شہید حیات عرف بُلبُل جان کی کچھ یادیں – سراج کُنگر

66

شہید حیات عرف بُلبُل جان کی کچھ یادیں

تحریر: سراج کُنگر

دی بلوچستان پوسٹ

بالگتر لوف کے بزرگ اور عاجز وادی میں پیدا ہونیوالے شہید حیات جان نے اپنا بچپن محنت مزدوری میں گُذاردی، حیات جان نے بچپن میں ہی قومی درد کو محسوس کیا تھا، اپنے علاقے کے لوگوں کی خواری و بزگی کو محسوس کرنیوالا اور مادر وطن کی دفاع و قومی ننگ و ناموس کی خاطر حیات جان 2011 میں BLF شامل ہوئے، وہ اپنے تنظیم و اداراتی کاموں میں بہت سر گرم انسان تھے، وہ اپنی تنظیمی کاموں کو سر انجام دینے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑتے تھے۔ وہ ایک نَڈر اور بہادُر انسان تھے وہ اکثر جنگی میدان میں اپنے ساتھیوں کی حوصلہ افضائی کیا کرتے تھے، ایک جنگی کمانڈ ہونے کے ناطے وہ دشمن کے بارے میں مکمل معلومات رکھتے تھے، دشمن کے چالوں کو اچھی طرح سے سمجھتے تھے اور اُنھیں اتنا معلوم تھا کہ دشمین کا اگلا قدم کیا ھوگا اور کیا کرے گا، حیات اکثر اپنے دشمین سے ایک قدم آگے ھوتا تھا اسکے علاوہ حیات جان ایک اچھے نشانہ باز تھے اور نشانہ بازی میں بہت تیز اور ماہر تھے.

شہید بُلبُل کافی عرصے BLF کے اندر کام کرتے رہے، 2117 میں کچھ تنظیمی مسائل کی وجہ سے اُنھوں نے BRA جوائن کیا، اور BRA کے اندر بھی حیات جان اُسی طرح لگن اور جانفشانی سے کام کرتے رہے، اپنے ہنر اور محنت کی وجہ سے وہ جلد ہی BRA کے علاقائی گشتی ٹیم کے کمانڈ بنا دیئے گئے۔

انہوں نے اپنے ٹیم کو بہت اچھی طرح سے سنبھالا اور دئیے گئے زمہ داریوں کو احسن طریقے سے پورا کرتے رہے، حیات کی ایک خوبی نہیں تھی بلکہ بہت ساری خوبیاں تھیں، اُنکا حسین مُسکراہٹ، اُنکا مذاق، ہنسانا اپنے ساتھیوں کو خوش رکھنا سخت سے سخت حالات میں بھی ساتھیوں کو مایوس نہ ہونے دینا۔

میں نے زندگی کے کچھ لمحے کچھ مہینے اُن کے ساتھ گزارے اور اُن گزرے ہوئے لمحوں میں مجھے زندگی کا درد معلوم ہی نہیں ہوا وہ اپنی پُر مہر ہنسی سے ہمارے ہر درد و ہر غم اور ہر پریشانی کو ہم تک آنے سے پہلے ہی ٹھکانے لگادیتے.

حیات جتنا بہادُر تھا، اُتنا ایماندار تھا، وہ اپنے قومی اور تنظیمی چھوٹی سی چھوٹی چیزوں کی حفاظت بہت ایمانداری اور مخلصی سے کرتے تھے اور کوئی بھی چیز ادھر اُدھر ھونے نہیں دیتے. زندگی میں ایسے نایاب ہیرے بہت کم ملتے ہیں، جو بہادُری اور ایمانداری کے مجسمے ہوں، جو مخلصی اور دوستی میں اپنا سب کچھ (خواہشات، ارمان، حسرتیں، زاتی مفادات) قربان کرے اور حیات ایک ایسا ہی انمول ہیرا تھا.

شہید حیات جان فروری دو ہزار اٹھارہ کو دشمن کے ساتھ دو بہ دو لڑتے ہوئے شہید ہوئے، انھوں نے اپنا حسین آج ہمارے کل کے لیئے قربان کردیا.


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔