جنگی حکمتِ عملی | قسط 14 – جغرافیہ

46

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ
جنگی حکمتِ عملی اور اُس کا تحقیقی جائزہ

مصنف: سَن زُو
ترجمہ: عابد میر | نظرِثانی: ننگر چنا

قسط 14 | ساتواں باب – جغرافیہ

سن زو کی کتاب”جنگی فن“ میں موجود چار ابواب جیسے کہ مختلف 9 باتیں (Nine Variables) پیش قدمیاں (Marches) فوجی مقاصد کیلئے مناسب مقام کا انتخاب (Terrain) اور جنگی میدان کی 9 خصوصیات (Nine Varities of Ground) جغرافیہ اور فوجی معاملات کے مابین قریبی روابط کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر ابواب میں بھی جغرافیہ سے متعلق کافی ذکر موجود ہے۔

عسکری مقاصد کیلئے موزوں مقام:
”عسکری مقاصد کیلئے موزوں مقام“ کے باب میں ہمیں یہ معلومات ملتی ہے کہ جنگ کیلئے مطلوبہ اور مناسب میدان جنگی کارکردگی میں انتہائی زیادہ معاون ثابت ہوتا ہے اس لئے دشمن فوج کی جنگی کارروائی کا اندازہ کرنے اور فاتح فوج پر قابو رکھنے کی غرض سے فوجی مقاصد کیلئے موزوں جگہ کے فاصلے کا اندازہ کرنا اور مشکلات کی نوعیت پر سوچ و بچار‘ ایک مدبر عسکری جرنیل کا کام ہوتا ہے اگر کوئی بھی جرنیل عسکری مقاصد کیلئے منتخب کردہ علاقے کی خوبیوں اور خامیوں سے واقف ہوگا اور ایسے حقائق کو مدنظر رکھ کر دشمن سے مقابلہ کرے گا تو ضرور فتح مند ہوگا لیکن اگر کوئی جرنیل ایسا نہیں کرے گا تو ضرور شکست پائے گا۔

اس حقیقت کو واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ سن زو کا ”عسکری مقاصدکیلئے موزوں مقام“ سے متعلق استعمال کردہ لفظ (Terrain) موجودہ دور کے مفہوم سے کچھ مختلف ہے‘ معلوم یوں ہوتا ہے کہ اس لفظ سے اس کا مطلب مقامی جغرافیہ(Topography) اور ملٹری جغرافیہ ہے۔

سن زو کا یہ بھی خیال ہے کہ عسکری مقاصد کیلئے کام آنے والے میدان کو جنگی صورتحال کے مطابق ہونا چاہئے‘ وہ دعویٰ سے کہتا ہے کہ تجربہ کار کمانڈر کو فوجی مقاصد کیلئے کام آنے والے علاقے کی مشکلات اور فاصلے کا علم ہونا ضروری ہے۔ حقائق نے اس کے اس دعوے کو سچ ثابت کیا ہے۔ چین اور دیگر ممالک میں اس حقیقت سے وابستہ بہت سی مثالیں ملیں گی جن سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ فوجی مقاصد کیلئے کام آنے والے علاقے سے لاعلمی کی وجہ سے فوج کو شکست آئی۔

مثال کے طور پر 645 قبل مسیح میں کن(Qin) اور جن (Jin) کے مابین ”ہن یان“ کے قریب جنگ ہوئی تھی موجودہ دور میں اس علاقے کو صوبہ شنگزے کہا جاتا ہے۔ جنگ کے دوران ”جن“ کے رتھ کیچڑ میں جاپھنسے کیونکہ ”جن“ فوج کے کمانڈر عسکری مقاصد کیلئے کام آنے والے اس علاقے کی خصوصیات سے بے خبر تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نہ صرف ”جن“ کی فوج ہار گئی بلکہ کمانڈر جنھئے گانگ بھی گرفتار ہوگئے۔

589ء قبل مسیح میں ”جن“ کے حکمرانوں کی فوج نے ”کی“ کی فوجوں کو شکست دی اور بادشاہت پر قبضہ کرلیا اس کا سبب یہ تھا کہ پیچھے ہٹتے وقت ”کی“ کی فوج کے رتھ گہرے درختوں کے جھنڈ (Clump) میں جا کر پھنس گئے۔ فوج کوشکست ہوئی اور ملک کے حکمرانوں کو جنگی قیدی بنالیا گیا۔

سن زو نے اس قسم کی کئی مثالیں بتائی ہیں جن میں اس نے جنگ پر جغرافیے کے اثر کا ذکر کیا ہے۔ ”عسکری مقاصد کیلئے کام آنے والے مقامات“ کے باب میں سن زو اس میدان/ علاقے کی الگ الگ چھ خصوصیات جیسے کہ ”آسان “(Accessible)” مشکل “(Entangling)“ تھوڑے بہت کام کے قابل (Temporizing) تنگ دروں والا (Narrow Passes) ‘ڈھلوان (Precipitius) اور ”وسیع علاقے پر مشتمل “(Distant) بیان کی ہیں۔ جنگ کے میدان میں اس قسم کے خطوں کا ہونا فطری امرہے جو مقامی جغرافیے کے دائرے میں آتے ہیں۔

اس نے ”جنگی علاقوں کی 9 خصوصیات“ کے باب میں مذکورہ علاقے کو مختلف درجات جیسے کہ اپنے ملک کے وسیع علاقے میں پھیلا ہوا میدان “(Dispersive) ”سرحد کے قریب“(Frontiers)‘ ”آسان و مرکزی“(Key)‘”وسیع اور کھلا ہوا “(Open)‘ ”تین اطراف سے الگ ممالک کی سرحدوں کی وجہ سے مرکزی حیثیت کاحامل“(Focal)‘ ”محنت طلب“(Serious)‘ ”مشکل“(Difficuct)‘ ”گھِرا ہوا“(Encircled) اور خطرناک (Desperate) میں تقسیم کیا ہے۔یہ باتیں جغرافیائی صورتحال سے منسلک ہیں ان میں ملکی سرحدوں سے دور خاص حکمت عملی سے وابستہ بعض اہم خطے بھی ہوتے ہیں جن کاتعلق ملٹری جغرافیہ سے ہوتا ہے۔

ان الگ الگ اقسام پر سن زو نے اپنی کتاب میں تفصیل سے بحث کی ہے اور ایسی مشکلات کا سامنا کرنے کیلئے حل بھی بتایا ہے‘ اس نے دشمن کے ساتھ کیچڑیا دلدل سے ڈھکی ہوئی زمین سے گزرے وقت جنگ پر زور دیا ہے‘ وہ بتاتا ہے کہ خود کو کیچڑ یا دلدل کے علاقے سے تیزرفتاری کے ساتھ گزر جانا چاہئے‘ ایسے علاقوں کوسُستی کے ساتھ پار نہ کیا جائے‘ پیش قدمی کرتے ہوئے فوج تنگ دروں‘پہاڑی پگڈنڈیوں یا پانی کے تالابوں سے گزرتی ہے ایسے تالاب پانی کے ساتھ گہری گھاس ڈھکے ہوتے ہیں‘ خشک تالاب گھنی جھاڑیوں اور درختوں سے اٹے ہوتے ہیں وہاں سے گزرتے ہوئے سوچ بچار سے کام لینا چاہئے کیونکہ اچانک حملے کیلئے فوج تاک میں بیٹھی ہوتی ہے یا جاسوس چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔

موجودہ دور کی جنگوں میں بھی یہی اصول استعمال ہوتے ہیں‘ پہلی عالمی جنگ کے دوران شامنوسوف کی قیادت میں لڑنے والی ایک لاکھ فوج‘جرمنی کے لشکر کو دلدل میں پھنسا کر ختم کرچکی تھی۔

موجودہ دور کی تاریخ میں کئی مثالیں ملتی ہیں جن کے مطابق فوج کو تنگ پہاڑی دروں یا (گھنے درختوں سے) ڈھکے ہوئے علاقوں سے گزرتے ہوئے روک کر ختم کردیا گیا۔

مرکزی جنگی میدان:
موجودہ بین الاقوامی صورتحال کے نقطہ نظر سے مرکزی جنگی میدان کو بہت اہمیت حاصل ہے اس سلسلے میں امریکہ کی مشترکہ ریاستوں اور سوویت یونین نے اپنی خاص فوجی ترتیب کے لئے مخصوص جنگی حکمت عملی کو استعمال کیا ہے جس سے ہر شخص واقف ہے اسے بھی یہاں زیر بحث لایا گیا ہے۔

سن زو نے مرکزی میدان کا یہ وصف بیان کیا ہے کہ ”جہاں تین ملکوں کی سرحدیں آکر ملیں تو وہ مرکزی میدان ہے جس کمانڈر نے اس میدان پر پہلے قبضہ کرلیا وہ اپنے چاروں اطراف میں موجود ممالک سے باآسانی امداد حاصل کرلے گا اگر آپ نے مرکزی میدان پر قبضہ کرلیا تو چاروں اطراف موجود ممالک سے اتحاد بنالیں اور میں ایسے اتحاد کو مزید مضبوط اور طاقتور بناؤں گا۔“

مرکزی میدان عام طورپر اپنی ملکی سرحدوں سے باہر ہوتا ہے لیکن جنگی حکمت عملی کے نقطہ نگاہ سے انتہائی اہم مقام ہوتا ہے اگر کوئی بھی فریق اس پر پہلے قبضہ کرلیتا ہے تواس کی فوجی حیثیت اہم ہوجاتی ہے‘ اس سے ظاہر ہے کہ مرکزی میدان اپنی ملکی سرحدوں سے باہر ہوتا ہے اس لئے وہ ملک سے خاصادور ہوتا ہے‘ اپنی فوج کو جمع کرکے اس مرکزی میدان پر قبضہ کرنا اس قدر سہل بھی نہیں ہوتا ہے‘ اس سے سن زوکا مطلب یہ ہے کہ مرکزی میدان کے قریب موجود ممالک کے ساتھ اتحاد کرکے مذکورہ میدان پر قبضہ کیا جاسکتا ہے‘ یہ بات مناسب اور ممکن بھی ہے۔

سن زوکی کتاب ”جنگی فن“ پر گیارہ عالموں نے تبصرہ کیا ہے جن میں سے آٹھ کا ”مرکزی میدان“ سے متعلق نقطہ نظر ایک ہی ہے۔ تمام عالم اس بات پر متفق ہیں کہ جنگی حکمت عملی کے نقطہ نگاہ سے وہ علاقہ نہایت اہم ہوتا ہے جس میں چودہ رستے پھیلے ہوئے ہوں‘ اس لئے یہ ضروری سمجھا جاتا ہے کہ ایسے اہم علاقے پر پہلے قبضہ کیا جائے ایسے علاقے کو حاصل کرنے کیلئے طاقت کا استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ سفارتکاری سے کام لیا جاتا ہے۔

ذیل میں مسٹرہِی(HE)کا تبصرہ پیش کیا جاتا ہے جو دیگر کے اظہار خیال کی بھی نمائندگی کرتاہے۔
”مرکزی میدان تمام فریقین کے ملنے کیلئے ایک اہم علاقہ ہے جو ہر طرف سے وسیع ہوتا ہے اگر آپ اس پر سب سے پہلے قبضہ کریں گے تو تمام فریق آپ کے زیر دست ہوجائیں گے‘ اس کو حاصل کرنے سے آپ کو تحفظ مل جائے گا‘ اس کا ہاتھوں سے نکل جانا نہایت خطرناک ثابت ہوتا ہے۔“

ایک بار‘ وُو(Wu) کے حکمران نے سن زو سے کہا کہ اگر ایسا مرکزی میدان ہم سے اتنا دور ہوکہ ہم گھوڑوں اور رتھ کو تیزرفتاری سے بھگا کروہاں تک پہلے نہ پہنچ پائیں توان حالات میں ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ سن زو نے جواباً کہا ”اگر مرکزی میدان ہم سے اور دشمن سے ایک ہی فاصلے پر ہے تو پھر طاقت کے بجائے پیسے کو استعمال کرنا چاہئے اگر آپ اپنے ممکنہ اتحادیوں کو قیمتی تحائف ورقم دیں گے اور وعدے وغیرہ کریں گے تو پھر آپ کی فوج خواہ پہلے وہاں نہ پہنچ پائے‘ تب بھی آپ سب سے پہلے وہاں ہوں گے‘ اس صورتحال میں مدد دشمن کی نہیں بلکہ آپ کی کی جائے گی۔“

اس کے تبصرے کا مفہوم صاف اور واضح ہے اس کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ مرکزی علاقے والے ملک کے ساتھ سفارتکاری اور دولت کے ذریعے رشتے ناطے قائم کئے جائیں۔

امریکہ اور سوویت یونین کے مابین موجود رقابت:
سن زوکا یہ اصول عملی طور پر نہایت اہم ہے جسے امریکہ اور روس کے مابین موجود رقابت کی مثال سے اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے۔کارل وون کلازوز(KARLVAN CLAUSE WITS)بھی مقامی جغرافیے کو اہم سمجھتا تھا۔ ایک بار اس نے کہا تھا کہ فوجی ہیڈکوارٹر کے جنرل اسٹاف کو مقامی جغرافیے کا علم ہونا نہایت ضروری ہے۔ جنگی تاریخ میں بھی عسکری مقاصد کیلئے کام آنے علاقے کی اہمیت کو قلم بند کیا گیا ہے اس لئے موجودہ دور کے تمام ممالک کے ہیڈکوارٹرز کے جنرل اسٹاف نے جغرافیہ کے جائزے کیلئے ایک خاص محکمہ قائم کیا ہے۔

مرکزی میدان سے متعلق سن زوکی بتائی ہوئی خصوصیت اور اس پر کئے گئے تبصرے کے مطابق جنگی حکمت عملی سے تعلق رکھنے والے ایسے خاص علاقے نہایت قلیل ہیں جنہیں مرکزی میدان کہا جاسکتا ہے۔ ان میں سے جبرالٹر کا پہاڑی درہ ‘سوئیز کینال خلیج‘ باسفورس میڈی ٹرنین‘ سمندر کے تین راستے‘ نیٹو کی جنوبی سمیت انڈونیشیا اور ملائیشیا کے درمیان کی خلیج‘ سینٹرل امریکہ کا پناما کینال‘ خلیجِ فارس اور مغرب و مشرق کے میکسیکو نار اس کی مثالیں ہیں۔ اس حقیقت سے بھی ہر شخص واقف ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں ایسے اہم مرکزی میدانوں کو اپنے قبضے میں رکھنے کیلئے کوششیں کررہی ہیں لیکن اب تک انہیں ایسی فتح حاصل نہیں ہوسکی‘ ان کی یہ جدوجہد جاری ہے جبرالٹر کی پہاڑی برطانیہ کے قبضے میں ہے‘ اس نے سوئیز کینال کے استعمال کیلئے مصر کو بلین ڈالر کی فوجی و اقتصادی امداد دی ہے اس طرح اس نے خلیجِ باسفورس گزرگاہ کا استعمال کرنے کیلئے ترکی اور وہاں کے رہنماؤں کو امداد کے طورپر بلین ڈالرز دئیے ہیں۔ بین الاقوامی معاہدے کی رو سے ہوائی جہاز بردار‘ اے۔ایس۔کیو کو کوششوں کے باوجود بھی باسفورس سے گزر کرمیڈی ٹرنین پونچھ سمندر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ بڑی طاقتوں کی طرف سے ان اہم مرکزی علاقوں پر قبضے کرنے کیلئے جدوجہد میں سن زوکا اصول اور نظریہ کار فرما نظر آتا ہے جس کا کہنا تھا کہ ”ایسے ممالک کو امداد دینا ضروری سمجھا جائے اور ان کی طرف سفارت کاری بھی کی جائے۔“

امریکہ اور روس، افغانستان اور ایران کے گردونواح کے ممالک پر قبضہ کرنے کیلئے برسرپیکار ہیں‘ میکسیکو کی مشرقی گزرگاہ اور مرکزی میدان ”کیوبا“ کی حکمت عملی نہ شمالی اور جنوبی امریکہ سے متعلق بڑی طاقتوں کی حکمت عملیوں کو یکسر تبدیل کردیا ہے جنوبی بحرِ اوقیانوس میں ٹونگا نامی ایک چھٹا سا ملک ہے جوتین اتحادی ممالک جیسے کہ امریکہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کیلئے فوجی حکمت عملی کے نقطہ نگاہ سے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ کچھ عرصے سے سوویت یونین نے اس ملک کی طرف بہت زیادہ توجہ دی ہے اور اقتصادی امداد دینے کے علاوہ اس کی طرف کئی سفارتکار بھی بھجوائے تھے تاکہ جنوبی بحراوقیانوس میں پیر رکھنے کی جگہ مل جائے لیکن اس کی اس نیت کو دیکھتے ہوئے اسے وہاں پیر رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

خلائی دور میں جغرافیے کی اہمیت:
یہ دنیا خلائی دور میں پہنچ چکی ہے‘ عسکری مقاصد حاصل کرنے کیلئے فضا میں کئی سٹیلائٹ چھوڑے گئے ہیں جن میں قابل ذکر اسپیس شٹل ہیں۔ ان حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ مستقبل کی جنگیں خلاء میں لڑی جائیں گی۔ اس کے باوجود بھی زمین (کی جنگ) کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا‘ سٹیلائٹ اور اسپیس شٹل دونوں کو زمین سے ہی چھوڑا جاتا ہے جہاں حکمت عملیوں کے اہم مقام اور اقتصادی بنیادیں موجود ہیں‘ اس لئے جو فیصلہ اپنے اور دشمن کے وقتی محل وقوع کے چار اہم نکات میں سے ایک ہے جس کی منصوبہ بندی سے متعلق بعض فیصلے کرنے سے قبل سوچ و بچار کرنا چاہئے اس میں کسی شک و شعبے کی گنجائش نہیں ہے۔ دنیا کے تمام عسکری ادارے جغرافیے کی تعلیم پر زور دیتے ہیں‘ ہم جب سن زوکی کتاب ”جنگی فن“ کا جائزہ لیں گے تو معلوم ہوگا کہ جغرافیہ جیسے اہم موضوع کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

نتیجہ:
جنگی حکمت عملی کے اہمیت سے وابستہ مقامات آبنائے (STRAITS)خلیج (GULF)دریا اور ہوائی اڈے ہوتے ہیں جہاں سے گائیڈڈ میزائل چھوڑے جاتے ہیں جن کا گھیراؤ اور ان پر کنٹرول کرنا لازمی سمجھا جاتا ہے‘ ان مقامات پر دشمن سے پہلے اپنا قبضہ ضروری ہوتا ہے جس کے دو طریقے ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ جس ملک میں ایسے اہم مقامات ہوتے ہیں اس کو اپنا اتحادی بنانے کیلئے سفارتی کوششیں کی جاتی ہیں‘ دوسرا یہ کہ دوستانہ عہد نامے کے ذریعے ایسے مقامات کرائے یا اجارے پر لے لئے جاتے ہیں تاکہ انہیں دشمن فریق استعمال نہ کرسکے۔

بعض ایسے مقامات بھی ہوتے ہیں جنہیں عسکری مقاصد کیلئے لڑکر بھی حاصل کیا جاتا ہے۔ ایسے مقامات میں مواصلات کے مراکز‘ فوجی اقتصادی اور سیاسی اہمیت کے حامل مقامات آتے ہیں۔ کچھ ایسے مقامات بھی ہیں جن پر قبضہ کرنے کے بعد تمام ترجنگی صورتحال پر غلبہ حاصل ہوجاتا ہے اور فوجی یونٹ اپنی مرضی کے مطابق بھجوائے جاسکتے ہیں‘ اس جگہ پر حملہ بھی باآسانی کیا جاسکتا ہے اور پیچھے ہٹنے میں بھی آسان ہوتی ہے‘ اشیائے خوردنوش کو محفوظ رکھا جاسکتا ہے اور اہم جنگی تبدیلیاں بھی باآسانی لائی جاسکتی ہیں۔

جنگی چال اور عسکری تدابیر کیلئے اہم مقامات یہ ہیں۔ جنگی میدان کے قریب اونچے میدان‘ مواصلات کے اہم مراکز‘ کھلی ہوئی ہموار زمین پر قائم مضبوط اور طاقتور مراکز‘ دریائی گزر گاہ اور دشمن کی حد میں قائم دفاعی مورچے وغیرہ۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔