سن زوکی کتاب ”جنگی فن“ کا تاریخی پس منظر | (آخری حصہ)

116

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ
جنگی حکمتِ عملی اور اُس کا تحقیقی جائزہ

مصنف: سَن زُو
ترجمہ: عابد میر | نظرِثانی: ننگر چنا

قسط 16 | آٹھواں باب (آخری حصہ) – سن زوکی کتاب ”جنگی فن“ کا تاریخی پس منظر

جنگ کئے بغیر دشمن سے شکست تسلیم کروانا:
ہم سن زوکی کتاب ”جنگی فن“ کے ذریعے معلوم کرچکے ہیں کہ اس کتاب میں ”دشمن کی جنگی حکمت عملی پر حملہ کرنا“دشمن کے بنائے ہوئے سیاسی اتحادوں کو ختم کرنا اور دشمن سے جنگ کئے بغیر شکست تسلیم کروانا جیسے اہم اصول موجود ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دشمن سے جنگ کرنے سے قبل اس کی بنائی ہوئی جنگی حکمت عملی پر حملہ کرنا‘ اس کے بنائے ہوئے سیاسی اتحادوں کو ختم کرنا‘ ایسے طریقے اختیار کرنے سے وہ جنگ شروع ہونے سے قبل دشمن کو فتح تسلیم کروانے میں کامیاب ہوگا۔ سن زو دشمن کے ساتھ میدان جنگ میں بنا سوچے سمجھے بے دھڑک جنگ کرنے کے خلاف تھا۔ وہ اس بات پر زور دیتا تھا کہ اگر دشمن پر مندرجہ بالا باتوں کے مطابق حملہ کرنا ممکن نہیں ہے تو پھر دشمن کی فوج پر حملہ کیا جائے۔ اس کا خیال ہے کہ سب سے زیادہ خراب کام قلعہ بند شہروں پر حملہ کرنا ہے‘ موخرالذکر دونوں باتیں بھی تبھی کی جاسکتی ہیں جب یہ دیکھا جائے کہ اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے‘ دیکھا جائے تو جنگ کے تجربہ کار کمانڈر کا یہ ایک نہایت قیمتی نقطہ نظر ہے‘ وہ اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ جنگ کرنے سے قبل ہی دشمن کو شکست دلوانا تمام باتوں سے زیادہ اہم ہے۔

کی اسن زو کا یہ تصور اس کا خیالی پلاؤ تھا یا اس کا طبعی رحجان اسی طرف تھا؟ نہیں! معلوم یوں ہوتا ہے کہ دونوں باتیں غلط ہیں کیونکہ وہ تاریخ میں موجود تمام جنگوں کے گہرے تجزیے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا تھا ”چاؤچیان“ میں کئی مشہور جنگی حکمت عملیوں کا ذکر ہے جن میں کمزور حکمرانوں نے اپنی حکمت ’ دلیری اوربصیرت اور فصاحت کی قوت کے ساتھ طاقتور ملکوں کو شکست دی اور جنگ سے قبل انہیں شکست تسلیم کرنے پر مجبور کیا۔ سن زو کے دور سے قبل دو جنگیں ایسی ہوئی ہیں جن سے اس اصول کی کامیابی کی گواہی ملتی ہے۔

کی اور چو کے مابین جنگ:
656قبل مسیح کی ہئان کے ہاں گونگ نے لوسونگ، چین وے، چینگ، زو اور چاؤ ممالک کے ساتھ اتحاد کرکے جنوب کی طرف ایک طاقتور حکمران ”چو“ پر حملہ کردیا۔ حملہ آور ہونے والی دشمن فوجوں چاروں طرف سے اسے گھیرلیا اور ”چو“ کے پاس اتنی زیادہ فوج نہ تھی۔ ”چو“ کے حکمران نے ایک ایلچی کے ذریعے کے گونگ کی طرف پیغام بھجوایا کہ آپ شمال اور میں جنوب میں ہیں‘ دونوں ممالک کے ایک دوسرے سے بہت زیادہ دور ہیں اور دونوں ممالک کا ایک دوسرے سے کبھی کوئی واسطہ بھی نہیں رہا ہے۔ میری آپ سے عاجزانہ گذارش یہ ہے کہ مجھے بتائیے کہ میرے ملک پر حملہ آور ہونے کا سبب کیا ہے؟ ”کی“ ملک کے وزیر گنان زونگ نے اسے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے چاؤ بادشاہ کو خراج کیوں نہیں دیا ہے۔ وہ تمام ممالک میں ایک کٹھ پتلی حکمران تھا جس کے ذریعہ کے ہاں گونگ اپنی کمک لے کر ”چو“ پر حملہ آور ہواتھا۔ اس کے علاوہ مذکورہ وزیر نے ”چو“ پر بھی بادشاہ ”چاؤ سو“ کو ڈبوکر مارنے کا الزام لگایا تھا۔ یہ واقعہ کافی عرصہ قبل گزر چکا تھا۔ ”چو“کے بادشاہ نے خراج نہ دینے کی غلطی کا اعتراف کیا اور وعدہ کیا کہ یہ سارا خراج کچھ وقت کے اندر اندر ادا کردیا جائے گا۔ لیکن اس نے بادشاہ چاؤ کو ڈبوکر مارنے کے ”چو“ کے الزام سے متعلق کہا کہ”یہ جھوٹ ہے“ کی ہئان گونگ اس جواب سے مطمئن نہیں ہوا‘ اس لئے وہ اپنی فوج کے ساتھ ”چو“ کے ملک کی طرف بڑھنے لگا۔

اس کٹھن صورتحال کو دیکھتے ہوئے ”چو“ نے کووان نامی ایک ایلچی کو کی ہئان گونگ کی طرف بھیجا ”کی“ نے اپنے پہرہ داروں کو سمجھایا کہ جب ”چو“ کا ایلچی اس سے ملنے آئے تو وہ خاص قسم کا کوئی فوجی مظاہر کریں کہ ایلچی ایسے عہدنامے پر دستخط کرنے کیلئے راضی ہوجائے جو کی ہئان گونگ کے فائدے میں تھا۔

”چو“ کا سفیر ساری صورتحال کو سمجھ گیا اور بے خوف ہوکر پورے اعتماد کے ساتھ کی ہئان گونگ سے کہا کہ ”اگر آپ تمام حکمرانوں کو عزت اور احترام کے ساتھ اپنے ساتھ لیں گے تو کسی کو بھی آپ کی حکم عدولی کی جرات نہ ہوگی لیکن اگر آپ اپنی طاقت کا مظاہرہ کریں گے تو اتنے بڑے لشکر کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی فٹنگ چینگ پہاڑی کا شہر ہمارا دفاع ثابت ہوگا اور نہشوئی ندی ہمارے لئے حفاظ کا خندق ثابت ہوگی (یعنی آپ یہ شہر فتح نہیں کرپائیں گے) اور آپ کی تمام کوششیں ضائع ہوجائیں گے۔ ”چو“کے سفیر ”کووان“ نے سفارتی زبان کا بھرپور استعمال کیا تھا۔ جس سے کہ ہئان گونگ نے متاثرہوکر صلح کا معاہدہ کیا جو اس کے فائدے میں کم تھا اور وہ اپنی فوج پیچھے لے کر چلا گیا۔ یہ ایسی اہم مثال ہے جس کے مطابق ”کہ ہئان گونگ“ کے پاس انتہائی زیادہ فوج تھی لیکن ”چو“ کے ایلچی کی گفتگو میں فصاحت اور بلاغت تھی‘ دونوں فرقے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں فتح یاب ہوئے لیکن زیادہ فائدہ ”چو“ کو ہوا تھا۔

بات چیت کے ذریعے دوستانہ تعلقات قائم کرنا
579سے 546قبل مسیح تک جنگ کے خلاف ہلچل مچائی گئی جو سنگ حکمرانوں کے دوجرنیلوں ”ھٹائیان“ اور زیانگ شو نے شروع کی تھی۔ یہ جنگ کرنے سے قبل دشمن کے شکست تسلیم کروانے کی ایک اہم مثال تھی۔ اس زمانے میں زینگ اور سنگ دو چھوٹے ممالک تھے جنہیں طاقتور ملک جب چاہتے تھے ان پر حملہ کرکے تباہ کردیتے تھے جب کوئی دشمن ملک حملہ آور ہوکر زینگ کی سرحد کے قریب پہنچتا تھا تو اس کمزور ملک کا بادشاہ سرحد کے پاس آکر بے شمار غلام اور ہیرے موتی دے کر جان چھڑاتا تھا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ”چو“ بادشاہ نے سنگ ملک اور شہر کا گھیراؤ کرلیا۔ یہ گھیراؤ بہت وقت تک چلا‘ ان کے پاس اشیائے خوردونوش نہ رہیں اس لئے اپنی زندگی بچانے کیلئے انہیں اپنے بچے بھی ذبح کرکے کھانے پڑے۔
ایسے حالات کو دیکھتے ہوئے جنگ نہ کرنے کی ہلچل چلائی گئی تھی جو کامیاب رہی ”سنگ“ نے ساتھ والے ممالک کے بادشاہوں کے ساتھ جنگ نہ کرنے کی بات پر راضی کرایا تھا جن میں ”جن“ اور ”چو“ کے دو بڑے ممالک بھی شامل تھے۔ ان دونوں سربراہوں نے اتحاد کے رہنماؤں کے طورپر معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ اس عہدنامے کی شرائط تھیں کہ ”جن اور ”چو“ ایک دوسرے کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کریں گے۔ انہیں مشترکہ مفادات کاخیال رکھنا ہوگا اور دونوں فریقین دکھ سکھ میں ایک دوسرے سے تعاون کریں گے۔ یہ بھی لکھا گیا تھا کہ دونوں فریقین میں سے جو بھی اس عہدنامے کی عہد شکنی کرے گا اسے خدا مار ڈالے گا۔ اس عہدنامے میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ چھوٹے ممالک ”جن“ اور ”چو“ کو خراج دیں گے۔ ان چھوٹے ممالک کیلئے پیسے رقم اور ہیرے جواہرات دینا جنگ کے جھنجھٹ سے زیادہ آسان تھا۔ ژیانگ شو کے جنگ نہ کرنے کی ہلچل اور عہدنامے پر دستخط کرنے کے بعد تمام ممالک میں امن وآشتی قائم ہوگئی اور تیس برسوں کے دوران ان کے مابین کوئی جنگ نہیں ہوئی۔

معلوم ہوتا ہے کہ سن زومندرجہ بالا واقعات سے اس طرح باخبر تھا جس طرح ایک سوبرس کے جنگی واقعات سے باخبر تھا۔ اس طرح اسے ژیانگ شوکی جنگ نہ کرنے کی ہلچل کا بھی اچھی طرح علم تھا جس طرح ہم بیسویں صدی کی دنیا کی دوعظیم جنگوں سے پوری طرح باخبر ہیں۔ اس لئے اس کا یہ اصول ”جنگ سے قبل دشمن سے اپنی بات تسلیم کروانا“ مندرجہ بالا تاریخی حقیقت سے وابستہ ہے۔

نتیجہ:
سن زو نے مجموعی طور پر دشمن کو شکست تسلیم کروانے اور بات چیت پر مجبور کرنے کیلئے زیادہ اہمیت سیاست‘ سفارتکاری اور جنگی حکمت عملی کو دی ہے کسی حد تک اس قسم کی حکمت عملی اقتصادی استحکام پر انحصار کرتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دشمن کو خطرناک جنگی صورتحال سے نہیں بلکہ مضبوط سیاسی اقتصادی سفارتکاری اور فوجی قوت کے ساتھ جھکایا جاسکتا ہے۔ موجودہ دور کی زبان میں اسے طاقت کی پشت پناہی کی حکمت عملی یا ایٹمی مزاحمتی طاقت کی حکمت عملی کہا جاتا ہے۔ سن زو دنیا کی تاریخ میں وہ پہلا آدمی ہے جس نے اصول کو اہمیت دی ہے اس سے ہم باآسانی نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ سن زوکی کتاب ”جنگی فن“ چین کے بہار اور خزاں کے دور کے جنگی تجربات کو نچوڑ ہے جس کا تصوراتی باتوں سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی یہ اس سے قبل کے جنگی ماہرین کی تصانیف کی نقل ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔