جنگی حکمتِ عملی | دسواں باب – جنگ کے عالمگیر قوانین (حصہ اول)

101

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ
جنگی حکمتِ عملی اور اُس کا تحقیقی جائزہ

مصنف: سَن زُو
ترجمہ: عابد میر | نظرِثانی: ننگر چنا

قسط 18  دسواں باب – جنگ کے عالمگیر قوانین – (حصہ اول)

سن زو نے اپنی کتاب ”جنگی فن“ کے باب ”جاسوسوں کا استعمال“ میں اشارہ کیا ہے کہ ”سچا حکمران اور دانشمند جرنیل اپنے دشمن کو فقط تبھی شکست دے سکتا ہے جب اس نے جنگ سے متعلق صحیح اندازے لگائے ہوں گے۔“ صحیح انداز کی پیش گوئی نہایت ضروری ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ سے قبل آپ اپنے اور دشمن کے حالات کا صحیح اندازہ لگائیں۔ سن زو نے اپنی کتاب کے باب ”پیش قدمی کی حکمت عملی“ میں لکھا ہے کہ ”پہلے اپنے دشمن کو پرکھیں پھر اپنی قوت و طاقت کو جانچیں‘ تب آپ بغیر کسی شکست کے ایک سو جنگیں لڑ سکتے ہیں۔ اگر آپ نے دشمن کو پرکھا نہیں فقط اپنی قوت و طاقت کا جائزہ لیا ہے لیکن اپنے دشمن کی جانچ پرکھ نہیں کی تو یہ جان لیجئے کہ آپ یہ جنگ ہاریں گے۔“ حیقت یہی ہے کہ چین یا دنیا کے جدوجہد و قدیم عہد کا کوئی بھی کمانڈر سن زو کے قائم کردہ ان جنگی اصولوں سے لاپرواہ نہیں رہ سکتا۔

جنگ کا یہ عالمگیر قانون جس کی کوئی مثال ہی نہیں‘ سن زو کے نقطہ نظر کی انتہائی بہترین نمائندگی کر رہا ہے‘ فلسفے کے لحاظ سے یہ سادہ مادیت کا ایک روپ ہے‘ جنگی اصولوں کے نقطہ نظر سے اندازوں اور تجربوں کیلئے یہ ایک بنیادی قانون ہے‘ جنگ کیلئے حکم دینے کے نقطہ نظر سے ایسے حالات کا انتخاب کیا جاسکتا ہے جس کا نتیجہ فتح ہوتا ہے اس کے بعد ایسے مواقع پر نظر رکھنی ہوتی ہے جن سے یقینی فتح کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

جدید جاسوسی معلومات
موجودہ دور میں سوویت یونین اور امریکہ ایک دوسرے کی جاسوسی کرنے کیلئے اس قدر رقم خرچ کررہے ہیں کہ سن کر آدمی انگشت بدنداں رہ جائے‘ امریکہ کے محکمہ جاسوسی کے جنرل کا بیان ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے مقاصد کے لئے 50 سے 75 بلین ڈالر خرچ ہوچکا ہے‘ انہوں نے مزید بتایا کہ اس کے باوجود امریکہ 1941ء میں پرل ہاربر پر حملے کے دور سے بہتر حیثیت میں نہیں ہے‘ جہاں تک سوویت یونین کا تعلق ہے تو یہ ملک فوجی اخراجات کو انتہائی خفیہ رکھتا ہے اس لئے یہ پتہ نہیں لگایا جاسکتا ہے کہ اس کا جاسوسی کا کل خرچہ کتنا ہے۔

ماؤزے تنگ نے سن زو کے اصولوں کو بہت سراہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آج یہ اصول سائنسی سچائی کا درجہ حاصل کرچکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے مقالہ ”چین کی انقلابی جنگ میں حکمت عملی کے مسائل“ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ بعض لوگ اپنی طاقت و قوت کا جائزہ تو لے لیتے ہیں لیکن اپنے دشمن کا جائزہ نہیں لیتے‘ دوسرے بھی کچھ ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو نہ تو جنگی قوانین سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں نہ ہی جنگی صورتحال کے مطابق انہیں لاگو کرتے ہیں‘ قدیم چین کے ایک جنگی ماہر سن زو کا یک مشہور قول ہے کہ پہلے اپنے دشمن کا جائزہ لو پھر اپنی قوت کو پر کھو تو تم بغیر شکست کے ایک سو جنگیں لڑ سکتے ہو‘ یہ قول دونوں باتوں یعنی جنگی قانون سیکھنے اور انہیں جنگ پر لاگو کرکے دشمن کو شکست دینے کیلئے اپنے ذاتی اعمال کے حوالے سے مستحکم فیصلہ کرنے سے تعلق رکھتا ہے‘ ہمیں اس کی اس قول کوعام رواجی بات نہیں سمجھنا چاہئے۔“

آئیے سن زو کے ان خیالی اصولوں کا سیاسی اقتصادی اور جنگی حکمت عملی کے فن سے تقابل کرکے اچھی طرح سے جائزہ لیں۔

سیاسی پہلو
سن زو نے ایسی تھوڑی سی باتوں پر بحث کی ہے جن کا سیاسی پہلو سے تعلق ہو‘ مثال کے طور پر وہ کہتا ہے کہ جنگ ملک کیلئے نہایت مشکل اور اہم مسئلہ ہوتی ہے‘ یہ موت اور زندگی کا معاملہ ہے‘ یہ ایک دوراہا ہے جہاں ایک راستہ زندگی کی طرف اور دوسرا تباہی کی طرف جاتا ہے‘ اس لئے جنگ کے بہتر نتائج کے لئے اس کا گہرا جائزہ لینا‘ اس کی اہم پانچ باتوں پر سوچ و بچار کرنا‘ اپنے اور دشمن کے مختلف حالات کا جائزہ انتہائی ضروری ہے۔ ان میں پہلی بات سیاست‘ دوسری موسم‘ تیسری جغرافیائی صورتحال‘ چوتھی دانشمند کمانڈر اور پانچویں اصولوں کی سختی سے پابندی ہوتی ہے۔ جنگ کے دوران اہم بات دشمن کی حکمت عملی پر حملہ کرنا ہوتا ہے لیکن اس سے بھی اہم بات دشمن کو اس کے اتحادیوں سے الگ کرنا ہوتا ہے۔“

اس کے اکثر بیانات اس حقیقت سے تعلق رکھتے ہیں کہ سیاسی سرگرمیاں جنگ سے قبل یا جنگ کے دوران شروع کی جائیں۔مذکورہ بالا جنگی اصول سن زو کے دور سے قبل کبھی بھی منظم طریقے سے استعمال نہیں کئے گئے تھے‘ وہ پہلا آدمی ہے جو جنگی کارکردگی کو اپنے ایک خاص طریقہ کار سے سیاسی دائرے میں لایا ہے۔ سیاست سے متعلق اس کا نظریہ یہ ہے کہ حکمران و رعایا کے مابین بہتر ناطے اور تعلقات ہونے چاہئیں‘ جس کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر حاکم کے عوام سے اچھے تعلقات ہوں گے تو وہ ان پر اپنی مرضی تھونپ سکے گا اور اپنی رعایا کو اپنے ساتھ لے کر بغیر کسی خوف کے جنگ میں شریک ہوجائے گا۔ اس حقیقت کو یوں بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ ایسی سیاسی کامیابی کے بعد دشمن کو شکست دی جاسکتی ہے۔ کمانڈرز سے اس کی مراد ہے کمانڈر کی اہلیت و دانش‘ اصولوں کا مطلب ہے فوجی تنظیم و ترتیب اور اس سے متعلق بنائے گئے قانون و ضوابطہ۔ مختصراً یہ کہ پانچ میں سے تین باتیں سیاست سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس کے بیان کردہ سات عناصر میں سے پہلا‘ دوسرا‘ چوتھا‘ پانچواں اور ساتواں براہِ راست سیاست سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر کون سا حکمران سچا اور دانشمند ہے یا کون سا کمانڈر اپنی فوج کو فوجی اصولوں اور ضابطوں کی پابندی کروانے میں عقلمندی سے کام لے رہا ہے؟ اسے یہ علم ہونا چاہئے کہ اس کی فوج کا کون سا حصہ زیادہ مضبوط ہے‘ کون سا حصہ انعام کے قابل اور کون سا حصہ سزا کے قابل ہے؟ لیکن ان باتوں میں کمانڈر کا روشن خیال ہونا لازمی ہے۔

سن زو قدیم چین کا وہ پہلا آدمی ہے جس نے سفارتکاری کو جنگی فتوحات کے لئے انتہائی اہم جانا تھا‘ اس دانشمند آدمی سے قبل سفارتکاری کے موضوع پر ایک جیسی بحث ہوتی تھی لیکن انہوں نے اس بات کو سن زو کی طرح اہم سمجھ کر اس کا نچوڑ نہیں نکالا تھا۔ سن زو نے جنگ اور سیاست کے تعلق پر بہت بحث کی ہے‘ اس کے بعد وہ آگے بڑھ کر جنگ کے ظلم کی سختی اور تباہی کا ذکر کرتا ہے‘ یہ دانشمند آدمی اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ ’جب جنگ کے باعث آپ کے ہتھیار بے کار و جنگی اشتیاق مدہم‘ قوت و خزانہ ختم ہوجائے گا تو تب ہمسایہ ممالک کے حکمران آپ کے ملکی مسائل اور مشکلات کا فائدہ لیں گے‘ کوئی انتہائی دانشمند آدمی بھی ایسے کٹھن حالات کا مقابلہ کرکے ملک کو تباہی سے نہیں بچا پائے گا۔‘

یہ ایک حقیقت ہے کہ سن زو اپنے اصولوں مثلاً ’جنگ سیاست کا ایک لگاتار سلسلہ ہے‘ یا ’سیاست بغیر خون خرابے کی ایک جنگ ہے‘ کو سائنسی ترتیب نہیں دے پایا لیکن اسے یہ اچھی طرح علم تھا کہ یا تو تم فتح مند ہوگے یا تمہیں شکست ہوگی۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس بات کا انحصار اس حقیقت پر ہے کہ کیا آپ کی حکومت ایماندار اور بہادر ہے اور آپ کی حکومت کا طریقہ کار بہتر ہے؟ وہ اپنی کتاب کے باب ”فوجی ترتیب و تقسیم“ میں کہتا ہے کہ ”جو حکمران جنگ کے ماہر ہوتے ہیں وہ سیاسی ماحول پیدا کرتے ہیں، قانون و اداروں کو اہمیت دیتے ہیں اس لئے وہ کامیاب پالیسیاں مرتب کرپاتے ہیں۔“ سن زو اس لئے بھی قابل تحسین ہے کہ اس نے جنگ کے سیاسی اثر کو محسوس کرلیا تھا۔

کارل وون کلازوز کا کہنا ہے کہ ”جنگ سیاست کا ایک سلسلہ ہے۔“ اس مشہور قول کو مغرب میں صاحب بصیرت حضرات نے بہت سراہا ہے لیکن اب یہ لگتا ہے کہ یہی قول قدیم چین کی تحریروں میں بھی موجود ہے‘ یہ بھی معلوم ہوگا کہ جنگی حکمت عملیوں کا تعلق کن گھرانے کے دور سے ہے‘ ہمیں یہ واضح بیان نظر آئے گا کہ ’چپ کرکے بیٹھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے، کوشش کئے بغیر ملک کی حدود نہیں بڑھائی جاسکتیں‘ پانچ شہنشاہ اور تین بادشاہ بھی چپ کرکے بیٹھنے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کرپائے تھے‘ یہ مقصد صرف جنگ کے ذریعے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ فائدہ حاصل کرنا اور ملکی سرحدوں کو وسعت دینا سیاسی مقصد ہے اور ایسے مقاصد صرف جنگ سے ہی حاصل کئے جاسکتے ہیں۔

”سن بن“ نے بھی ’جنگی فن‘ نامی ایک کتاب لکھی تھی جو ”ین کیو“ نامی پہاڑی کی کھدائی سے ہاتھ لگی ہے۔ اس کتاب میں لکھا ہے کہ جو بادشاہ پانچ شہنشا ہوں اور تین بادشاہوں جتنا سیانا اور باشعور نہیں ہے وہ انسانی بھلائی‘ انصاف و شرافت کا مجسمہ نہیں بن سکتا۔ حقیقت یہی ہے کہ یاؤ اور شن (قدیم چین کے دیو مالائی حکمران) کی دلی تمنا بھی یہی تھی کہ وہ ایسی اچھی باتوں کے لئے کوششیں کرتے ہیں لیکن انہیں یہ باتیں ناممکن نظر آئی تھیں۔ ان میں سے ایک نے تو لوگوں کے مسائل کو طاقت کے زور پر حل کرنے کی کوشش کی تھی‘ یہ حقیقت جنگ کے ذریعے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے برابر ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔