جے یو آئی پلان بی، مختلف مقامات پہ شاہراہیں بلاک کرنے کا اعلان

69

 جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مختلف شہروں میں دیئے جانے والے دھرنوں کیلئے صبح 8 بجے سے رات 8 بجے کا وقت مقرر کردیا، جب کہ رات 8 بجے کے بعد شاہراہیں ٹریفک کیلئے کھول دی جائیں گی۔

جمعیت علمائے اسلام ف کے ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات محمد سمیع سواتی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں چاروں صوبوں کے جماعتی ذمہ داران سے رابطے میں ہوں، ہم نے اسلام آباد دھرنے میں اپنی قوت کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔

اس موقع پر فضل الرحمان نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مسافروں کی تکالیف کو پیش نظر رکھتے ہوئے تمام صوبوں کی مشاورت سے روڈ آزادی مارچ کے دھرنے صبح 8 بجے سے رات 8 بجے تا حکم ثانی جاری رکھے جائیں گے۔

فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ رات 8 بجے روڈ آزادی مارچ ختم کر کے کارکنان شاہراہیں ٹریفک کیلئے کھول دیں گے۔

دریں اثناء جمعیت علماء اسلام سندھ کے سیکریٹری جنرل مولانا راشد محمود سومرو نے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے سندھ کے 5 پوائنٹس پر جاری روڈ آزادی مارچ دھرنوں کو اٹھانے کی ہدایات مقامی جماعتوں کو جاری کردی ہیں۔

واضح رہے کہ 13 نومبر بدھ کی شام مولانا فضل الرحمان نے اس وقت اسلام آباد میں جاری آزادی مارچ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب پلان بی کے تحت کارکن ملک کے دیگر شہروں میں ہونے والے احتجاج کا حصہ بنیں گے۔ شہر کے اندر احتجاج سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہوگا، اس لیے ہم شہروں سے باہر نکل کر شاہراہوں پر احتجاج کریں گے۔

اعلان کے وقت صوبائی قیادت اور کارکنوں کی بڑی تعداد اسلام آباد میں موجود تھی جس کی وجہ سے پلان بی پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہو سکا اور قیادت کو مجبوراً پلان اے کے تحت اسلام آباد میں موجود کارکنوں سے کہنا پڑا کہ وہ اب اپنے اپنے علاقوں میں جا کر احتجاج کریں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے جے یو آئی ف اور حمایتی جماعتوں کا حکومت مخالف آزادی مارچ گزشتہ ماہ 27 اکتوبر کو شروع ہوا۔ مارچ نے فضل الرحمان کی قیادت میں کراچی سے رخت سفر باندھا اور کراچی ہوتا ہوا سندھ میں داخل ہوا، جہاں سے مارچ پنجاب اور پھر اسلام آباد پہنچا۔

فضل الرحمان کا آزادی مارچ 17 روز جاری رہا۔ جس کے بعد انہوں نے پلان بی کا اعلان کرتے ہوئے مختلف شہروں میں دھرنوں کا آغاز کیا۔