بلوچستان میں نوآبادیاتی نظام کو تقویت دی جارہی ہے – ڈاکٹر حئی بلوچ

74

کوئٹہ پریس کلب میں نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقعے پر سیمینار باعنوان ”بین الاقوامی انسانی حقوق کا دن اور بلوچستان“ منعقد کیا گیا۔

پروگرام کی صدارت نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نے کی جبکہ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماء رضا وکیل، وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ، بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی چیئرپرسن بی بی گل بلوچ، وومن ڈیموکریٹک فرنٹ کی رہنماء جلیلہ حیدر، بلوچستان یونیورسٹی کے پروفیسر منظور بلوچ اور مرکزی ڈپٹی آرگنائزر این ڈی پی شاہ زیب بلوچ نے خطاب کیا۔

پروگرام کا آغاز شہداء کی یاد میں دو منٹ خاموشی سے کھڑے ہوکر کیا گیا۔

مقررین نے کہا کہ بلوچستان میں بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں تسلسل کے ساتھ ہورہی ہے، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کو ان کا آئینی حق فراہم کرے جو لاپتہ افراد ہے ان کو فوراً منظر عام پر لایا جائے اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات کی فوری طور بند کرکے واقعات میں ملوث ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

ڈاکٹر حئی بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا حالیہ دنوں آواران میں بے گناہ خواتین کو جس طرح سے مجرم کے طور پر پیش کیا گیا اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے کیونکہ اس طرح کا رویہ ریاست اپنے شہریوں کے ساتھ نہیں کرتی ہے بلکہ ظالم اور سامراجی ریاستیں محکوم اقوام کی دبانے کیلئے اس طرح کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں لاپتہ کرنا ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کا نظام مہذب ریاستوں کی نشاندہی نہیں کرتی بلکہ یہ ثابت کرتی ہے کہ یہاں نوآبادیاتی نظام کو تقویت دی جارہی ہے، مقامی لوگوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے کے لیے اور سیاست سے دستبردار کرنے کیلئے ایک منظم ریاستی پلان پر عمل کیا جارہا ہیں۔

ڈاکٹر حئی بلوچ نے کہا کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیشن تشکیل دے کر بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر رپورٹ مرتب کرکے اقوام متحدہ میں جمع کرائیں۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے رہنما ماما قدیر بلوچ نے سیمینار میں اعلامیہ جاری کرتے کہا کہ 15 دسمبر کے بعد مسنگ پرسنز کے احتجاجی کمیپ کو کراچی منتقل کیا جائے گا۔

خیال رہے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے ہر سال احتجاجی کیمپ کو موسم سرما میں کراچی منتقل کیا جاتا ہے جہاں ماما قدیر بلوچ کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ قائم کرکے لاپتہ افراد کے لواحقین کے ہمراہ اپنا احتجاج ریکارڈ کرتے ہیں گذشتہ سال کوئٹہ میں احتجاج میں شدت آنے پر کیمپ کراچی منتقل نہیں کیا جاسکا تھا۔

کوئٹہ پریس کلب میں منعقد سیمینار میں لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے ٹیبلو شو بھی پیش کیا گیا جس میں لوگوں کی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے واقعات کو اجاگر کیا گیا، شو میں خواتین اور بیرون ممالک میں بلوچ افراد کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کے مناظر بھی دکھائے گئے۔