آواران سے گرفتار خواتین کی عدم رہائی، بلوچستان بھر میں احتجاج

79

بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر ملک ولی کاکڑ، رکن بلوچستان اسمبلی احمد نواز بلوچ، خاتون ایم پی اے زینت شاہوانی، بی ایس او کے مرکزی جنرل سیکرٹری منیر جالب ودیگر نے کہا ہے کہ اگر بلوچستان کے ضلع آواران سے گرفتار کی گئی خواتین کو رہا نہیں کیا گیا تو احتجاجی تحریک شروع کریں گے جس میں دھرنا، احتجاجی مظاہرے، شاہراہوں کی بندش، شٹرڈان ہڑتال و دیگر شامل ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے بلوچستان  یونیورسٹی کے واقعہ کے بعد جس طرح جامعہ کے وائس چانسلر، کنٹرولر، رجسٹرار و دیگر کی پشت پناہی کی اسی طرح کا کردار آج خواتین کے معاملے پر ادا کیا جا رہا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے، پہلے نوجوانوں اور بوڑھوں کو اٹھایا جاتا تھا اب خواتین کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کو بلوچستان نیشنل پارٹی کی مرکزی کال پر کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

آواران سے گرفتار خواتین کی عدم رہائی کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی کی مرکزی کال پر بلوچستان کے مختلف اضلاع مستونگ، خضدار، نوشکی، خاران، پنجگور، بسیمہ، آواران سمیت دیگر علاقوں میں احتجاج کیا گیا جن میں پارٹی رہنماوں، کارکنان سمیت مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاج میں مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ ایک عرصہ سے جاری ہے بلوچوں کو تنگ کرنے کا سلسلہ 1948 سے شروع تھا مگر 2004 سے اس میں مزید شدت آئی اس لئے آج صوبے بھر میں بلوچ عوام سراپا احتجاج ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کی جانب سے خواتین پر دہشت گردی کے الزام لگانا قابل مذمت ہیں بلکہ وہ صرف اور صرف اپنے مراعات کے خاطر جھوٹی گواہی دے رہا ہے۔ انتہائی دکھ کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ جب پوری دنیا میں خواتین کو برابری، انہیں عزت اور احترام دیا جارہا ہے مگر یہاں صورتحال یکسر مختلف ہے یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ بلوچ خواتین بھی دہشت گرد اور دہشت گردوں کی آلہ کار ہیں۔ آواران کی خواتین کے ساتھ جو کچھ ہوا یہ صرف بلوچ خواتین کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے بلوچستان کا مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد ہم دس سال پیچھے چلے گئے آج ایک سازش کے تحت اسی طرح کے حالات پیدا کیے جارہے ہیں۔ بلوچستان میں ظلم و زیادتیوں کے سلسلے میں 2004 سے شدت آئی مگر ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم اس طرح کے حربوں سے اپنے موقف سے دستبردار ہونے والے نہیں ہیں بندوق کی زور پر کسی کا نظریہ نہیں بدلا جاسکتا۔ بلوچ نوجوانوں کو اٹھا کر بے دردی سے قتل کیا گیا اور اب خواتین کو اٹھا کر ان کے سامنے آتشی اسلحہ رکھ کر دنیا کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ یہ دہشت گرد ہیں حالانکہ ان مظلوم خواتین کے پیروں میں چپل تک نہیں ہیں جن کے سر پر دوپٹہ اور پیروں میں چپل نہیں ہو ان کے پاس اسلحہ کہاں سے آیا۔ ہم صوبائی حکومت سے کوئی اپیل نہیں کررہے کیونکہ ان کے نمائندے اپنی مراعات کی خاطر جھوٹی گواہی دے رہے ہیں۔ بلوچستان اسمبلی میں دیگر اقوام کے نمائندے بھی موجود ہیں ان میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ یہ خواتین دہشت گرد ہیں مگر ایک بلوچ کی جانب سے جھوٹی گواہی دینا باعث شرم ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان بے گناہ خواتین کو فوری طور پر رہا نہ کیا گیا تو ہم احتجاج تحریک چلانے پر مجبور ہوں گے جس میں دھرنا، مظاہرے، شاہراہوں کو بلاک کرنا اور شٹرڈان ہڑتال شامل ہیں۔