کوئٹہ پریس کلب کے سامنے لاپتہ افراد کیلئے احتجاج

84

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے احتجاج کو 3770 دن مکمل ہوگئے۔ خضدار سے سیاسی و سماجی کارکن سعد اللہ بلوچ، کوئٹہ سے انسانی حقوق کے کارکن حوران بلوچ اور دیگر نے کیمپ کا دورہ کرکے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

وی بی ایم پی کے رہنماء ماما قدیر بلوچ نے اس موقعے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک بار پھر نام نہاد قوم پرست سامراج کی بیساکھیوں کا سہارا لینے کے لیے جتن کررہے ہیں جبکہ بلوچ قوم ان کی سیاسی جماعتوں کے بنجر پن اور منافقت کی جگہ تخلیقی قوت کے طور پر اپنے آپ کو پیش کرکے ایک فیصلہ کن کردار ادا کرنے لگے ہیں، خاص طور پر دیہاتوں میں استعماری دشمن کا ظلم و بربریت زیادہ لوگوں پر اثرا انداز ہورہا ہے اور زندہ مثالیں بن رہی ہے اس لیے بلوچستان کے دیہاتوں میں اب خواتین اپنے بچوں کو لوری دے کر سلاتے ہیں کہ سوجا میرے بچے کہ تمہارا ابو آئیگا۔ آج دس بارہ سال بلکہ ان سے بھی چھوٹے بچے ان ایجنسیوں کے نام جانتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نام نہاد قوم پرست اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ کرسی کا حقدار ٹھہرا رہے ہیں، بحیثیت مجموعی وہ اس پرامن جدوجہد کو ایک طرح سے آسمان سے نازل ہونے والا من و سلویٰ سمجھ کر فائدہ اٹھاتے رہے ہیں یقینا یہ بلوچ فرزندوں کا خون ہے جس کا یہ بلوچ منافقین مطلب پرست سودا کرنے کے چکر میں سرگرداں ہیں حالانکہ آج بڑے بڑے صاحبان کو ان کی تنظیموں کو جو منافقت کے لبادے میں قوم پرستی کا دعویٰ کرتے ہیں، موقع ہاتھ آیا ہے کہ وہ اپنا قبلہ درست کرتے ہوئے بلوچ عوام کو منظم کرنے کیلئے سیاسی تعلیم دیں، غلامی سے نجات کا جذبہ پیدا کریں، پرامن جدوجہد میں لواحقین کے حق میں آواز بلند کریں۔

ماما قدیر نے کہا مذکورہ نام نہاد قومپرست واضح طور پر نہیں کہتے ہیں کہ ان کی جماعتوں کے مقاصد کیا ہے ان کے بلوچ قومی رجحانات کیا ہیں، وہ اس قومی جدوجہد میں کیا کردار ادا کریں گے، وہ بلوچ نوجوانوں کو کیا قومی سوچ دیں گے۔