لاپتہ افراد کی آزادی تک جدوجہد جاری رہے گی – سورٹھ لوہار

94

وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ (وی ایم پی۔ سندھ) کی جانب سے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پرکراچی پریس کے سامنے بھوک ہڑتالی کیمپ لگائی گئی، جہاں پر جسقم (آریسر)، جیئے سندھ تحریک، جیئے سندھ محاذ، جسقم (بشیرخان)، سندھ سجاگی فورم، ایچ آرسی پی سمیت سندھ کی متعدد سیاسی، سماجی، انسانی حقوق اور قومپرست جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

احتجاج میں شریک لاپتہ افراد کے لواحقین اپنے لاپتہ پیاروں کی تصاویر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن ان کی بازیابی کے حق میں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کیخلاف نعرے درج تھے۔

اس موقعے پر وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کی کنوینئر سورٹھ لوہار، ڈپٹی کنوینئر سندھو امان چانڈیو، سسئی لوہار، تنویر آریجو، جسقم (آریسر) چیئرمین اسلم خیرپوری، سینیئر وائس چیئرمین امیر آزاد پنہور، جیئے سندھ تحریک رہنما عبدلفتاح چنہ، جیئے سندھ محاذ رہنما خالق جونیجو، جسقم (بشیرخان) رہنما اشفاق میمن، سندھ سجاگی فورم رہنما محب آزاد لغاری، سہنی جویو، سندھو لطیف میمن، پاکستان ہيومن رائٹس کمیشن رہنما اسد بٹ، نامور ادیب تاج جویو و دیگر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں انسانی حقوق کی بدترین پائمالی ہورہی ہے، سندھ بھر سے سیکڑوں سیاسی، سماجی اور قومپرست کارکنان کو ریاستی اداروں کی جانب سے اٹھاکر لاپتا کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان لاپتہ افراد میں جسقم (آریسر) رہنما ایوب کاندھڑو، پروفیسرغلام شبیر کلہوڑو، پٹھان خان زہرانی، شادی سومرو، بلاول چانڈیو، جیئے سندھ تحریک رہنما سید مسعود شاہ، شوکت مرکھنڈ، سندھ یونیورسٹی کے گولڈ میڈلسٹ ذہین شاگرد گل شیر ٹگڑ، مرتضیٰ جونیجو، شاہد جونیجو، انصاف دایو، نیاز لاشاری، کاشف ٹگڑ، اعجاز گاہو، باسط کلہوڑو، رفیق عمرانی، نوید قمرمگسی، سجاد گھانگھرو، مرتضیٰ سولنگی، علی احمد بگھیو سمیت سینکڑوں کارکنان جبری طور پر اٹھاکر لاپتا کیئے گئے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر ہم سندھ سمیت دنیا کے تمام انسانی حقوق کے تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں کو اپیل کرتے ہیں کہ وہ پاکستانی ریاست کی جانب سے سندھ میں جاری انسانی حقوق کی سنگین پائمالی کا نوٹس لیں اور سندھ بھر سے اٹھاکر لاپتہ کیے گئے تمام کارکنان کو بازیاب کرانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

اس موقع پر وائس فارمسنگ پرسنز آف سندھ کی سربراہ سورٹھ لوہار نے کہا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ہماری جدوجہد آئندہ بھی اسی طرح مرحلہ وار جاری رہے گی۔