فرید مینگل کے خط کے جواب میں حاشیئے کی وضاحت – گھورمینگل

91

فرید مینگل کے خط کے جواب میں حاشیئے کی وضاحت

تحریر: گھورمینگل

دی بلوچستان پوسٹ

سنگت فرید کا بیجا تنقیدی جواب پڑھ کر افسوس ہوا کیونکہ ہماری کاوش تھی کہ حقیقت پر مبنی مکالمے کے زریعے حل طلب مسائل پر گفت وشنید، بحث، تبصرہ و تجزیئے کے زریعے مصلحت پسندانہ بحث کی جاۓ، جسکو بنیاد بناکر بلوچ طلبہ اتحاد و اتفاق کی فضا کو سوگوار بنانے کے بجاۓ خوشگوار بنایاجاۓ لیکن اس کوشش کے آغاز میں ہی سنگت کی الزام تراشی حقائق سے انکاری و بے بنیاد سیاسی القابات سے نوازنا یقینی طورپر غیر سنجیدہ عمل ہے۔

میں نے اپنے پچھلے تحریر میں سنگت فرید بلوچ کو غیر تنظیمی دوست لکھا تھا جسکا ہر گز یہ مطلب نھیں کے وہ عمل کا حصہ نھیں بلکہ ایک وضاحت تھی کہ سنگت کا ھمارے تنظیم سے باقاعدہ تنظیمی تعلق نھیں، جسے دوست نے دل پر لیا اور دبے الفاظ میں ناراضگی کا اظہار کیا لیکن حقیقت قدرے مختلف ھے جہاں تک ظریف بلوچ کا سیاسی پس منظر و تعلق کا سوال ہے تو میں نے گذشتہ تحریر میں ایک جائزے کے طورپر انکی سیاسی زندگی کو بیان کرنے کی حقیقی کوشش کی، جہاں وہ پجار کے مرکزی کمیٹی کے رکن کے طورپر حصہ اور پھر گڈانی پاور پراجیکٹ پر آلود گی و دیگر مضرصحت پوائنٹس پر احتجاجی رویہ اپنانے و دیگر معاملات پر نکالے گۓ تھے، یہ میری ایک تحقیقی تبصرہ تھا چونکہ یہ انکی ماضی حقیقت ھے لیکن سنگت فرید اس حقیقت سے بھی انکاری ھیں، مجھے غیر سنجیدہ غیر سیاسی کہہ کر حقیقت کو جھٹلاتے ھیں۔

سنگت فرید!
مجھے ضرور اس بات پر اعتراض تھا کہ آپ کا یکسر طور پر عالمی، سیاسی، معاشی حالات سے بے خبر یا پھر اس ناقابل نہ سمجھنے پر تذکرہ تک ہی نہ کرنا باعث تعجب ھے کیونکہ تاریخ کے طالب علم ھونے کے ناطے یہ سمجھتاھوں کہ عالمی تحاریک و سیاسی سرگرمیوں کا اثر بلوچستان و خطے کے دیگر اقوام پر براہ راست پڑتاھے، اسکے نتیجے میں بلوچ پربھی اسکے مثبت و منفی اثرات پڑے ہیں۔

بی ایس او صرف بلوچستان میں بسنے والے بلوچ کی بات نھیں کرتابلکہ ایران ، افغانستان و کردش بلوچوں کو بھی محکوم و مظلوم برادری سمجھتاھے، انکے دکھ سکھ و درد میں بلوچستان کے بلوچ کو حصہ دار سمجھتاھے اور عالمگیر طرز پر بلوچ طلبہ کی سیاسی تعلیمی و سماجی کی تربیت و جہد کے لۓ کوشاں ھے کامرانی و ناکامی ایک الگ بحث ھے۔

فریدجان!
29 مارچ کو ھونے والے واقعے کا یکسرطورپر زمہ دار بی ایس اوکو ٹہرانہ ناانصافی ھوگی، بی ایس او بلوچ طلبہ کی نمائندہ تنظیم ھونے و تعلیمی اداروں سمیت گراؤنڈ پر نمایاں نمائندگی کرنے پر حق رکھتاھے کہ وہ تحریک طلبہ بحالی نوجوانان کی بلوچستان میں قیادت کرتا لیکن گروہ کے انا، بغض وضد پر مارچ میں نمائندگی کو متنازعہ کرنے کی کوشش پربی ایس او اپنا تنظیمی مارچ کو میٹروپولیٹن منتقل کرناچاھتی تھی لیکن اسی اثناء میں مخالف و عناد و بغض کے حامل سنگتوں کی تشدد کی پالیسی کے آڑے آگئی اور نوبت لڑائی جھگڑے تک پہنچ گئی، سنگت فرید اس حقیقت سے بھی آنکھیں چراتے ھیں اور ھمیں یرغمالی کہہ کراپنا دلی تسکین کرتے ھیں ۔ حقوق و حق بات کرنے اور مظلوم کی صدابلند کرنے والے خود بی ایس او کا نام استعمال کرکے اور پھرمارچ میں قیادت کا حق نہ دینے پر حق تلفی کرتے دکھائی دیتے ھیں۔

فریدجان و دیگر ھمیں پالیسی انداز میں ماس پارٹی کے یرغمالی ودیگر الفاظ کا استعمال کرکے سستی شہرت و بلوچ قوم میں معصومیت کا لبادہ اوڑہ کرہمدردیاں حاصل کرناچاھتے ھیں گوکہ حقیقت قوم کے سامنے شروع دن سے عیاں تھی، باقی رہی سہی کسر اوچھے ہتھکنڈوں کے استعمال نے پوری کردی ھے ۔

ماس پارٹی سے قربت کی وجہ میں نے پچھلے تحریر میں جامع انداز میں بیان کی ھے، مزید مارچ میں متوقع قومی کونسل سیشن میں پارٹی کے ساتھ نظریاتی و سیاسی وابستگی یا علیحدگی کا باقاعدہ اعلان کیاجاۓ گا، دوست انتظار کریں وقت پر سوالات کے جوابات مل جائینگے ماس پارٹی سے بی ایس اوکا غیر مشروط حمایت کا لفظ تنظیم و شہداء کے ساتھ مزاق ھے ۔

بی ایس او نے 1997 سے بلوچستان میں برپاھونے والے قدرتی و زمینی آفات کی زد میں آکر بلوچ یکجائیت کے سوال پر قومی سیاسی معاملات وانسانی جانوں کے ضیاع وبلوچ سسٹیمیٹک نسل کش پالیسوں سے نبردآزما ھونے کی اصولی موقف کی وجہ سے جبری عمل کی روک تھام ہی کی بنیاد پر پارٹی سے وقتی اتحاد کو ضرورت سمجھا ھے۔

پارٹی فیصلوں کو تنظیم پر اثر انداز ھونے والے سوال پر میں آخری پارٹی اجتماع کا تذکرہ اور چیئرمین نذیربلوچ کی پالیسی احتجاج کو پچھلے تحریر میں بیان کرچکاھوں گوکہ دوستوں کو اسکی بھی سمجھ نہیں آئی تو میں معذرت چاہتاھوں۔

دوست سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کیلۓ ھمیں فرط جذبات کا شکاری، سیاسی تربیت و دیگر معاملات پر ماہرانہ انداز میں حقیقت کو جھٹلانے کی کوشش میں مصروف ھیں، میں اس تحریر کے توسط سے بیانیہ کے طورپر عرض کرتاھوں کہ بی ایس او تمام ترقی پشند و روشن خیال طبقے سے منطق و دلیل کی بنیاد پربات و مکالمے کا حامی، دور اندیش بالغ نظر و عدم تشدد کے اصولی سیاسی پالیسی پر عمل پیراہے اور گفت و شنید کے زریعے معاملات کا حل چاہتاھے ۔

بی ایس او کو ظریف رند و ساتھیوں کی جہد پر بنیادی و سب سے زیادہ و منطقی اعتراض ھیکہ وہ بی ایس او کے عظیم نام کا استعمال و سنگتوں کی جہد پر کاری ضرب لگانے سے ھے، اگرچہ نام میں تبدیلی کرکے طلبہ سیاست کا حصہ بنناچاھتے ھیں تو پھر مکالمے و بیٹھک کی صورت نکل آسکتی ھے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔