‎پاکستانی صدر کا مقبوضہ بلوچستان کے یونیورسٹی آمد – ہونک بلوچ

45

‎پاکستانی صدر کا مقبوضہ بلوچستان کے یونیورسٹی آمد

تحریر: ہونک بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

‎پاکستانی صدر عارف علوی کا مقبوضہ بلوچستان کے یو نیورسٹی آف بلوچستان میں آمد اور لائیو اسٹاک ایکسپو کے پر وگرام میں خطاب کر نا، اور بلوچستان یونیور سٹی میں آنا یہ پیغام دینا تھا کہ جتنی سماجی کرپشن یونیو رسٹی میں ہوئےہیں، انکو دھوناہے، انہوں نے تفصیل کے ساتھ لائیواسٹاک پر بحث کی اور یہ کہا کہ مویشی پالنا نبیوں کا سنت ہے دنیا میں جتنے بھی پیغمبر آئے ہیں وہ بکر ی چراتے تھے اس سنت کو آپ کو پورا کرنا چاہئے۔ ہم صر ف نبیوں کی سنت پوری کریں اور باقی دنیا چاند پرسفر کرے،ان باتوں سے بہت سے سوال پیدا ہو تے ہیں۔

‎ ایک دفعہ بھی یو نیو رسٹی کے مسئلے پر بات نہیں کی، عارف علوی کے باتوں سے مجھے ایک قصہ یاد آیا۔

‎وادی مشکے میں کھجوروں کے درخت بہت ہیں جو اپنی خوربصوتی سے اسکی نئی پہچان بن چکے ہیں،ایک تبلغی جماعت مشکے آیا تھا اس میں کچھ فوجی تھے ۔ اُس وقت بلوچ جدوجہد کی نئی نئی شروعات ہو چکا تھا تبلیغ جماعت میں ایک تبلغی نے اُس دوست سے کہا تھا کہ مشکے بہت خوبصورت اور آپ لوگ نبیوں کی زندگی بسر کر رہے ہیں بہت خو ش قسمت ہیں آپ لوگ اس طرح کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ اس بات سے مراد یہ تھا کہ آپ لوگ باقی کچھ نہیں سوچیں ہم صرف آپ کے سر زمین پر قابض ہو جائیں، اس سے مر اد یہی ہے کہ کسی طرح آپ کو یہ احساس دینا کہ آپ لوگوں کو مزید سوچنا نہیں چاہئے بلکہ جو ہو وہی رہیں، مزید بہتر کچھ نہیں کر یں ۔

‎بلوچستان یونیورسٹی میں عارف علوی خود ہیلی کا پٹر سے یونیورسٹی آیا تھا، اس سے انکی خوف خوب محسوس ہو تا ہے کہ حکومت بلوچستان بخوبی بلوچستان کی حالات کو جانتا ہے ،بلوچ جد وجہد آزادی نے ریاست کی بنیادیں ہلا دی ہیں،عارف علومی کے آمد سے ایک یا دو دن پہلے کی بات ہے پاکستان آرمی کے پالے ہوئے دو لوگوں کو بی ایل اے نے قتل کیا تھا، یہی خوف عارف علوی کو ہیلی کا وپٹر سے یونیورسٹی لے آیا۔

‎ خیر موضوع کی طرف جاتے ہیں، انکو نہیں بھولنا چاہئے اب بلوچ باشعور ہو چکا ہے اور آپ کے ہر جھوٹ کو ہم بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں، کس طرح آسانی سے کہتے ہیں پہلے آ پ کو معلوم نہیں بلوچ کے ذرائع معاش کس چیز پر ہے۔

‎ بلوچستان میں اس وقت بھی لائیو اسٹاک پر لوگ اپنی معاشی سسٹم بر قرار رکھے ہوئے ہیں لیکن اس میں آج کل جومشکلات پیدا ہو چکی ہیں اسکی وجہ پاکستانی فوج کا بلوچستان کے کونے کونے میں فوجی طاقت سے آپریشن کرناہے۔ اصل وجہ یہی ہے کہ اس وقت بلوچ قوم کی بڑی تعداد آئی ڈی پیز کی زندگی گزار رہی ہے ۔ جو اپناگزر بسر لائیو اسٹاک پر کررہے ہیں۔ بکری اور گائے پالتے تھے اور پہاڑوں میں چراتے رہے ہیں لیکن آج کوئی آزادی سے یہ نہیں کر سکتا ہے۔

‎ بلوچستان کے اکثر یتی علاقے فوج کے کنٹرول میں ہیں اور فوجی آپر یشن تیزی کے ساتھ جاری و ساری ہے، لوگوں نے اپنے گھربار چھوڑ دیا ہے۔ انکے مال مویشیوں پاکستانی فو ج اپنے قبضے میں لے کر پنجاب لے جارہی ہے۔ کس منہ سے عارف علوی بلوچستان میں آکر خطاب کر رہا تھا کہ انکو سمجھ میں نہیں آتی یہاں کی صورت حال کس طر ح ہے ، مگر میرے خیال میں جان بوجھ کر یہ سب کچھ کہہ رہا ہے،یہ پر وپیگنڈا کا ایک حصہ ہے

‎اسی پروگرام میں عارف علوی مچھلیوں کا ذکر کرتے ہو ئے کہا ہے کہ بلوچستان میں مچھلیوں کی نسل کشی ہو رہی ہے ، عارف علوی صاحب غیر محسوسات پر کچھ کہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ بلوچستان میں انسانی نسل کشی کے ساتھ یہاں ساحل کی بے دردی سے لو ٹ مار بھی کی جاتی ہے اور مچھلیوں کی نسل کشی اسکا حصہ ہے جو یہ لے جا رہےہیں ۔

‎بلوچ مچھیرے کافی وقت سے یہی فر یاد کر رہے ہیں کہ بلو چستان کے سمندر میں ٹرالنگ کی حکومت پاکستان نے اجازات دے دی ہے انکی وجہ سے یہاں سے مچھلی نایاب ہو رہے ہیں کیونکہ انھوں نے مچھلیوں کی نسل کشی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ پاکستانی صدر کی جو باتیں تھیں غیر محسوسات کے تھے حقیقت یہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مچھلی کی گند سے’’ بچّہ مچھلی‘‘ کی نسل کشی ہو رہی ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہاں جو غیر ملکی ٹرالر آپ لوگوں نے اجازات دی ہے یہاں کی مچھلیوں کی نسل کشی کر رہے ہیں ۔بلوچ مچھیروں کو اجازات نہیں ہے کہ وہ شکار کر یں لیکن بلوچ کے سمندر میں مچھیلوں کو نا یا ب کررہی ہے ۔

‎یہ تمام باتیں اپنی جگہ لیکن لا ئف اسٹاک کا پروگرام بلوچستان یورنیوسٹی میں رکھنا کسی کو یورنیوسٹی کے اندر آنے اور جانے کی اجازات نہیں تھا حتی کہ طلبا اور طالبات کو نہیں جانے دیا اس لئے عارف علوی آنے والا تھا جسے ایک سیمنار میں خطاب کرنا تھا لیکن بات اس طرح ہے یونیو رسٹی میں حالیہ جو اسیکنڈل سامنے آیا تھا ہراسمنٹ کا ہم سمجھتے ہیں اس طر ح کے پر وگرام کرنے سے یہ اپنے کئے ہو ئے کرتوں کو زائل کرنے کی ناکام کو شش ہے۔

‎بلوچ اور پشتون طلبا اور طالبا ت کو اب سمجھنا چاہئے کہ کس طر ح آپ لوگو ں کے جذبات کے ساتھ کھیل رہے ہیں آپ کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کےلئے کس کس طرح کے حربے کا استعمال ہورہا ہے، اس لیے نوجوانوں کو ہوش کے ناخن لینا چاہئے کہ اس کرپٹ نظام کے خلاف اپنی جد وجہد کو خامو ش نہیں کر نا چاہئے بلکہ اپنے صفوں میں اتحاد اور اتفاق پیدا کریں اور اپنے جد وجہد کو نئی روح دیں تاکہ ان کے نام نہاد پر وپیگنڈہ کو کنٹرول کریں۔ اپنے آنے والے طلبا اور طالبات کی زندگی کو تحفظ دینے کیلئے اپنا کردار ادا کریں ۔ یہ بات یاد رکھیں آپ لوگوں کو خامو ش کر نے کےلئے یہ کسی بھی حد تک جائیں گے لیکن آپ لو گوں کا مستقل مزاجی آپکی کا میابی کا راز ہے ۔

‎عارف علوی کی باتیں صرف مز اق کے علاوہ بلوچوں کے لئے اور کچھ نہیں ہیں، اس سے ہم باخبر ہیں آرٹی فیشنل ٹیکنا لوجی پر بات کرنا اُس کے حوالے دینا حقیقی ایک مزاق ہے یہاں آکر باتیں کر نا یہاں طلبا و طالبات کے ساتھ بلوچستان یو نیورسٹی میں کیا کچھ ہوتا ہے اس سے ہم بہتر جانتے ہیں اسی کو زائل نہیں کر سکتا ۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔