شہیدوں کا حق – حکیم واڈیلہ

104

شہیدوں کا حق

تحریر: حکیم واڈیلہ

دی بلوچستان پوسٹ

انسانی تاریخ میں ایسے بہت سے حادثات و واقعات کا مطالعہ کرنے کو ملتا ہے جو قوموں کی ترقی یا تباہی کا موجب بنتی ہیں،کیونکہ حادثات و واقعات پر انسان کا اختیار نہیں ہوتا، وہ چاہتے ہوئے بھی ان دلخراش حادثات و واقعات کو روک یا بدل نہیں سکتے لیکن ان واقعات و حادثات کے پیش آنے کے بعد بہتر فیصلہ کرنے والے ایمانداری سے اپنی ترقی کی راہ پر گامزن رہنے والے اور فردی و گروہی فائدے سے بڑھ کر اجتماعی سوچ رکھنے والے لوگ یا قومیں ہی ترقی کرپاتے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب اسی طرح کے دلخراش حادثات و واقعات کے بعد زندگی بھر کا ماتم کرنے والے، حقیقت سے کنارہ کشی اختیار کرکے یہ سمجھنے والے کہ اس حادثے کے بعد اب اجتماعی ترقی کی کوئی امید باقی نہیں رہتی اب ہم چاہ کر بھی اپنی قوم کو تباہی سے نہیں بچا سکتے اور غرق ہونا ہی ہمارا مقدر بن چکا ہے اور ایسے میں فردی و گروہی مفادات کی دوڑ میں پڑنے والی قومیں یقیناً نہ صرف تباہ و برباد ہوجاتی ہیں بلکہ انکے بعد آنے والی انکی تمام نسلیں دوسروں کی غلامی میں جانوروں سے بھی بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتی ہیں اور یہ نسلیں نہ صرف آزادی جیسی عظیم نعمت سے نفرت کرتی ہیں بلکہ ان میں انکے آباواجداد کی تمام مکاریاں و نالائقیاں موجود ہوتی ہیں ۔ اور وہ اُن تمام حادثات و واقعات جو قومی بقاء، قومی ترقی و بہتری، روشن مستقبل و آزادی کی خاطر پیش آتی ہیں ان کی حقیقت سے بیگانگی کا اظہار کرکے کہتے ہیں اگر ہماری قسمت میں بہتری ہوتی تو یقیناً ہم سے پہلے آنے والی نسلیں ان تمام نعمتوں کو حاصل کرچکے ہوتے۔

بلوچ قومی تاریخ بھی اس طرح کی حادثات و واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں قومی ترقی، قومی آزادی، قومی بقاء، بہتر مستقبل اور اجتماعی خوشحالی کی خاطر سروں کی بازی اس امید پر لگائی گئی ہے کہ ہمارے بعد ہماری بندوقیں، ہمارے قلم، ہماری تقریر و تحریریں، الغرض وہ تمام ضروری و بنیادی عمل جو مکمل قومی آزادی کی ضامن ہوتی ہیں وہ جاری و ساری رہینگی ان میں کسی بھی طرح سے فردی قربانیوں یا حادثات و واقعات کے پیش آنے کے بعد سستی یا کمی نہیں آئیگی اور جدوجہد میں محکمی، بہتری اور ادارتی بنیادوں پر پروان چڑھانے میں دانشور، مزاحمت کار، سیاسی کارکن، قلم کار و ادیب ایماندارانہ کردار ادا کرتے ہوئے قومی سوچ کو اولیت کا درجہ دیکر دشمن ریاست اور اسکی قابض فوج کو سرزمین بلوچستان سے باہر نکالنے کی خاطر شب و روز جدوجہد کرتے رہینگے۔

موجودہ قومی تحریک جو تقریباً گذشتہ پچیس سالوں سے جاری و ساری ہے۔ اس تحریک میں بہت سے نشیب و فراز وقت کے ساتھ آتے رہے ہیں اور بہت سے ایسے واقعات بھی پیش آئے ہیں، جن کے بعد ریاست اس خوش فہمی میں مبتلا رہا ہے کہ اب بلوچ تحریک مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے یا پھر اب اس تحریک میں اس قدر طاقت باقی نہیں رہی کہ پاکستانی فوج کا مقابلہ کرسکے ۔ قابض ریاست اس طرح کی خوش فہمی میں شہید نواب اکبر خان بگٹی اور ساتھیوں کی شہادت، شہید نوابزادہ بالاچ خان مری کی شہادت، شہید غلام محمد، شہید لالا منیر و شہید شیر محمد کی شہادت، بابائے بلوچ مرحوم نواب خیر بخش مری کی دنیا سے رخصتی کے بعد اور گذشتہ سال دسمبر کے مہینے میں شہید جنرل اسلم بلوچ، شہید سگار کمانڈر کریم مری، شہید فدائی بابر مجید عرف فرید بلوچ، شہید اختر بلوچ عرف رستم، شہید تاج محمد مری عرف سردارو اور شہید امان اللہ عرف صادق بلوچ کی شہادت کے بعد سے ریاست اس خوش فہمی مبتلا ہوچکا ہے کہ بلوچ قومی تحریک اور بلوچ قومی تحریک سے منسلک ساتھی اس حادثے کے بعد نہ صرف کمزور ہوچکے ہیں بلکہ وہ قومی سیاست کو حقیقی طور پر منزل کی جانب بڑھانے کی طاقت بھی نہیں رکھتے۔

یقیناً ریاست کی جانب سے اس طرح کے پروپیگنڈہ کرنے کا ایک ہی واضح مقصد ہوتا ہے کہ تحریک میں موجود ساتھیوں کے دلوں میں خوف و ڈر پیدا کرنا، انہیں یہ باور کرانے کی کوشش کرانا کہ تحریکی رہنماوں میں اب یہ اہلیت نہیں رہی کہ وہ قومی مقصد کو مزید آگے بڑھائیں اس طرح کے پروپیگنڈوں کے شروع ہونے کے بعد تحریک میں موجود ریاستی مہروں یا ان افراد کی جانب سے اس طرح پروپگنڈوں کو بڑھاوا دیا جانے لگتا ہے، جنکی سوچ میں قومی بقاء سے زیادہ ذاتی و گروہی مفادات اہمیت رکھتے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ حقیقی طور پر موجود جدوجہد کسی بھی طرح سے اپنے منزل کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو۔ اس طرح کے واقعات پہلے بھی پیش آچُکے ہیں اور اب بھی یقیناً ایسے ہی واقعات رونما ہورہے ہیں۔ مثال کے طور پر جہاں شہید نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت نے بلوچستان میں مزاحمت اور مزاحمتی سیاست کو زندگی بخشی، وہیں بہت سے ایسے لوگ جنہیں نواب اکبر خان بگٹی کا ساتھی سمجھا جاتا تھا، وہ نواب صاحب کی سوچ و سیاست سے راہ فرار اختیار کرگئے اور پھر یہ تسلسل شہید بالاچ مری کی شہادت، شہدائے مرگاپ کے واقعے کے بعد اور اب اس ناقابل فراموش تاریخی واقعے کے بعد بھی پیش آرہا ہے۔

آج کے دن تمام ساتھیوں کو، رہنماوں کو، دوستوں کو، ہمدردوں کو، شاعروں کو، دانشوران کو، استادوں کو طالب علموں کو خواہ وہ مرد ہوں یا عورت، جوان ہوں یا بزرگ تمام لوگوں کو سوچنا، سمجھنا، دیکھنا چاہیے کہ وہ کونسے عوامل ہیں جو آج کے نازک وقت و حالات میں قومی تحریک، قومی بقاء اور عظیم ساتھیوں کی شہادت اور انکی قربانیوں کے ساتھ مزاق اور اجتماعی تباہی و نقصانات کا وجہ بن رہے ہیں، ان عوامل کا ادراک کرتے ہوئے ان سازشوں، چالبازیوں، اور مکاریوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ہی مادر وطن کے شہیدوں کی قربانیوں کا حق ادا کیا جاسکتا ہے اور ان حادثات و واقعات کو آنے والی نسلوں کیلئے عظیم مثال بنایا جاسکتا ہے کہ کس طرح عظیم جنرل اور ساتھیوں کی قربانیوں کے بعد بلوچ قومی رہنماوں نے عظیم قوموں کی مثالوں کو زندہ رکھتے ہوئے دشمن سے دلیرانہ مقابلہ کرتے ہوئے اپنے سرزمین پر دشمن کی قبضہ گیریت کیخلاف مزاحمت کے تمام طریقہ ہائے کار بروئے کار لاتے ہوئے اپنا فریضہ سرانجام دیتے رہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔