کوئٹہ پریس کلب کے سامنے لاپتہ افراد کے لواحقین کا احتجاج

96

کوئٹہ پریس کلب کے سامنے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاج کو 3773 دن مکمل ہوگئے۔ وومن ڈیموکریٹک فرنٹ کے رہنماؤں اور کارکنان نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی جبکہ نوشکی سے جبری طور پر لاپتہ طالب علم رحمت اللہ بلوچ کے لواحقین نے کیمپ آکر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

اس موقعے پر وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج بلوچستان سلگ رہا ہے اس کی ذمہ داری عالمی قوتوں پر عائد ہوتی ہے اور پاکستان اس کا سب آرڈیننٹ ہے، عالمی قوتیں اس کو سپورٹ کررہے ہیں جس کے باعث پاکستان بلوچستان میں ظلم و بربریت جاری رکھتے ہوئے روزانہ بلوچ فرزندوں کو لاپتہ کررہا ہے۔پاکستان کو چلانے والے عالمی قوتیں ہیں، پاکستان میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ بلوچوں پہ حکمرانی کرے یا ظلم و بربریت کا بازار گرم کرے۔

انہوں نے کہا کہ انگریزوں نے محض غلامی کی بنیاد ڈالی لیکن سامراجی قوتیں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے تو بلوچوں کو خون میں نہایا اور غلام رکھا ایسے حالات میں بلوچستان کے مسئلے کا حل پیکجز میں نہیں، لاپتہ افراد کی بازیابی، جبری گمشدگیوں، فوجی آپریشنوں کی بندش ضروری ہے۔

ماما قدیر نے مزید کہا کہ بلوچستان میں ایسی پارلیمنٹ ہے جہاں بات نہیں کرسکتے ہیں، یہاں ووٹ دی جاسکتی ہے لیکن ووٹ دینے والوں کو بات کرنے کا حق نہیں دیا جاتا ہے، یہ سسٹم ایک ڈرامہ ہے، عام بلوچ کی حیثیت غلام جیسی ہے ہمیں ایسا نظام چاہیئے جہاں سب کچھ برابر ہو جو انسان اور جانور کا فرق بتاسکے۔ بلوچ باشعور ہوچکے ہیں، بلوچ جنگ نہیں چاہتی تھی لیکن ہمیں قتل کیا گیا وہ خون کی ندیاں بہاکر اور لاشیں پھینک کر بلوچوں سے کیا توقع رکھیں گے۔

دریں اثناء نوشکی سے جبری طور پر لاپتہ طالب علم رحمت اللہ کے لواحقین نے کیمپ آکر ان کے گمشدگی کے حوالے سے تفصیلات وی بی ایم پی کے پاس جمع کیے اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

رحمت اللہ کی والدہ نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میرے بیٹے کو پانچ سال سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔ انہوں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ رحمت اللہ ولد پروفیسر عبدالواحد کہ 18 جنوری 2015 کو مرکزی شاہراہ نوشکی میں قائم فرنٹیئر کور چیک پوسٹ سے سادہ کپڑوں میں ملبوس خفیہ اداروں کے اہلکار اس وقت اپنے ہمراہ لے گئے جب وہ اپنے شادی کے لیے کوئٹہ سے فرنیچر خرید کر واپس آرہا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ رحمت اللہ کے ساتھ خفیہ اداروں کے اہلکار گاڑی ڈرائیور، کلینر اور گاڑی اپنے ہمراہ لے گئے تھے جنہیں بعد ازاں چھوڑ دیا گیا لیکن رحمت اللہ تاحال لاپتہ ہے جبکہ اس حوالے سے ہم نوشکی پولیس تھانے میں ایف آر درج کرنے گئے تو انہوں نے ایف آئی درج کرنے سے انکار کیا، اس کے علاوہ ہم نے قادر بلوچ سمیت سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں سے بھی رحمت اللہ کے بازیابی کے حوالے سے رابطہ کیا لیکن تاحال وہ ہماری کوئی مدد نہیں کرسکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رحمت اللہ کو کئی لوگوں کے سامنے ایف سی چیک پوسٹ سے لاپتہ کیا گیا۔ رحمت اللہ کے والدہ نے دیگر لاپتہ افراد لواحقین کی طرح مطالبہ دہرایا کہ اگر ان کے بیٹے پر کوئی الزام ہے تو اس کو عدالت میں پیش کرکے مقدمہ چلایا جائے۔