیا گیا تھا۔

اس واقعے کے بعد 7 دسمبر کو اللہ نظر بلوچ کی ایک ہمشیرہ نورحاتون کو خاندان کے متعدد افراد اور دو دن بعد یعنی 9 دسمبر 2017 کو ڈاکٹر اللہ نظر کی دوسری ہمشیرہ شیرخاتون کو انکی بیٹی اور دو پوتے اور پوتی سمیت ضلع واشک راغے سے پاکستانی فوج نے گرفتار کرکے لاپتہ کردیا تھا۔

بلوچ خواتین کے اغواء کے اس نئے تسلسل کی وجہ کیا ہے؟ اس حوالے سے دی بلوچستان پوسٹ نے معروف آزادی پسند رہنما اور بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ سے رابطہ کیا اور ان سے ایسے واقعات کے اسباب و علت دریافت کی تو انکا کہنا تھا کہ” بلوچستان میں فوجی آپریشنوں کی شدت میں تیزی اور خاص طور بلوچ خواتین کو نشانہ بنانا دراصل فوج کی حواس باختگی اور شکست کی علامت ہے۔ فوج کو یہ لگ رہا ہے کہ شاید وہ بلوچوں کے ایک کمزوری پر ہاتھ ڈال رہا ہے، اور بلوچ اپنی آزادی کی جدوجہد سے دستبردار ہوجائیں گے۔ یہ جنگ دو دہائیوں سے جاری ہے اور جدید خطوط پر استوار ہے، ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے بلوچ آزادی پسندوں کو بلیک میل کرنے کی کوشش، انکی خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔”

جب بی ایل ایف کے سربراہ سے دریافت کیا گیا کہ خواتین کے اغواء کے رجحان کو کیسے روکا جاسکتا ہے تو انکا کہنا تھا کہ ” پاکستانی فوج ایک کرائے کی فوج ہے، جو خود نا کوئی قوم رکھتی ہے، نا تاریخ نا ہی کوئی تہذیب، اسلیئے ان سے انسانیت کی امید رکھنا یا یہ امید رکھنا کہ وہ بلوچ کے سماجی و جنگی اقدار کو سمجھیں گے اور خواتین پر ہاتھ اٹھانے سے باز آئیں گے، خام خیالی ہوگی، اس رجحان کو ہم محض اپنے مضبوط قوت ارادی سے ہی روک سکتے ہیں، گوکہ یہ عمل ہمارے لیئے انتہائی تکلیف دہ ہے لیکن اسکے اثرات ہمارے سماج پر منفی نہیں پڑیں گے، اس سے پاکستانی فوج کی حقیقت آشکار ہورہی ہے۔ بلوچ سماج میں عورت کو اٹھانا ایک انتہائی سنگین عمل ہے، ہمارا دشمن اتنا کم ظرف ہے کہ وہ چادر و چاردیواری کے تقدس کو نہیں جانتا ہے۔ یہ دشمن مسجدوں میں جوتوں کے ساتھ گھستی ہے، قرآن پاک کو نذر آتش کرتی ہے۔ ایسے دشمن سے ہم اور کیا توقع رکھ سکتے ہیں۔ آج ہماری جو مائیں بہنیں خانہ داری کررہی تھیں انہیں گھسیٹ کر بارود و اسلحہ کے سامنے پیش کیا گیا، اس سے ان بہنوں کے ذہنوں میں سوال اٹھیں گی جو آج پڑھ رہی ہیں، بالکل اسی طرح جس طرح بلوچ نوجوانوں کے ذہنوں میں سوال اٹھے اور وہ دو دہائیوں سے یہ جنگ لڑرہے ہیں۔ ایسے واقعات ہمیں نقصان نہیں دینگے بلکہ ہمارے سماج کا حصہ ہماری بہنوں کو بھی اس آزادی کی جنگ میں شامل ہونے پر مجبور کردینگی۔”

بلوچ خواتین کو اغواء کرنے اور لاپتہ رکھنے کی بات بلوچستان میں نئی نہیں ہے، یہ الزامات پہلی بار ستر کی دہائی میں اس وقت سامنے آئے، جب معروف بلوچ مزاحمتی گوریلا لیڈر شیرمحمد مری عرف جنرل شیروف نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ پاکستانی فوج سینکڑوں کی تعداد میں بلوچ خواتین کو اغواء کرکے، لاہور کے بازاروں میں بیچ دیتی ہے، جن میں سے کئیوں کو ہم نے ڈھونڈ کر، پیسے جوڑ کر اپنی خواتین کو واپس خود ہی خرید کر لایا ہے۔

موجودہ تحریک میں پہلی بار بلوچ خواتین کے اغواء اور انہیں اذیت گاہوں میں بند رکھنے کی خبر 2009 اس وقت منظر عام پر آئی جب بلوچ وائس کے کوآرڈینیٹر منیر مینگل طویل عرصے تک لاپتہ رہنے کے بعد منظر عام پر آئے تھے، انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ انہیں اذیت گاہ میں پاکستانی فوجی مجبور کرتے تھے کہ میں ایک بلوچ خاتون زرینہ مری سے جنسی زیادتی کروں، انکار کرنے پر مجھے شدید اذیت کا نشانہ بنایا جاتا۔”

خواتین کے اس مسئلے کے بابت دی بلوچستان پوسٹ نے معروف قلمکار و افسانہ نگار اور آن لائن نیوز سائٹ ” حال حوال” کے ایڈیٹر عابد میر سے بات کی تو انکا کہنا تھا کہ ” یہ تسلسل نیا نہیں، اسی کا حصہ ہے جو پہلے سے جاری ہے۔ بوقتِ ضرورت اس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ اسکا روک تھام تو زور آور کی مرضی پر منحصر ہے، دوسرا بلوچ سیاسی تنظیموں کے اتحاد اور ایمانداری پر کہ وہ اس کے خلاف متحد ہو جائیں اور بیٹھ کر کوئی مشترکہ لائحہ عمل طے کر لیں۔”

کیا ایسے واقعات کے سخت ردعمل سامنے آسکتے ہیں؟ اس سوال پر عابد میر کا کہنا تھا کہ ” ہم اب صرف سوشل میڈیائی اثرات کے عادی ہو چکے ہیں۔ اس کے جو بھی اثرات ہوئے فیس بک، ٹوئٹر پر ہی ہوں گے۔ سماج جب غیرسیاسی ہو جائیں تو ان کا ردعمل بھی اسی طرح غیرسیاسی، غیرعملی ہو جاتا ہے۔”

خواتین کے اغواء کا دائرہ کار محض بلوچستان کے ضلع آواران و ملحقہ اضلاع تک محدود نہیں ہے، بلکہ ایسے واقعات بلوچستان بھر میں تسلسل کے ساتھ اور شدت کے ساتھ دیکھنے میں آئے ہیں۔ آواران سے گرفتار مذکورہ چار بلوچ خواتین کے اغواء سے محض ایک دن قبل ضلع ڈیرہ بگٹی کے علاقے اوچ لاکھا ناڑی سے فورسز نے تیرہ افراد کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا جن کی اکثریت خواتین و بچوں کی تھی۔

اسی طرح حالیہ واقعات میں یکم مئی 2019 کو ہی بلوچستان کے ضلع نصیرآباد کے علاقے ربی سے چار خواتین کو پانچ بچوں سمیت اغواء کیا گیا تھا، ایک اور واقعے میں 7 ستمبر 2019 کو بلوچستان کے ضلع قلات میں پیر شاہ کے مزار سے ایک خاتون کو انکے تین بچوں سمیت گرفتار کرکے لاپتہ کردیا گیا۔ اور 8 اگست 2018 کو بلوچستان کے ضلع خضدار کے تحصیل نال کے علاقے گریشہ سے ایک خاتون کو تین بیٹیوں سمیت گرفتار کرکے لاپتہ کردیا گیا۔ اسی طرح نومبر 2015 کے ایک واقعے میں بلوچستان کے ضلع بولان سے 28 بلوچ خواتین و بچوں کو ایک ہی گاؤں سے اغواء کرکے لاپتہ کیا گیا تھا۔

بلوچ خواتین کے اغواء اور انہیں لاپتہ رکھنے کی فہرست بہت طویل ہے، محتاط اندازے کے مطابق ابتک بلوچستان سے چالیس ہزار سے زائد مرد اور کم از کم 500 خواتین لاپتہ ہیں۔ بلوچستان کے قبائلی سماجی ساخت کی وجہ سے زیادہ تر خواتین کے اغواء کے مسئلے کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے اور میڈیا میں نہیں لایا جاتا ہے، اسے بے عزتی تصور کی جاتی ہے، اسی لیئے یہ کہنا بعید از قیاس نہیں کہ لاپتہ بلوچ خواتین کی تعداد اندازوں سے کئی گنا زیادہ ہوں۔

بلوچ خواتین کو فوج کی جانب سے حراساں کرنے اور اغواء کرنے کے مسئلے پر دی بلوچستان پوسٹ نے بلوچستان کے معروف حقوق نسواں اور انسانی حقوق کی کارکن حمیدہ نور سے بات چیت کی تو انہوں نے ایسے افعال کو بزدلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ” یہ انتہائی خطرناک رجحان ہے، ان مذموم اقدام سے انتشار پیدا ہورہا ہے۔ بلوچ سماج میں اس کے اثرات انتہائی گہرے مرتب ہونگے۔ بلوچ سماج میں خواتین کی ننگ و ناموس کی پامالی کو کبھی معاف نہیں کیا جاتا۔ بلوچ سماج میں عورت کا ایک اعلیٰ مقام و تقدس ہے۔ بلوچ، عورت کی عزت و حرمت کے لیئے کسی بھی حد تک قربانی دیتا ہے، اس بزدل ریاست نے بلوچ کی اسی کمزوری کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔”

بہت سے لاپتہ بلوچ خواتین سالوں سے لاپتہ ہیں، جن کے زیست و مرگ کے بارے میں کچھ بھی علم نہیں۔ ابتک خفیہ اداروں کے حراست کے دوران کم از کم ایک بلوچ خاتون کی شہادت کی تصدیق ہوچکی ہے۔ 6 اپریل 2018 کو اس بات کی تصدیق ہوئی تھی کہ شہید غوث بخش بلوچ کی بہو جسے خفیہ ادارے متعدد خواتین کے ہمراہ مشکے سے اغواء کرکے فوجی کیمپ منتقل کرچکے تھے۔ وہاں حراست کے دوران ان پر شدید تشدد کیا گیا تھا، جس سے وہ جانبر نا ہوسکی تھی۔

اس معاملے پر بلوچ طالبعلموں کی رائے لینے کیلئے دی بلوچستان پوسٹ نے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار) کے مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبر گورگین بلوچ سے رابطہ کیا تو انکا کہنا تھا کہ ” یہ ایک نیا مسئلہ نہیں ہے، بلوچ خواتین کے اغواء کا تسلسل اس وقت سے ہی شروع ہے، جب بلوچ مردوں کو خفیہ اداروں نے اٹھا کر لاپتہ کرنا شروع کردیا تھا۔”

ایسے واقعات کے روک تھام کو بہت ضرور سمجھتے ہوئے گورگین بلوچ اسکیلئے تجویز دیتے ہیں کہ ” بلوچستان میں جو بھی جماعتیں قوم پرستانہ سیاست کررہے ہیں، ان تمام کو اس مسئلے پر ایک صفحے پر آنا ہوگا اور آواز اٹھانا ہوگا۔ ایسے واقعات کی وجہ سے اب ہر بلوچ خاتون چاہے وہ تعلیمی اداروں میں پڑھ رہی ہو، خود کو غیر محفوظ سمجھ رہی ہے۔ جیسے کہ حانی گل کا واقعہ، جنہیں انکے منگیتر کے ہمراہ یونیورسٹی سے اغواء کیا گیا تھا، انہیں چند ماہ میں رہا کیا گیا جبکہ انکا منگیتر تاحال لاپتہ ہے۔ جب تک ہم تمام بلوچ ملکر اس درد کو اپنا مشترکہ درد نہیں سمجھیں گے، یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔”

اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے 1974 کے ریزولیوشن، “جنگوں و تنازعوں میں خواتین و بچوں کے تحفظ کے عالمی ڈکلیئریشن” کے شق اول کے مطابق “شہری آبادیوں خاص طور پر عورتوں اور بچوں پر حملہ یا بمباری کرنا، جو کسی بھی آبادی کا سب سے کمزور حصہ ہوتے ہیں، ممنوع قرار پاتا ہے اور ایسے اقدامات کی سخت روک تھام کی جائے۔” اسی طرح شق نمبر 5 کہتا ہے کہ ” عورتوں اور بچوں کے خلاف ہر طرح کے ظالمانہ و غیر انسانی برتاو، جن میں قید و بند، تشدد، قتل، اجتماعی اغواء، اجتماعی سزا، گھروں کو تباہ کرنا، جبراً گھروں سے بیدخل کرنا چاہے فوجی آپریشنوں کے نام پر ہوں یا مقبوضہ علاقوں میں ہوں مجرمانہ تصور کی جائیں گی۔”

بلوچستان میں آزادی کی تحریک گذشتہ دو دہائیوں سے زور و شور سے جاری ہے، جس میں پاکستانی فوج کو بلوچ آزادی پسند قوتوں کے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ اس جنگی صورتحال میں اقوام متحدہ کے واضح قراردادوں کے باوجود خواتین و بچوں کو نشانہ بنانا ایک نئے انسانی بحران کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔

بلوچ نیشنل موومنٹ اس وقت بلوچستان کی سب سے بڑی آزادی پسند سیاسی جماعت ہے، جس میں خواتین کی بھی بھاری اکثریت شامل ہے۔ یہ جماعت عرصہ دراز سے بلوچستان اور بیرونِ ممالک میں بلوچ خواتین کے اغواء کے مسئلے پر احتجاج کرتی رہی ہے۔ دی بلوچستان پوسٹ نے بلوچ خواتین کے اغواء و گمشدگیوں کے مسئلے پر بی این ایم کا موقف جاننے کیلئے تنظیم کے مرکزی ترجمان دلمراد بلوچ سے رابطہ کیا، جو سمجھتے ہیں کہ اب اس مسئلے کا روک تھام محض عالمی قوتوں کے مداخلت سے ہی ممکن ہوسکتا ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ “ماضی میں ابلاغ کے ذرائع محدود تھے، اس لئے بلوچ خواتین کے اغواء کے متعلق واضح ریکارڈ دستیاب نہیں، لیکن ماضی میں بھی یہ تعداد ہزاروں میں بتایا جاتا ہے۔ بابو شیرمحمد مری کا ایک انٹرویو آپ کی نظروں سے ضرور گذرا ہوگا، جس میں بابو صاحب تفصیلاً بتاتے ہیں کہ فوج ہماری خواتین پر کس طرح قہر برپا کرتا رہا ہے۔ ساتھ ہی کہتے ہیں کہ ہماری بچیوں کو پنجاب کی منڈیوں میں نیلام کیا گیا۔ تحریک آزادی کو کچلنے کیلئے ہر وہ حربہ جو ممکن تھا پاکستان نے روبہ عمل لایا۔ قتل عام، ہزاروں افراد کو ٹارچر سیلوں میں منتقل کرنا، اذیت رسانی سے شہید کرنا، گاؤں کے گاؤں صفحہ ہستی سے مٹانا، جبری نقل مکانی وغیرہ لیکن ان سے بلوچ جدوجہد کی شدت میں کمی نہیں آئی تو پاکستان آخری چارہ کار کے بطور یہ حربہ آزما رہا ہے کہ اس سے بلوچ جہدکاروں کے حوصلوں میں کمی آجائے گی اور بتدریج بلوچ اپنے جدوجہد سے دستبردار ہوتے جائیں گے، لیکن اس کے نتائج بھی پاکستان کے حق میں انتہائی خطرناک نکلیں گے۔ اس رجحان کی روک تھام منظم جدوجہد اور عالمی اداروں کی مداخلت کے بغیر مجھے ممکن نظر نہیں آتا ہے۔ سیاسی و انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس سے کہیں زیادہ موثر کارکردگی دکھانا ہوگا جو آج ہم کررہے ہیں۔”

دلمراد بلوچ سمجھتے ہیں کہ ایسے واقعات کی وجہ سے “بلوچ سماج میں غلامی کا احساس مزید جاگزین ہوگا۔ پاکستان کی تذلیل آمیز بربریت ہر اس بلوچ کو سوچنے پر مجبور کرے گا، جو آج تک جدوجہد کا حصہ نہیں بنا ہے۔ دشمن کے خلاف نفرت نئی بلندیوں پر پہنچے گا۔ اگر پاکستان اس نیت سے اس عمل میں شدت لارہا ہے تو میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ ستر سالہ قبضے کے باجود پاکستان اس قوم کی نفسیات سےواقف نہیں۔ بلوچ نے اپنی عزت پر حملہ آور کے سامنے سرکٹایا ضرور ہے مگر جھکایا نہیں۔”

بلوچستان میں فورسز کے ہاتھوں خواتین کے اغواء کے محرکات اور اسباب وعلت کو گہرائی سے جانچنے سے ایک بات کھل کر عیاں ہوجاتی ہے کہ ان خواتین کو کسی جرم میں نہیں اٹھایا جاتا اور نا ہی کسی شبے میں، نا یہ خواتین مجرم ہوتی ہیں نا ملزم، ان خواتین کو محض اسلیئے فوج اغواء کرکے عقوبت خانوں میں سالوں بند کرتی ہے اور اذیت کا نشانہ بناتی ہے کیونکہ انکے گھر کے مردوں کی ہمدردیاں یا تعلقات بلوچستان کی آزادی کی تحریک سے ہوتی ہیں۔ یہ مسئلہ نا صرف سنگین حقوقِ نسواں کا مسئلہ ہے بلکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں سے بدترین خلاف ورزی ہے۔