غلطیوں سے سیکھنا چاہیئے – سنگر بلوچ

72

غلطیوں سے سیکھنا چاہیئے

تحریر: سنگر بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

ہر انسان میں کوئی کمی و بیشی ہوتی ہے، مگر انسان کو سمجھنا چاہیئے، سوچ سمجھ کر بولنا چاہیئے، مزاق بھی کبھی کبھی کسی کے دل کو توڑ دیتا ہے، انسان غلطیوں کا پتلا ہوتا ہے، غلطیاں انسان سے ہی ہوتی ہیں جب کوئی انسان غلطیاں کرتا ہے تو اسے ان غلطیوں سے کچھ سیکھنے کا موقع بھی ملتا ہے۔

غلطیاں تو انسانوں سے ہوتی رہتے ہیں مگر ایک غلطی کے بعد دوبارہ غلطی نہ ہو ہمیں اسکا خیال رکھنا ہوگا، انسان سے ایسی ایسی غلطیاں ہوتی ہیں جو معافی کے قابل بھی نہیں ہوتے، لیکن انسان کو احتیاط کرنا چاہیئے، کچھ غلطیاں نقصان دینے کیلئے کافی ہوتے ہیں مگر ہمیں خود کو سنبھالنا ہوگا، ایک غلطی سے ہمیں سیکھنا ہوگا کہ دوبارہ ایسی غلطی نہ ہو ہم سے جس کی وجہ سے ہمیں نقصان اٹھانا پڑے۔

آج ہم سے جوبھی غلطیاں ہوئے ہیں کوشش کریں کہ دوبارہ غلطیاں کرنے کی نوبت نہ آئے کیونکہ ایک چھوٹی سی غلطی سے اتنا بڑھا نقصان ہوتا ہے جو ہم سوچ بھی نہیں سکتے، خاص کر بلوچ آزادی پسندوں اور ان کو جو آزادی چاہتے ہیں ان چیزوں کا خیال رکھنا چاہیئے۔

کیونکہ ہم حالت جنگ میں ہیں، ہماری ایک غلطی کی وجہ سے پورے تحریک کو نقصان پہچ سکتا ہے، ہر بلوچ کو اپنے آپ کو جہد آزادی میں پاک و صاف رکھنا چاہیے، جو کرنا ہے سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے ہر قدم کو سوچ سمجھ کر اٹھانا چاہیے۔

غلطیاں تو انسان سے ہوتی ہیں لیکن ہم سے جو غلطیاں ہوئے ہیں، ہمیں ان غلطیاں سے سیکھنا چاہیے اور یہ کوشش کرنا چاہیے کہ آگے جاکے ہم سے کوئی ایسی غلطی نہ ہو جس سے ہم کو نقصان اور دشمن کو فائدہ پہنچے کیونکہ دشمن بھی اسی انتظار میں ہے کہ کب بلوچ جہدکاروں یا جو بلوچ آزادی چاہتے ہیں ان سے کوہی غلطی ہوجائے اور دشمن ان پر ٹوٹ پڑے۔

دشمن طاقتور ہے ہم کمزور ہیں، ہمارے پاس کوئی بھی طاقت نہیں صرف گوریلا جنگ ہی ہماری طاقت ہے، اس لیے ہمیں سوچ سمجھ کر ہر کام کو کرنا چاہیے، دشمن کو ہر قدم پر نقصان پہنچانا چاہیے اور خود کو نقصان سے بچانا چاہیئے، غلطیاں ہوتی ہیں لیکن ان غلطیوں سے ہمیں سیکھنا چاہیے تاکہ دوبارہ ہم سے ایسی غلطی نہ ہو، بلوچ قوم آزادی کی جنگ لڑرہا ہے ایک طاقتور دشمن سے تو ہمیں احتیاط کرنا ہوگا کہ آزادی کی جنگ میں ایک فرد سے ایسی غلطی سرزد نہ ہو جس سے تحریک کو نقصان پہنچے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔