بلوچ خواتین کی گرفتاری کے خلاف کوئٹہ میں مظاہرہ

135

بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن اور وائس فار بلوچ مِسنگ پرسنز کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے بلوچ خواتین کی ماورائے عدالت گرفتاری اور ان خواتین پر دہشتگردی میں سہولت کاری کا الزام لگانے کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرین میں سول سوسائٹی سمیت مختلف طبقہ فکر کے لوگوں نے شرکت کی۔ ان احتجاجی مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینرز اٹھائے ہوئے سکیورٹی فورسز کی جانب سے حراست میں لئے جانے والے خواتین کی بازیابی کے لئے نعرے لگائے اور خواتین کو سہولت کاری کے الزام میں ملوث کرنے کی شدید مذمت بھی کی۔

احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے چئیرپرسن بی بی گل بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں پچھلے کئی سالوں سے جاری سکیورٹی فورسز کے آپریشنوں کی وجہ سے عام انسانوں کی زندگی اجیرن بن چکی ہے۔پہلے پہل سیاسی عمل سر انجام دینے والوں کو ماورائے عدالت گرفتار اور قتل کیا جاتا رہا ہے اسکے بعد اس میں تیزی لاتے ہوئے خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔بلوچ سماج میں خواتین کو ایک اہم سماجی حیثیت حاصل ہے لیکن سیکورٹی فورسز کی کاروائیوں کی وجہ سے بار بار اس حیثیت کو پامال کیا جارہا ہے جو بحثیت ایک انسان تشویشناک امر ہے۔

بی بی گل بلوچ نے مزید کہا کہ اسی تسلسل کو جاری رکھتے ہوئے آواران کے مختلف علاقوں سے چار خواتین کو بچوں سمیت ماورائے عدالت گرفتار کیا گیا جن کی شناخت سید بی بی، حمیدہ، سکینہ بی بی اور نازل کے نام سے ہوئی۔دوران تفتیش انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔جبکہ اس سے قبل ڈیرہ بگٹی کے علاقے اوچ سے نصف درجن بلوچ خواتین کو ماورائے عدالت گرفتاری کے بعد نا معلوم مقام منتقل کردیا گیا ہے۔

عالمی قانون اور آئین پاکستان کو پامال کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز نے خواتین کو گرفتار کیا انکے بعد انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور تفتیش کے دوران ثبوت نہ ملنے پر انہیں دہشتگرد اور مسلح کاروائیوں میں ملوث تنظیموں کے سہولت کاری کے الزام دیکر حوالہ پولیس کردیا گیا۔اور ان خواتین پر جعلی کیس بنا کر تفتیش کا حکم دیا گیا جو مظالم کی انتہا ہے۔حالانکہ ان خواتین کو علاقہ مکین اور انکی فیملی کے لوگوں کے سامنے ماورائے عدالت گرفتار کیا گیا۔اس طرح کے جعلی کیسز میں خواتین کو نامزد کرنے کا مقصد ڈر اور خوف کے ماحول کو مزید بڑھاوا دینا ہے۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چئیرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ اجتماعی سزا کے طور پر خواتین کی جبری گمشدگی لمحہ فکریہ ہے اور اس پر مزید یہ کہ خواتین کو دہشت گرد ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی گئی جو سراسر بلوچ عوام کے ساتھ نا انصافی ہے جس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی پامالیاں سنگین رخ اختیار کرتی جارہی ہیں جبکہ اس مسئلے پر حکومت اور سیاسی پارٹیوں کے خاموش تماشائی کے کردار نے اس مسلئے کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ماما قدیر بلوچ نے مزید کہا کہ ایسے دلخراش واقعات کو مین اسٹریم میڈیا میں نظر انداز کرنے کی وجہ سے ایسے واقعات دب جاتے ہیں اور غیر اعلانیہ آپریشن و کاروائی کرنے والے بلا جھجک بلوچستان میں انسانی حقوق کی قوانین کو پامال کرتے رہینگے۔
مظاہرین سے خطاب میں وائس چئیرپرسن طیبہ بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں میں انسانی حقوق کے اداروں کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے۔یہ ادارے برائے نام انسانی حقوق کے ادارے بن چکے ہیں جنہیں بلوچستان میں خواتین کی جبری گمشدگی دکھائی نہیں دیتی جو انسانی حقوق کے لئے ایک المیہ ہے۔

طیبہ بلوچ نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ آف پاکستان،حکومت پاکستان،حکومت بلوچستان اور دیگر تمام متعلقہ اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا نوٹس لیکر خواتین اور بچوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔جبکہ خواتین کو لاپتہ کرنے اور ان پر جعلی مقدمات درج کرنے والے افراد کو قانون کے مطابق سزا سنائی جائے۔
پولیس کے حوالے کئے جانے والے آواران کے خواتین سمیت ڈیرہ بگٹی و دیگر بلوچ علاقوں سے لاپتہ ہونے والے خواتین بچوں اور سیاسی اسیروں سمیت تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے۔