پنجگور اور زامران میں تعلیمی نظام تباہی کے دہانے پر ہے – مکران سوشل ایکٹیوسٹس

104

مکران سوشل ایکٹیوسٹس (ایم ایس اے) کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پنجگور کے علاقے پروم کے سرکاری اسکول کھنڈرات میں تبدیل ہوچکے ہیں، اسکولوں کی پرانی عمارتیں بھوت بنگلے کا منظر پیش کررہے ہیں جبکہ علاقے کے ہزاروں بچوں کا مستقبل تاریک ہورہا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ضلع پنجگور کے تحصیل پروم میں 40 پرائمری، مڈٖل اور ہائی اسکول ہیں جن میں صرف چند اسکول میں درس و تدریس کا عمل جاری ہے جبکہ اکثر اسکول کئی سالوں سے بند ہیں۔ علاقے میں درجنوں گرلز اور بوائز اسکول ایسے ہیں جن کی عمارتیں بھوت بنگلے کا منظر پیش کرتی ہے۔ گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول کلیری پروم، گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول کلیری، گورنمنٹ پرائمری اسکول دز، گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول لگورک پروم، گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول حاجی سبزل بازار سمیت بیشتر اسکول کئی سالوں سے مسلسل بند ہیں، محکمہ تعلیم کی جانب سے ان اسکولوں میں نہ کوئی دورہ کیا گیا اور نہ ہی اساتذہ تعینات کیے گئے۔ پروم سے لیکر گوارگو تک بیشتر سرکاری اسکولوں کے عمارتیں جانوروں کیلئے پناہ گاہیں بن چکی ہے جبکہ بیشتر اسکولوں میں پوسٹ اساتذہ ڈیوٹی دینے سے قاصر ہیں۔

ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ پروم، بالگترم گچک، گوارگو سمیت دیگر دیہی علاقوں میں اب تک حکومت بلوچستان کی جانب سے ایک بھی ہائیر سکینڈری یا انٹر کالج فراہم نہیں کی گئی ہے۔ اسکولوں میں سائنس لیب، کمپیوٹر لیب اور کلسٹر بجٹ کے نام پر جاری ہونے والے پیسے ہرسال کرپشن کے نظر ہوتے ہیں۔ گھوست اساتذہ کا سراغ لگانا اور بند اسکولوں میں درس و تدریس کی عمل کو بحال کرانا محکمہ تعلیم کیلئے چیلنج بن گئی ہے۔ علاقائی نمائندگان کا کردار بھی صفر ہے۔ پروم سے لیکر گوارگو تک تعلیمی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے تعلیمی ریشو نہ ہونے کی برابر ہے جبکہ علاقے میں 80 فیصد بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ بلوچستان حکومت کی تعلیمی اصلاحات اور تعلیم کے نام پر کثیر بجٹ مختص کرنے کے دعوے ہوا میں اڑ گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ مندرجہ علاقوں کے عوام اپنے بچوں کی روشن مستقبل کیلئے پریشان ہیں۔ صوبائی حکومت سمیت تعلیمی اعلیٰ افسران اس حوالے سے نوٹس لیکر بند اسکولوں میں درس و تدریس کا عمل بحال کرائیں اور ڈیوٹی نہ دینے والے اساتذہ کے خلاف کاروائی کریں۔

ایم ایس اے ترجمان نے ضلع کیچ میں تعلیمی زبو حالی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیچ کے پسماندہ ترین علاقوں میں زامران کا شمار ہوتا ہے جہاں بنیادی سہولتوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی نظام انتہائی خراب ہے۔ زامران کے مختلف علاقوں میں اس وقت درجنوں ایسے پرائمری اسکول ہیں جو کئی سالوں سے تاحال بند ہیں۔ بند اسکولوں کی تالے کھولنے کیلئے محکمہ تعلیم بلوچستان اور ضلع کیچ کے تعلیمی افسران کی خاموشی افسوسناک ہے۔

ترجمان نے کا کہنا ہے کہ ایم ایس اے زامران ٹیم کے کوآرڈینٹر کی جانب سے تنظیم کو بتائے گئے معلومات کے مطابق زامران میں اس وقت بیشتر سرکاری پرائمری اسکولوں کو تالا لگا ہوا ہے جن میں بوائز پرائمری اسکول تہہ دیم، گورنمنٹ پرائمری اسکول بسد، گورنمنٹ پرائمری اسکول کُٹگان، گورنمنٹ پرائمری اسکول متہ سنگ، گورنمنٹ پرائمری اسکول دمبانی، گورنمنٹ پرائمری اسکول کاسوی، گورنمنٹ پرائمری اسکول ہتُک، گورنمنٹ پرائمری اسکول تلان، گورنمنٹ پرائمری اسکول مارگوٹی، گورنمنٹ پرائمری اسکول سرکیزئی شامل ہیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ زامران میں تعلیمی نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ سینکڑوں بچے و بچیاں تعلیمی سہولیات اور اسکول بند ہونے کی وجہ سے زیور تعلیم سے یکسر محروم ہیں۔ علاقے میں بند اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کیلئے تعلیمی اداروں اور عوامی نمائندوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

ایم ایس اے کا کہنا ہے کہ زامران ضلع کیچ کے انتہائی پسماندہ اور غریب علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں بچوں کیلئے تعلیم ایک چیلنج سے کم نہیں، صوبائی حکومت، محکمہ تعلیم و دیگر نمائندگان زامران کے بند اسکولوں میں تعلیمی سسٹم بحال کرکے سینکڑوں بچوں کی مستقبل کی روشنی لوٹا دے۔