طالبان امریکا مذاکرات بحال

42

امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد ہفتہ کو کابل سے دوحہ پہنچ گئے، جہاں تین ماہ کے تعطل کے بعد افغانستان میں جنگ بندی کی کوششوں پر بات چیت دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔

ستمبر میں فریقین کے درمیان مذاکرات لگ بھگ طے ہوچکے تھے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک طالبان کے ساتھ بات چیت ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

بعد میں پاکستان کی میزبانی میں اکتوبر میں افغان طالبان کے ایک اعلیٰ وفد نے امریکا کے خصوصی مندوب زلمے خلیل زاد کے ساتھ اسلام آباد میں ملاقات کی اور فریقین کے درمیان رابطے بحال ہوئے۔

امریکی حکومت کی خواہش ہے کہ اگلے سال امریکا میں صدارتی الیکشن سے پہلے کوئی معاہدہ طے پائے جائے تاکہ ٹرمپ افغانستان سے وعدے کے مطابق ہزاروں امریکی فوجی نکال سکیں۔

پچھلے ہفتے ٹرمپ نے بگرام کے امریکی اڈے پر مختصر غیر اعلانیہ دورے میں کہا تھا کہ طالبان بھی امریکا کے ساتھ اپنے معاملات طے کرنا چاہتے ہیں۔

توقع ہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتہ کے بعد طالبان اور کابل میں قائم افغان حکومت کے درمیان مذاکرات ہوں گے۔ افغانستان میں اٹھارہ سال سے جاری قتل و غارتگری کے خاتمے کا بڑا دآر ومدار ان مذاکرات کی کامیابی پر منحصر تصور کیا جاتا ہے۔

افغانستان ميں نیٹو ممالک کے فوجیوں کے علاوہ تيرہ ہزار امريکی فوجی تعينات ہيں۔