جنگی حکمتِ عملی | دسواں باب – جنگ کے عالمگیر قوانین (حصہ دوئم)

83

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ
جنگی حکمتِ عملی اور اُس کا تحقیقی جائزہ

مصنف: سَن زُو
ترجمہ: عابد میر | نظرِثانی: ننگر چنا

قسط 19  دسواں باب – جنگ کے عالمگیر قوانین – (حصہ دوئم)

اقتصادی پہلو
سن زو کے ”اصولِ اقتصادت کے جنگ پر اثرات“ کا تجزیہ کرنے سے قبل ہمارے لئے ضروری ہے کہ ”گئان ژی“ نامی کتاب کا جائزہ لیں جو سن زوکی کتاب ”جنگی فن“ سے لگ بھگ ایک صدی قبل شائع ہوئی تھی۔ اس کتاب سے کتاب کے مصنف گئان ژانگ کے فوجی اقتصادیات سے متعلق خیالات کا پتہ چلتا ہے‘ اس کے ساتھ یہ معلومات بھی ملتی ہے کہ قدیم چین میں کون سے فوجی اصول و ضوابط موجود تھے۔ ’گئان ژی‘ نامی کتاب میں لکھا ہے کہ ”اگر ایک شاہوکار ملک ہے تو وہاں ہر چیز بے تحاشہ موجود ہوگی اور اگر جنگ معینہ مدت سے بڑھ بھی گئی تو بھی اسے کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی‘ اگر کسی ملک کے پاس شاندار ہتھیار ہیں تو دشمن کے بار بار کے حملوں کے باوجود وہ ملک جنگ سے کبھی نہیں تھکے گا‘ فوج کیلئے اہم ہتھیار ہوتے ہیں اگر آپ کے پاس مطلوبہ اور بہتر ہتھیار موجود نہیں ہیں تو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ٓآپ اپنے فوجی مفت میں مروارہے ہیں‘ اگر آپ ایک برس کیلئے دشمن سے لڑیں گے تو دس برس کے جمع کردہ ہتھیار ختم ہوجائیں گے‘ اگر جنگ جیتنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جائے گا تو آپ کے پاس موجود ہر چیز ختم ہوجائے گی۔“ ان تمام باتوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بڑی رقم اور بہترین ہتھیاروں کے بغیر جنگ کرنا انتہائی مشکل ہے۔

سن زو نے بھی جنگی سرگرمیوں اور اقتصادیات کے مابین موجود تعلقات کو انتہائی زیادہ اہمیت دی ہے‘ اس کا کہنا ہے کہ ”جنگ صرف ہتھیار سے شروع کی جائے‘ جب چار گھوڑوں والے ہزار رتھ، ایک ہزار بڑے رتھ اور ایک ہزار زرہ بکتر میں ملبوس فوجی سپاہی میسر نہ ہوں‘ اشیائے خوردونوش اور جنگی سامان کو ایک ہزار ’لی‘ تک پہنچانے کا پورا بندوبست ہو‘ ملک اور جنگی محاذ پر جاری اخراجات کی ادائیگی ہوتی ہو‘ سفارتکاروں و مشیروں کے لئے بہتر معاوضے کا بندوبست ہو‘ اسی طرح گوند‘ رنگ اور پالش کے لئے لاکھ‘ رتھ و زرہ بکتر کیلئے روزانہ ایک ہزار سونے کے سکوں کی ضرورت ہوگی‘ جب اتنے پیسے موجود ہوں گے تبھی ایک لاکھ فوج روانہ کی جاسکے گی‘ اگر آپ اتنی بڑی فوج لے کر دشمن سے جنگ کرنا چاہیں گے تو آپ کے لئے ضروری ہے کہ دشمن کو وقت ضائع کئے بغیر شکست دے دیں‘ اگر جنگ بڑھ گئی تو فوج دل شکستہ ہوجائے گی اور ہمت ہار بیٹھے گی‘ شہروں پر حملہ کرنے سے فوج کی قوت ضائع ہوجاتی ہے۔“

اس کا مزید کہنا ہے کہ ”جنگی ماہر دیگر فوجی امداد اور اشیائے خوردونوش دو وقت سے زیادہ طلب نہیں کرتے۔ ایسے دانشمند کمانڈر ہتھیار وغیرہ اپنے ملک سے اٹھاتے ہیں لیکن اشیائے خوردو نوش اور دیگر سامان دشمن ملک سے حاصل کرلیتے ہیں یوں فوج کو خوردونوش سے متعلق اچھا خاصا سامان مل جاتا ہے‘ اگر ملک جنگی سرگرمیوں کے باعث مفلس اور کنگال ہوجائے تو سمجھ لینا چاہئے اشیائے خوردونوش و دیگر سامان بہت بڑے فاصلے سے فوج کے پاس پہنچایا گیا ہے‘ ایسے سامان کا بڑے فاصلے سے پیدل لے جانا لوگوں کو محتاج بنا دیتا ہے‘ جب جنگ کے مقاصد سے فوجیں ایک جگہ جمع ہوتی ہیں تو ہر چیز کے دام بڑھ جاتے ہیں‘ لوگوں کے پاس جمع شدہ رقم بھی ان کے ہاتھوں سے نکل جاتی ہے‘ ملک سے پیسہ نکل جانے کے باعث سارا بوجھ کسانوں مزدوروں پر جاپڑتا ہے اور ان پر بے انتہا محصولات تھونپ دیے جاتے ہیں‘ دولت کے ضائع ہونے اور طاقت کے ختم ہوجانے سے وسطی میدانی علاقوں کے گھریلو حالات انتہائی خراب ہوجاتے ہیں اور ان کی دولت کا تین چوتھائی حصہ ان کے ہاتھوں سے نکل جاتا ہے‘ اس کے علاوہ ٹوٹے ہوئے رتھ‘ بے کار زرہ بکتر‘ ٹوٹے پھوٹے تیر کمانوں‘ ڈھالوں‘ تھکے ماندے بوجھ ڈھوتے بیلوں‘ جنگی گھوڑوں کے لئے بندوبست ٹوٹی ہوئی گاڑیوں کی مرمت کیلئے ملکی دولت کا ساٹھ فیصد خرچ ہوجاتا ہے۔“

اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ سن زو نے اقتصادیا ت یا ملک کے مالی حالات کی اہمیت پر بہت زور دیا ہے‘ اس کے فوری فیصلے کیلئے تیز رفتار جنگ کا تصور بھی اس خیال سے تعلق رکھتا ہے‘ اس کا خیال ہے کہ طویل جنگ کے باعث ملکی خزانہ بلاوجہ ضائع ہوجاتا ہے‘ اگر خزانہ سے وابستہ وسائل ختم ہوجائیں گے تو لوگوں پر اضافی محصولات تھونپے جائیں گے‘ ان حالات میں ہمسایہ حکمران حملہ آور ہوجائیں گے‘ اس کے بعد بھی ناروا حالات ہوں گے کوئی بھی دانشمند حکمران ان کا مقابلہ نہیں کرپائے گا۔

سن زو حقیقت پسند اور عملی آدمی تھا جس نے جنگ اور اقتصادیات کے تعلقات کو بیان کرتے ہوئے دشمن ملک کے وسائل اور لوگوں کو استعمال کرنے پر بہت زور دیا ہے‘ اس نے لکھا ہے کہ ”دشمن ملک سے ہاتھ کی گئی اشیائے خوراک و استعمال کی دیگر اشیاء کا ایک ژونگ (جو قدیم چین کا ناپ تول کا ایک آلہ ہے جیسے کلو کا باٹ) اپنی اشیائے خوراک کے 20 ژونگ کے برابر ہے خوراک کا ایک ’شے‘ (قدیم چین کا ایک باٹ جو 60 کلو گرام کے برابر ہے) اپنی اشیائے خوراک کے 20 ’شے‘ کے برابر ہے۔“ اس کا اس بات پر زور ہے کہ اپنی فوج کے بہادر سپاہیوں کو کشادہ دلی کے ساتھ انعامات دیئے جائیں اور جنگی قیدیوں کے ساتھ بہتر سلوک روا رکھا جائے‘ جنگی امداد کے نقطہ نظر سے ہاتھ آنے والے دشمن کے ہتھیاروں جنگی سامان اور جنگی قیدیوں کو بھی استعمال میں لایا جائے‘ نومولود جاگیردار طبقے کے لئے اس کی ایسی باتیں نہایت ترقی پسندانہ سمجھی جاتی ہیں۔

چین کی آزادی کی جنگ کے دوران جیانگ جیشی کے لاکھوں فوجی پی ایل اے کے ہاتھوں یرغمال ہوگئے تھے جو سیاسی تربیت لینے کے بعد پھر پی ایل اے کے ساتھ مل کر چین دشمنوں کے ساتھ لڑے تھے‘ اس طرح کئی توپیں، ٹینک اور ہوائی جہاز بھی ہاتھ آئے جن کی چین کی سیاسی تاریخ میں مثال ہی نہیں ملتی‘ اس بات کو جنگ میں فتح حاصل کرنا اور مستحکم ہونا کہا جاتا ہے۔

قدیم اور جدید دور کی جنگوں کا موازنہ کیا جائے گا تو پرانے دور کی جنگوں کی نسبت موجودہ دور کی جنگوں میں اقتصادیات کا زیادہ گہرا تعلق نظر آئے گا‘ مضبوط و مالی طور پر زیادہ طاقتور ملک امریکہ، ویتنام کی طویل جنگ میں ہار چکا ہے‘ ویتنام میں مقرر امریکی جنرل ویسٹ مورلینڈ نے بھی اپنی فوجی کی پسپائی کے بارے میں سن زو کا حوالہ دیا کہ طویل جنگ سے کسی ملک کو فائدہ نہیں ہوتا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔