ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا ٹی بی پی کے ساتھ خصوصی انٹرویو

405

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا ٹی بی پی کے ساتھ خصوصی انٹرویو

دی بلوچستان پوسٹ انٹرویو

حال ہی میں بلوچستان یونیورسٹی میں، یونیورسٹی انتظامیہ کے ہاتھوں طالبات کو حراساں کرنے کے اسکینڈل نے پورے بلوچستان کو چونکا دیا ہے۔ طالبات کے مطابق سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کے ذریعے یونیورسٹی انتظامیہ انہیں بلیک میل اور حراساں کرتی رہی ہے۔ اس خبر نے بلوچ سماج میں ایک ہلچل مچادی اور ہر طرف سے ان افعال کی مذمت کی گئی۔ طلبہ و طالبات مسلسل اس واقعے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

ان احتجاجوں کی سربراہی کرنے والوں میں سے ایک ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ہیں۔ حال ہی میں دی بلوچستان پوسٹ نے انکا انٹرویو لیا تاکہ ہم اپنے قارئین تک طلبہ حراسگی اسکینڈل کی حقیقتِ حال لاسکیں۔

دی بلوچستان پوسٹ: کچھ ذرائع کے مطابق، بلوچستان یونیورسٹی کے طالبات کو حراساں کرنے کا عمل سالوں سے جاری رہا ہے، لیکن ہمیشہ ایسے واقعات کو پردے کے پیچھے چھپایا گیا، کیا آپ کو لگتا ہے کہ حالیہ اسکینڈل کے علاوہ اس کہانی میں اور کچھ بھی ہے؟

ماہ رنگ بلوچ: یہ قصہ محض بلیک میلنگ اور حراساں کرنے کا نہیں، اگر ہم گذشتہ ایک دہائی سے یونیورسٹی سے طلباء سیاست کو ختم کرنے کی کوششوں کے پس منظر میں دیکھیں، تو یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ یہاں طالب علموں کو انکے بنیادی انسانی و سیاسی حقوق تک سے محروم رکھا گیا ہے۔ ہاں! بالکل اس قصے میں اور بہت کچھ ہے کیونکہ یہ ہمارے تہذیبی اقدار کو بدنام کرنے اور خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم کو نقصان دینے کی منظم کوشش ہے اور ساتھ ساتھ بلوچستان یونیورسٹی میں تعلیمی ماحول کو متاثر کرنے کی سعی ہے۔

طلباء یونینز کے غیرموجودگی میں یونیورسٹی انتطامیہ اور سیکورٹی اہلکار اپنی من مانی کرتے ہیں اور اپنا طاقت طالب علموں کو بلیک میل کرنے میں استعمال کرتی ہے۔ یونیورسٹی میں ایک مافیا متحرک ہے جس میں کچھ اساتذہ بھی ملوث ہیں، انکا کام ہی طالبات کو جنسی حراسگی کا نشانہ بنانا تھا، طالبات کو داخلوں تک کیلئے بلیک میل کیا جاتا رہا ہے۔

یونیورسٹی میں داخلہ این ٹی ایس کے تحت لیئے گئے ایک ٹیسٹ کے ذریعے ملتا ہے، لیکن یہ ٹیسٹ محض ایک دکھاوا ہے، زیادہ تر داخلے قابلیت کے بجائے انتظامیہ کے آشیرباد سے ہی روبہ عمل ہوتے ہیں۔ یہ مافیا طالبات کو امتحانات کے دوران بھی بلیک میل کرتی رہی ہے۔ امتحانی نتائج بھی طالبات کو جنسی تعلق قائم کرنے پر مجبور کرنے کا ایک اور ذریعہ ہیں۔

اسی طرح یونیورسٹی فنڈز میں بھی خرد برد ایک معمول بن چکا ہے، بہت سے نااہل لوگوں کو غیرقانونی طریقے سے بیرون ممالک پی ایچ ڈی کیلئے بھیجا گیا ہے جبکہ اہل و قابل لوگوں کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا ہے۔

بلوچستان یونیورسٹی میں بہت سے حل طلب مسائل ہیں، ماضی میں بہت سے لوگوں نے یونیورسٹی کے خلاف پولیس میں رپورٹ درج کیئے لیکن بعد ازاں دباو ڈال کر انہیں ایف آئی آر واپس لینے پر مجبور کیا گیا۔ اعلیٰ حکام مسلسل ایسے شکایات کو نظرانداز کرکے، انکا نوٹس لینے میں غفلت برتتے رہے ہیں۔

دی بلوچستان پوسٹ: آپ لوگوں کے مطالبات میں سے ایک مطالبہ یہ ہے کہ طلبہ یونینز کو بحال کیا جائے، کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ ان مسائل کو حل کرنے کی طرف ایک قدم ثابت ہوگی؟

ماہ رنگ بلوچ: طلبہ یونینز پر پابندی کے بعد سے یونیورسٹی کے حالت بتدریج بگڑتے رہے ہیں۔ جب یہاں یونینز متحرک تھے تو چھوٹے سے مسئلوں پر بھی ذمہ داران کے خلاف کاروائی کی جاتی تھی۔

آئین پاکستان یونین سازی کا حق ہر کسی کو دیتا ہے۔ یہ ہر شہری کا حق ہے کہ وہ اپنے مشترکہ مفادات کیلئے پر امن یونین سازی کرے، لیکن بلوچستان میں طلبہ سیاست کو ایک جرم قرار دیا جاچکا ہے، طلبہ سیاست کو جرم کے زمرے میں ڈالنا خود پاکستان کے اپنے ہی آئین کی خلاف ورزی ہے۔

بلوچستان یونیورسٹی میں طلباء یونینز پر پابندی عائد کی گئی ہے، طالب علموں کو اسٹڈی سرکل تک لگانے سے روکا جاتا ہے، لیکن دوسری طرف یونیورسٹی انتظامیہ اپنی ایک طلباء یونین “یو او بینز” کے نام سے تشکیل دے چکی ہے، جسکا مقصدِ اولیٰ ہی یونیورسٹی سے طلباء سیاست کو ختم کرنا اور ایک کرپٹ ماحول پیدا کرنا ہے۔ بہت سے یونیورسٹی انتظامیہ اہلکار براہ راست ” یواوبینز” کو چلا رہے ہیں۔

طلباء یونینز کی بحالی ناصرف ایسے جرائم پیشہ افراد کے مافیا کے سامنے رکاوٹ بنے گی بلکہ یونینز طالب علموں کو انکے حالات و حقوق سے بھی آگاہ کریگی اور سب کو متحد کریگی تاکہ اگر کسی کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو وہ خود کو اکیلا نا سمجھے۔ طلباء یونینز اپنی آواز ایسے واقعات کے خلاف اٹھائے گی اور ادارے کو حصولِ علم کیلئے ایک محفوظ جگہ بنائے گی۔

دی بلوچستان پوسٹ: سیکورٹی فورسز کی بھاری تعداد میں موجودگی کی وجہ سے بلوچستان یونیورسٹی ایک فوجی گیریژن کا منظر پیش کرتا ہے، کیا اسکی وجہ سے تعلیمی ماحول میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں؟

ماہ رنگ بلوچ: اس وجہ سے تعلیمی ماحول بری طرح متاثر ہوا ہے، جب آپ یونیورسٹی میں داخل ہوتے ہیں تو سیکورٹی اہلکار آپکی اور آپکے سامان کی تلاشی لیتے ہیں۔ ہر روز طالب علموں کو اہلکاروں کے ہاتھوں ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یونیورسٹی ایک فوجی کنٹونمنٹ بن چکا ہے، جہاں ہزاروں فوجی اہلکار موجود رہتے ہیں، جسکی وجہ سے طالب علم ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں، جو انکے تعلیم کو بری طرح متاثر کررہی ہے۔

میں پنجاب کے بہت سے تعلیمی اداروں کا دورہ کرچکی ہوں، تمام تعلیمی اداروں کی اپنی ہی سیکورٹی ہوتی ہے، جو تعداد میں کم ہوتے ہیں اور طالب علموں کے ساتھ دوستانہ ماحول میں رہتے ہیں۔ پنجاب کے بڑے تعلیمی اداروں میں آپکو بمشکل کوئی سیکورٹی اہکار نظر آتا ہے۔

یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ صرف بلوچستان کے ہی اداروں میں ہی کیوں اتنی سخت سیکورٹی کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اداروں میں صرف نجی سیکورٹی اہلکار ہی ہونے چاہیئے۔

دی بلوچستان پوسٹ: طلباء یونینز پر عائد پابندی پر کیوں بلوچ اساتذہ اور دانشور خاموش نظر آتے ہیں؟ آپکو کیا لگتا ہے کہ انکا کماحقہ کردار کیا ہونا چاہیئے؟

ماہ رنگ بلوچ: مجھے سمجھ نہیں آتا کہ وہ کیوں چپ سادھے ہوئے ہیں، انہیں بولنا چاہیئے، ان حالات میں دو قسم کے بلوچ اساتذہ ہیں، وہ جن کے ذاتی مفادات یونیورسٹی مافیا سے جڑے ہوئے ہیں، وہ اپنے مفادات کو طالب علموں کے مسائل پر ترجیح دیتے ہیں۔ اور دوسری وہ قسم جو ان پورے حالات سے بخوبی واقف ہیں اور کچھ کرنا چاہتے ہیں، لیکن ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں کہ جب بھی ان میں سے کسی نے لب کشائی کی ہے تو انہیں مافیا کی طرف سے ہزیمت اٹھانا پڑا ہے۔ مافیا انہیں دھمکاتا ہے کہ طالب علموں کے حق میں کچھ نا بولیں بصورت دیگر انہیں برے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس مافیا کے نمائیندے یونیورسٹی کے ہر ڈیپارٹمنٹ میں موجود ہیں، جو بھی استاد ان مسائل پر لب کشائی کرتا ہے تو یہ تمام مافیا کارندے مل کر ان کیلئے زندگی اجیرن کردیتے ہیں۔ لیکن میرا ماننا ہے کہ ان تمام رکاوٹوں کے باوجود ایسے واقعات کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا جاسکتا ہے۔

بلوچ دانشوروں کی خاموشی پر میں اتنا کہہ سکتی ہوں کہ وہ کچھ ایسے نادیدہ قوتوں سے خوفزدہ ہیں جو بولنے پر انہیں نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ میرے خیال میں دنیا کے ہر کونے میں دانشوروں کو ایسے مسائل کا سامنا ہوتا ہے، لیکن وہ سماج کو جگانے کے اپنے بنیادی کام و مقصد کی راہ سے نہیں ڈگمگاتے۔ بلوچ دانشوران کو اپنے کردار پر ازسرنو غور کرنا چاہیئے بصورت دیگر انہیں پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئیگا۔

دی بلوچستان پوسٹ: گذشتہ چند سالوں سے بلوچ سماج کے تمام پرتوں سے اٹھنے والی آوازیں خاموش نظر آتی ہیں، کیا آپکو لگتا ہے کہ حالیہ یونیورسٹی اسکینڈل اور اس پر احتجاج اس خاموشی کو توڑ کر مثبت تبدیلی لانے کا موجب بن سکتی ہے؟

ماہ رنگ بلوچ: اس وقت پورے ملک میں خاص طور پر بلوچستان میں سالوں سے جاری نا انصافیوں کی وجہ سے دانستہ طور پر ایک ایسے خوف کا ماحول بنایا گیا ہے، جس نے سماج کو سکوت کا شکار کردیا ہے۔ لوگ سماج میں موجود ناانصافیوں کے خلاف بولنے تک سے ڈرتے ہیں۔

یہاں بولنے تک کی آزادی نہیں۔ اگر کوئی آواز بلند کرے تو اسے غدار قرار دیکر قتل یا لاپتہ کردیا جاتا ہے۔ ایسے حبس زدہ ماحول میں بلوچستان یونیورسٹی میں پیش آنے والا واقعہ یقیناً سماج میں ایک تحرک پیدا کرچکا ہے۔ لوگوں کو یہ ادراک رکھنا پڑے گا انکی خاموشی حالات کو مزید بگاڑنے کا موجب بنے گی اور انکے اسی خاموشی سے ظالم فائدہ اٹھائے گا، جو سماج کو مزید شکستگی کی جانب دھکیلے گی۔ ہم ایک ایسے گرداب میں گھِر جائیں گا، جہاں یہ ممکن نہیں ہوگا ہر شخص ایک برابر زندگی اور پرامن فضاء کا حقدار ٹہرے۔

دی بلوچستان پوسٹ: آپکے والد غفار لانگو کے حراستی قتل کے بعد آپ منظر عام سے کچھ وقت غائب نظر آئے، آپ آجکل اپنی زندگی میں کیا کررہے ہیں؟

ماہ رنگ بلوچ: اپنے والد کے قتل کے بعد کے سال میں نے انتہائی کرب میں گذارے۔ میں یہ سوچتی تھی کہ میں اپنے والد کو اذیت گاہوں سے چھڑا کر لانے میں ناکام ہوگئی۔ ہر روز جب اسکول سے آتے میں بچوں کو اپنے والد کا ہاتھ تھامے چلتے دیکھتی، تو اس لمحے، میں اپنے والد کو بہت یاد کرتی۔ لیکن ابو کے چہرے پر سجی آخری مسکان میری ہمت بندھاتی ہے۔

ہماری آخری ملاقات کے دوران ابو نے مجھ سے یہ وعدہ لیا کہ میں ناصرف خود اعلیٰ تعلیم حاصل کرونگی بلکہ بلوچ قوم میں بھی بیداری ءِ شعور کیلئے کام کرونگی۔ اس لیئے میں نے اپنی زندگی حصولِ تعلیم کیلئے وقف کردی، وہ مجھے جتنا یاد آتے میں اتنا ہی زیادہ پڑھتی تاکہ انکا خواب پورا کرسکوں۔

گذشتہ چند سالوں سے میں اکثر خاموشی سے لاپتہ بلوچوں کیلئے لگائے گئے کیمپ جاتی ہوں۔ میں نے اپنے والد کو کھو دیا لیکن میں دوسروں کی مدد کرنا چاہتی ہوں، جو اپنے پیاروں کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔ جب کوئی زندانوں سے چھُوٹ کر آتا ہے تو مجھے ایک روحانی تسکین ملتی ہے۔ بلوچستان یونیورسٹی میں رونما ہونے والے حالیہ واقعے نے مجھے بے چین کردیا کیونکہ اسکا براہ راست تعلق خواتین کے تعلیم سے تھا۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہر کوئی آواز اونچا کرے کیونکہ ہماری خاموشی ہمیں نگل رہی ہے۔

دی بلوچستان پوسٹ: آپکی نظر میں بلوچستان میں طالب علموں کے مسائل کا حل کیا ہے؟

ماہ رنگ بلوچ: میری نظر میں اسکا واحد حل یہ ہے کہ تمام طلباء اپنے مسائل کے حل کیلئے یکجا ہوکر متحرک ہوجائیں، اور یہ صرف طلباء یونین سے ہی ممکن ہے۔

دوسری بات یہ کہ طلباء کو حقیقت پسندی کے ساتھ اپنے مسائل کا تجزیہ کرنا اور ان پر بحث کرنا چاہیئے۔ اسٹڈی سرکل وہ جگہ ہوتے ہیں جہاں یہ ممکن ہوسکتا ہے۔ انکے اسٹڈی سرکل سیاسی علوم سے لیس ہونی چاہیئے۔

مزید برآں انہیں اپنے قومی مسائل پر گہرائی کے ساتھ تجزیہ کرنا چاہیئے۔ طلباء رہنما کی حیثیت سے ہمیں خود پر بھروسہ رکھنا چاہیئے اور اس انتظار میں نہیں بیٹھنا چاہیئے کہ کوئی اور آکر ہمارے مسائل حل کریگا۔ یقیناً بلوچ طلباء کو کئی مسائل کا سامنا ہے، جو انتہائی حل طلب ہیں، جو صرف معروضی حالات سے ہم آہنگ اقدامات سے ہی حل ہوسکتے ہیں۔

دی بلوچستان پوسٹ: کیا آپ یا دوسرے طلباء کو موجودہ تحقیقاتی عمل پر بھروسہ ہے کہ وہ ملوث افراد کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے؟

ماہ رنگ بلوچ: مجھے ان تحقیقات پر بہت سے تحفظات ہیں کیونکہ یہ ناصرف نامکمل ہے بلکہ یہ انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ بھی نہیں ہے۔ وہ زیادتی کا نشانہ بننے والے طالبات کو کہہ رہے ہیں کہ وہ سامنے آجائیں اور اپنی شکایات درج کریں جبکہ انہیں اس بات کی یقین دہانی تک نہیں کرائی جاتی کہ ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ وہ ملزمان جو رنگے ہاتھوں ایف آئی اے نے پکڑے ہیں، وہ اب تک آزادی کے ساتھ گھوم رہے ہیں اور اپنے عہدوں پر براجمان ہیں۔

دوسری طرف دیکھا جائے بلوچستان یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر کو پنجاب یونیورسٹی لاہور میں دوسری نوکری دے دی گئی ہے حالانکہ تحقیقات ابھی تک جاری ہیں۔ ایسے حالات میں زیادتی کے شکار طالبات کیسے صوبائی حکومت کی قائم کردہ کمیٹی پر یقین رکھ سکتی ہیں۔

دی بلوچستان پوسٹ: کیا آپ بلوچستان نوجوانوں اور طالب علموں کو کوئی پیغام دینا چاہینگی؟

ماہ رنگ بلوچ: میں بلوچ طلباء کو یہ پیغام دینا چاہونگی کہ وہ طلباء سیاست میں حصہ لیں اور سیاسی لٹریچر سے جُڑے رہیں۔ اگر ہم سیاسی طور پر بالغ نظری سے اپنے مسائل کا تجزیہ کرنے کا اہل بن گئے تو پھر کوئی بھی یہ ہمت نہیں کرسکے گا کہ ہمارے حقوق ہم سے چھِین لے۔

دی بلوچستان پوسٹ: بہت بہت شکریہ