لیویز فورس ریاست کا مسلح ادارہ – جیئند بلوچ

183

لیویز فورس ریاست کا مسلح ادارہ

تحریر: جیئند بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

مسلح بلوچ تنظیم یو بی اے نے چار لیویز اہلکاروں کو گرفتار کرلیا ہے اور انکی رہائی آواران سے گرفتار خواتین کی رہائی سے مشروط کردی ہے۔ آواران سے گرفتار خواتین اس وقت لیویز فورس کے حوالے ہیں ان کی گرفتاری اور بلوچ مزاحمتی تنظیموں سے ان کے تعلقات کا الزام بھی لیویز فورس نے لگایا ہے۔

لیویز کی جانب سے آواران میں گرفتار خواتین کو اپنے حراست میں لینا اور ان پر الزام تراشی سے لے کر میڈیا کے سامنے بندوق اور گولوں کے ساتھ پیش کرنے سے قطع نظر حقیقت یہ ہے کہ ان چار خواتین کو ایف سی نے مقامی دلالوں کے ہمراہ آواران کی مختلف دیہاتوں سے اغواء کیا، جب اس پر سوشل میڈیا میں آواز آئی تب اغواء کو گرفتاری کا نام دے کر ایف سی کی جگہ لیویز نے سنبھالی۔

بلوچ خواتین کی جبری گرفتاری یا اغواء کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بلوچ خواتین کی گرفتاری ان کے اغواء یا اغواء نما گرفتاری کوششیں اس سے قبل بھی سامنے آئی ہیں، کچھ دن پہلے تربت گومازی میں ایف سی نے بلوچ عورتوں کی گرفتاری کے لیے دو مرتبہ چھاپہ مارا خوش قسمتی سے مطلوب خواتین وہاں موجود نہیں تھیں۔

جہاں تک لیویز کی بات ہے ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ یہ ایک ریاستی بندوق بردار فورس ہے، ریاست اسے کسی وقت کہیں پر بھی چاہے استعمال کرسکتی ہے۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ لیویز بلوچوں پر مشتمل فورس ہے تو ایف سی، پولیس حتیٰ کہ آرمی میں بھی بلوچ سپاہی ہیں۔ لیویز کو ان فورسز سے کسی اور وجہ سے استثنیٰ دیا جائے، وہ الگ بات ہے جس کا جنگی ماحول اور روایت میں کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔ البتہ اگر لیویز فورس بطور ریاستی ادارہ ان جرائم سے خود کو دور رکھ رہی ہے اور بلوچ تحریک کے حوالے سے ایک واضح پالیسی پر کاربند ہے تو اپنی کم مائیگی کی بنا پر ہم نے ایسا نہیں سنا ہے۔

آواران میں ایف سی نے بلوچ خواتین کو اغواء کیا، سوشل میڈیا پر ردعمل کے بعد انہیں جب لیویز کے حوالے کیا گیا تو وہاں لیویز کے ہیڈ ڈپٹی کمشنر نے نا صرف انکار نہیں کیا بلکہ بے غیرتی کی آخری حد تک جاکر ان خواتین کو اپنی نا صرف حراست میں لیا بلکہ اسلحہ کے ساتھ میڈیا کے سامنے پیش کرکے ان پر الزام تراشی بھی کی۔ آوران کا ڈپٹی کمشنر جو لیویز کے ڈسٹرکٹ ہیڈ ہیں، بظاہر ایک بلوچ ہے، جن کا تعلق پنجگور سے ہے، مگر ایف سی کے کہنے پر اس نے وہی کچھ کیا جو ریاست کا ایک وفادار کرتا ہے۔ اس عمل میں کسی لیویز اہلکار نے مزاحمت نہیں کی کسی نے اس عمل پر اختلاف نہیں کیا، اس بے غیرتی کے خلاف کسی لیویز اہلکار کے استعفیٰ کی خبر نہیں آئی۔

یو بی نے جہاں پہ چار لیویز اہلکاروں کو گرفتار کیا، وہ بے دست و پا نہیں تھے، بلکہ بطور ریاستی وفادار یو بی اے کا پیچھا کر رہے تھے، اگر یو بی اے کے ساتھی ان لیویز اہلکاروں کے ہاتھ آتے یا تو ان کو گرفتار کرکے ایف سی اور خفیہ اداروں کے حوالے کرتے یا وہاں پہ گولی مار دیتے۔ وہ بلوچ ہونے کا کوئی قومی یا اخلاقی لحاظ نا رکھتے۔ اگر لیویز کے یہ چاروں اہلکار سمجھتے کہ وہ بلوچ ہیں تو کبھی سرمچاروں کے پیچھے نہیں جاتے۔

یو بی اے نے ان چاروں کی مشروط رہائی آواران سے اغواء نما گرفتار خواتین کی رہائی رکھ دی ہے گوکہ یہ حقیقت ہے کہ ریاست ان چار لیویز اہلکاروں کی رہائی کے بدلے ان خواتین کو رہا نہیں کرے گی۔ ریاست اس لیے بھی ان کو رہا نہیں کرے گی کیوں کہ یہ بلوچ ہیں اگر کوئی پنجابی ہوتے تو یقیناً ریاست کا رویہ مختلف ہوتا۔ یو بی اے اگر اپنے ارادے سے مکر نہیں گئی تو ان چار اہلکاروں کا مقدر موت کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔