بغداد: امریکی سفارت خانے کے باہر پرتشدد مظاہرہ

88

بغداد: ملیشیا اڈوں پر امریکی حملے کے بعد ایران کے حمایتی گروہوں کی جانب سے عراقی دارالحکومت میں امریکی سفارت خانے کے باہر پُرتشدد مظاہرہ

عراق کے شہر بغداد میں منگل کو ہزاروں مظاہرین اور ملیشیا کے جنگجوؤں نے امریکی سفارتخانے کے باہر جمع ہو کر پرتشدد احتجاج کیا ہے۔

مظاہرین اتوار کو عراق اور شام کی سرحد کے قریب ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کتائب حزب اللہ کے اڈوں پر امریکی فضائی حملوں کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔

امریکی افواج نے یہ حملہ ایک عراقی فوجی اڈے پر راکٹ حملے میں امریکی کنٹریکٹر کی ہلاکت کے ردِعمل میں کیا تھا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق عراق کے وزیرِ اعظم عبدالمہدی کی جانب سے ان حملوں کی مذمت کی گئی ہے جس میں 25 جنگجو ہلاک اور 55 زخمی ہوئے تھے۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق مظاہرین نے سفارتخانے پر دھاوا بولنے کی کوشش کی ہے۔

اے پی کے مطابق دھاوا بولنے کی یہ کوشش امریکی حملے میں ہلاک ہونے والے ملیشیا جنگجوؤں کے جنازوں کے بعد ہوئی جس کے بعد وہ سخت سیکیورٹی والے بغداد کے گرین زون کی جانب مارچ کرتے ہوئے امریکی سفارتخانے تک پہنچ گئے۔

اس کے علاوہ مظاہرین نے امریکہ کے خلاف نعرے بازی کی، پانی کی بوتلیں سفارتخانے پر ماریں، اور باہر لگے سیکیورٹی کیمرے توڑ دیے۔ اس کے علاوہ انھوں نے دیواروں اور کھڑکیوں پر کتائب حزب اللہ کی حمایت میں وال چاکنگ بھی کی۔

روئٹرز نے عراقی وزارتِ خارجہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ بغداد میں امریکی سفیر اور سفارتی عملے کو وہاں سے نکال لیا گیا ہے۔

مظاہرین کو سفارت خانے میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے عراقی سپیشل فورسز کے دستے مرکزی دروازے پر تعینات کر دیے گئے تھے۔

ان حملوں کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان عراق میں پراکسی جنگ کا خطرہ مزید واضح ہوگیا ہے۔

ان مظاہرین میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا عصائب اہل الحق کے رہنما قیس الخزالی اور کئی دیگر سینیئر ملیشیا رہنما بھی موجود تھے جبکہ عمارت کے گرد موجود باڑ پر کتائب حزب اللہ کے پرچم آویزاں کر دیے گئے۔

یاد رہے کہ عراق میں کئی ہفتوں سے حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں جو بسا اوقات پرتشدد بھی ہوئے ہیں۔

اس سے پہلے مظاہرین کربلا میں ایرانی سفارتخانے پر بھی حملہ کر چکے ہیں۔

ایران نے عراق میں اپنی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا کے خلاف امریکی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اسے ‘کھلم کھلا دہشت گردی’ اور عراقی سرزمین پر ‘عسکری جارحیت’ قرار دیا تھا۔

ایرانی خبر رساں ادارے اسنا کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے امریکہ پر زور دیا کہ وہ ‘عراق کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے اور اس کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی بند کرے۔’

اس سے قبل امریکی محکمۂ دفاع کے ترجمان جوناتھن ہوفمین کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ ‘دفاعی حملے’ کتائب حزب اللہ کے اتحادی افواج پر حالیہ حملوں کے جواب میں کیے گئے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان فضائی حملوں میں کتائب حزب اللہ کی پانچ تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جن میں سے تین عراق جبکہ دو شام میں تھیں۔

ہافمین نے کہا کہ ‘اگر ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہ کتائب حزب اللہ کو مزید امریکی دفاعی حملوں سے بچنا ہے تو اسے امریکی اور اتحادی افواج پر حملے روکنے ہوں گے۔’