کوئٹہ: لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج

64

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج 3768 دن مکمل ہوگئے۔ بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی چیئرپرسن بی بی گل بلوچ، انسانی حقوق کے کارکن حوران بلوچ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینئر نائب صدر ولی کاکڑ نے کیمپ کا دورہ کرکے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

وی بی ایم پی کے رہنماء ماما قدیر بلوچ نے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ رسم و رواج میں عورت کو بڑا اہم مقام حاصل ہے، عورت کو عزت، ناموس کا درجہ دیا جاتا ہے، ان کو ٹارچر سیلوں میں اذیتیں دینا، عورتوں و بچوں اور کمزوروں کو نشانہ بنانا انتہائی معیوب و ممنوع ہے۔ آج ستر سال بعد جب بلوچ قوم پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں ہاتھوں لاپتہ افراد کی بازیابی کی پرامن جدوجہد میں مصروف ہیں، علماء بلوچی غیرت اور اسلامی جذبے سے عاری پالیسی پر کیوں عمل پیرا ہیں کیا اسلام پرامن جدوجہد کی بجائے غلامی کا درس دیتا ہے کیا آج کے بلوچ علماء کی بلوچی غیرت اور اسلامی شعور کو محکومی کے دیمک نے چاٹ لیا ہے، کیا بلوچ علماء کے اس کردار کو بلوچ تاریخ معاف کریگی، فلسطین، کشمیر، چیچنیا اور افغانستان سمیت پوری دنیا میں لڑی جانے والی جنگوں کی حمایت کرنے والے علماء نے پاکستانی افواج کے ہاتھوں شہید ہونے والے بلوچ نوجوانوں، بچوں، بزرگوں، عورتوں اور ہزاروں بے گھر خاندانوں کے بارے میں صدائے احتجاج بلند نہیں کی، علماء کو بلوچ مظلوم صرف اس لیے دکھائی نہیں دیتے ہیں کیونکہ ان کا قاتل پاکستانی حکمران اور ان کے مسلمان فورسز و خفیہ ادارے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عافیہ صدیقی کی بے حرمتی کرنے والے تو غیر مسلم تھے مگر متحرمہ زرینہ مری سمیت سینکڑوں بلوچ خواتین کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے والے تو کلمہ گو پاکستانی فورسز اور خفیہ اداروں کے اہلکار ہیں۔ کیا پاکستانی سرکاری مراعیات، خیرات اور طویل آبادیاتی محکومی نے اسلامی ایمان کو کند کردیا ہے۔ علماء کو خاموشی توڑ کر بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی میں اپنا دینی کردار بھر پور طریقے سے ادا کرنا چاہیے۔