بگرام ایئر بیس پر حملے کے بعد امریکہ، طالبان مذاکرات میں ’وقفہ‘

92

امریکہ کے نمائندۂ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے افغانستان میں قائم امریکی ہوائی اڈے پر حملے پر ”غم و غصے” کا اظہار کرتے ہوئے طالبان کے ساتھ جاری مذاکرات میں چند روز کے وقفے کا اعلان کیا ہے۔

اس بات کا اعلان زلمے خلیل زاد نے جمعے کو اپنی ٹوئٹ کے ذریعے کیا۔ خلیل زاد نے کہا کہ جمعرات کو طالبان رہنماؤں سے ملاقات کے دوران انہوں نے بگرام ایئر بیس پر بدھ کو ہونے والے حملے پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس حملے میں دو شہریوں کی جان گئی جب کہ درجنوں افراد زخمی ہوئے۔

زلمے خلیل زاد نے کہا کہ افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے طالبان کو اپنی اہلیت ثابت کرنی ہوگی اور اس بات کا بھی اظہار کرنا ہوگا کہ وہ امن کی کوششوں کے لیے تیار ہیں۔

خلیل زاد نے کہا کہ وہ قطر میں جاری طالبان سے مذاکرات میں ایک مختصر وقفہ کر رہے ہیں تاکہ طالبان اس اہم معاملے پر اپنی قیادت سے مشورہ کر سکیں۔

طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے زلمے خلیل زاد کے بیان پر تبصرہ کیے بغیر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ طالبان اور امریکہ چند روز کے وقفے کے بعد دوبارہ مذاکرات شروع کریں گے۔

اپنے ٹوئٹ میں سہیل شاہین نے کہا کہ وہ اپنی قیادت سے مشاورت کریں گے۔

یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان رواں سال ستمبر میں معطل ہونے والے مذاکرات کا سلسلہ گزشتہ ہفتے دوبارہ شروع ہوا تھا۔ پانچ روز تک جاری رہنے والی بات چیت سے متعلق اب تک کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق امریکہ طالبان پر جنگ بندی اور تشدد میں کمی پر زور دے رہا ہے۔ لیکن طالبان کا مؤقف ہے کہ ان معاملات پر کوئی بھی پیش رفت امریکہ کے ساتھ امن معاہدہ طے پانے کے بعد ہی ہو سکتی ہے۔