یہ دست ہیں رنگین، ان پہ لہو ہے میرے شہیدوں کا – جویریہ بلوچ

87

یہ دست ہیں رنگین، ان پہ لہو ہے میرے شہیدوں کا

جویریہ بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

میرے احساسات و جذبات نے پھر سے مجھے ایسی تحریر لکھنے پر مجبور کردیا گوکہ میں نے قلم کی نوک کو روکا تو میرا ضمیر ہی مجھے شاید قتل کردے۔ نومبر کے مہینے میں جب میں نے اپنے ہاتھوں میں مہندی لگائی تو مجھے بار بار یہ احساس ہورہا تھا اور میں یوں محسوس کرنے لگی کہ گویا یہ رنگین مہندی میرے سرزمین بلوچستان کے بہادر جوانوں کا لہو ہے، اس سرزمین پر بہنے والا یہ لہو ہر دم ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ یہاں پر بسنے والا ایسا کوئی مائی کا لال یہ ہرگز نہیں چاہتا ہے کہ وہ غلامی کی زندگی بسر کرے اور ایک ایسے ریاست کے ساتھ خود کو جوڑ دے جو کہ اُسے ہر قدم پر اذیت ہی دیتا رہے۔ بلوچستان کے زمین پر بہنے والا لہو یہ گواہی دیتا ہے کہ وہ دن بھی دور نہیں ہے جب بلوچستان ایک الگ ریاست کی صورت میں وجود میں آئے گا۔

13 نومبر کو بلوچستان کے ان بہادر جوانوں کے نام پر یہ دن منایا جاتا ہے، جنہوں نے اپنی جان کو اس سرزمین پر نچھاور کیا اور مادر وطن کے ساتھ بھی اپنے مخلص ہونے کا ثبوت دیا تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس بات سے ہردم واقف ہوں کہ غلامی کی زندگی ہرگز اس قوم کو پسند نہیں اور ایسے ملک کے ساتھ خود کو جوڑے رکھنا جہاں پر نہ شہری ہونے کے حقوق حاصل ہیں اور نہ ہی ہمارے اپنے وسائل پر ہمیں اپنے حقوق حاصل ہیں، جہاں ہماری عزتوں کو پامال کیا جائے اور جہاں پر ہماری جانیں محفوظ نہ ہوں۔

دنیا میں وہی قومیں زندہ ہیں، جنہوں نے اپنے جدوجہد کو جاری رکھا اور اپنے بقاء کے حصول کی خاطر سامراج سے لڑتے رہے۔ اپنے حقوق کے حصول کے حصول کی خاطر اور ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کی اور سامراج کے چُنگل سے خود کو ہر صورت آزاد کروایا۔

ہمیں ازسرنو جائزہ لینا پڑے گا کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جن کے بنا پر ہم پچھلے کئی سالوں سے غلامی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔

21 ویں صدی کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی اگر ہم نے عقل سے کام نہیں لیا تو شاید کہ غلامی ہمارا مقدر بن جائے۔ ہمیں بھولنا نہیں ہوگا کہ جو لہو ہمارے سرزمین کی خاطر بہہ چکا ہے وہ کبھی رائیگاں نہیں جائے گا اور اس منزل کے حصول تک یہ جدوجہد جاری رہے گی، وہ منزل جو کہ ہمیں صرف اس راستے کی طرف اشارہ دیتا ہے جو راستہ آزادی کا ہے۔

انقلابی تحریکیں ہمیشہ سے ایسے انقلاب کی صورت اختیار کرتی ہیں جن کا مقصد ہمیشہ سے آزادی رہا ہے۔ بلوچستان کی صورتحال بھی جنوبی افریقہ سے کم نہیں جب گوروں نے پہلے سیاہ فام اکثریت کو بیک جنبشِ قلم ختم کردیا، لیکن سیاہ فام اکثریت کو آپس میں لڑا کر الگ رکھنے کی یہ پالیسی تا دیر قائم نہ رہی بلکہ افریقی نسل کے لوگوں کو جلد ہی یہ احساس ہوگیا کہ قبائل اور زبان کی بنیاد پر ان کے تقسیم کا فائدہ اقلیتی گورا اٹھائے گا۔

اس صورتحال کو مد نظر رکھ کر وہ مادرِوطن پر اپنے حق کیلئے متحد ہونے لگے۔ نیلسن منڈیلا نے یہ الفاظ ادا کئے”کسی بھی قوم کی زندگی میں وہ وقت ضرور آتا ہے، جب اس کے پاس انتخاب کیلئے دو راستے ہوتے ہیں ایک اتحاد اور دوسرا جنگ۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ اب ہم کسی بھی صورت میں اطاعت گزار نہیں بنیں گے بلکہ اپنے تمام تر وسائل اور اپنی تمام تر قوت کے ساتھ اپنے عوام کا دفاع کرتے ہوئے اپنے مستقبل اور اپنی آزادی کے لئے جدوجہد کرتے رہیں گے”

اسی طرح سرزمینِ بلوچستان کے شہیدوں کا لہو اور انکی جدوجہد بھی ضرور رنگ لائے گا، اس سرزمین نے نوروز،اکبر و بالاچ جیسے بہادر جنم دئے تو بھلا اس سرزمین کے نوجوان کیسے اپنی جدوجہد چھوڑیں۔ وہ دن بلوچستان سے بھی دور نہیں جب یہ ایک الگ ریاست بنے گا اور جن بہادر ماوں کے لختِ جگروں نے اپنے جان کا نذرانہ جدوجہد آزادیِ بلوچستان کیلئے پیش کیا، وہ اپنے پیاروں کے لہو کے بہنے پر فخر محسوس کریں گے کیونکہ شہید کبھی مرتا نہیں اور آزادی کا جشن منا کر جب جھنڈے فضا میں لہرائیں گے، جن پہ لہو ہے ہمارے شہیدوں کا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔