جنگی حکمتِ عملی | قسط 8 – غیر معمولی اور روایتی فوجیں

41

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ
جنگی حکمتِ عملی اور اُس کا تحقیقی جائزہ

مصنف: سَن زُو
ترجمہ: عابد میر | نظرِثانی: ننگر چنا

قسط 8 | تیسرا باب – غیر معمولی اور روایتی فوجیں

سن زو کی کتاب ”جنگی فن“ کی اشاعت کے بعد کئی فوجی ماہرین نے ”غیر معمولی اور عام قسم کے فوجی عنوان“ کے مضمون کو مختلف معنی دینے کی کوشش کی ہے۔ ”سنگ گھرانے والی اشاعت“ میں گیارہ علماء نے تبصرہ کیا ہے‘ ان میں سے وئی لیوزی(Wei Leaozi) نامی ایک عالم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”دشمن کے مقابلے کیلئے پہلے جانے والے فوجی دستے’عام قسم کے فوجی‘ ہوتے ہیں اس کے بعد دشمن پر حملہ کرنے کیلئے جو لشکر بھیجا جاتا ہے‘ وہ ’غیرمعمولی فوج‘ ہوتی ہے۔“

چاؤ چاؤ(Cao Cao) نے بھی کم وبیش یہی بات کی ہے جس میں تنگ تائی ژانگن نے‘ لی منگ سے کہا تھا کہ ”میرے عام قسم کے فوجی‘ دشمن کو غیر معمولی دیکھنے میں آتے ہیں اس لئے یہ بات دشمن کو دھوکہ دینے سے تعلق رکھتی ہے جس کے ذریعے عام قسم کے فوجی غیر معمولی اور غیر معمولی فوجی عام قسم کے فوجی نظر آتے ہیں اور ایسی ہیر پھیر کیلئے کسی قسم کی پیشنگوئی نہیں کی جاسکتی۔“

عام قسم کے فوجی کون سے ہوتے ہیں؟ عمومی طور پر کہا یہ جاتا ہے کہ جو فوجی عام جنگ ضابطے اور اصول کے مطابق لڑتے ہیں انہیں ”عام قسم کے فوجی“ کہا جاتا ہے لیکن فوج کے وہ دستے جو چھپ چھپا کر‘ آگے بڑھ کر‘ مناسب موقع دیکھ کر اچانک جاکر دشمن پر حملہ آور ہوتے ہیں انہیں غیر معمولی فوجی کہا جاتا ہے۔“

سن زو نے عام قسم اور غیر معمولی قسم کے فوجیوں کیلئے کوئی الگ باب مخصوص نہیں کیا ہے بلکہ اس موضوع کو اس باب کے ساتھ ملا کر بیان کیا ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ ”دشمن کے جنگی نقشے اور مقامی جغرافیائی حالات کو دیکھتے ہوئے اپنی فوج ترتیب دی جاتی ہے۔“ مثال کے طورپروہ کہتا ہے کہ ”عام فوج کو غیر معمولی فوج میں اور غیر معمولی فوج کو عام فوج میں تبدیل کرنے کا ایک دائرہ ہوتا ہے ان فوجوں کو ختم بھی کیا جاتا ہے اور بوقت ضرورت انہیں پھر مرتب بھی کیا جاتا ہے ‘وہ چاند اور سورج کی طرح گھومتی رہتی ہیں وہ ختم بھی ہوجاتی ہیں اور نیا جنم بھی لیتی ہیں جیسے ایک موسم آتا ہے اور ختم ہوجاتا ہے اور پھر آجاتا ہے‘ عام طور پر دشمن کو مشغول رکھنے کیلئے عام قسم کی فوج کا استعمال کیا جاتا ہے لیکن فتح حاصل کرنے کیلئے غیر معمولی فوج کو استعمال کیا جاتا ہے اس لئے غیرمعمولی فوج کو استعمال کرنے والے فوجی ماہرین کے پاس اسے استعمال کرنے کیلئے کئی راستے ہوتے ہیں‘ آکاش اور دھرتی جیسے وسیع وعریض‘ دریاؤں کی لہروں کی طرح ان تھک‘ یہ غیر معمولی اور عام قسم کی فوجوں کو استعمال کرنے کی دانش ہی ہوتی ہے جس کے ذریعے دشمن کی فوج کو بغیر شکست کھائے مردانگی کے ساتھ روکا جاسکتا ہے۔“

یہاں اس بات کی طرف توجہ دینا ضروری ہے کہ سن زو نے اس کیلئے دائرہ یا چکر (Cyclical) کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا بالواسطہ مطلب دائرے میں گھومنا (Cyclication) ہے لیکن اس کتاب کے متن کے گہرے تجزیے سے پتہ چل سکتا ہے کہ اس نے اس لفظ کو استعارے یا کنایے کے طور پر استعمال کیا ہے جس کا مطلب ہے عام فوج اور غیر معمولی فوج میں مستقل تبدیلی کے ہونے کی خاصیت‘ جس سے متعلق کوئی پیشنگوئی نہیں کی جاسکتی اس کا کسی خاص دائرے میں گھومنے یا کسی باطنی ومابعد الطبعیاتی فلسفی (Metaphysics) کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے جو عنصر کے گول دائروں میں کسی ارتقاء سے ہی انکار کرتا ہے۔

تاریخ میں غیر معمولی فوج
چین کی تاریخ میں ایسی کئی مثالیں ملیں گی جن میں دشمنوں پہ اچانک‘ ایک دم حملہ آور ہوکر فتوحات حاصل کی گئی ہیں۔

بھینسوں کوآگ لگانے کی فوجی ترتیب:
سال279 قبل از مسیح کی بات ہے کہ ”کی“ کے جنرل تیان ڈن (Tian Dan) کا دشمن نے اچانک گھیراؤ کرلیا جو اس زمانے میں جمو(Jimo) شہر میں موجود تھا۔ ”کی“ کے ملک کو بچانے کیلئے تیان ڈن نے ایک ترکیب سوچی۔ اس نے کیا کیا کہ ایک ہزارسانڈ جمع کرکے ان پر مختلف رنگوں کے کپڑے ڈال دیئے‘ اس کے بعد ان (سانڈ) بھینسوں کے سینگوں کے ساتھ تیز نوکیلے خنجر باندھ دیئے گئے آخر میں ان کی دموں کے ساتھ تیل میں آلودہ سوکھی لکڑیاں باندھی گئیں۔ رات کو جب ین(Yen) کی فوج کے سپاہی گہری نیند میں تھے تو اس نے ان بھینسوں کی دموں کے ساتھ باندھی گئی تیل میں آلودہ لکڑیوں کو آگ لگوادی۔ ان بھینسوں نے آگ کے شعلوں سے بدک کر دشمن فوج کے کیمپوں کی طرف بھاگنا شروع کیا جن کے پیچھے تیان ڈن کے پانچ ہزار فوجی چل پڑے جن کی شکل و صورت کو دیوؤں اور بھوتوں جیسا خوفناک بنادیا گیا تھا‘ تیان ڈن کی فوج ین کے لشکر پر اچانک جاکر حملہ آور ہوئی تھی اور دشمن ہکا بکارہ گئے تھے اس جنگ میں ین کی ساری فوج ختم ہوگئی اس کے بعد تیان ڈن نے مسلسل 70 شہر دشمنوں سے چھڑالئے اور ”کی“ کا ملک فتح ہونے سے بچ گیا۔
اس جنگ کو ”بھینسوں کو آگ لگانے والی فوجی ترتیب کی جنگ“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

شو (Shu) کو فتح کرنے والی جنگی مہم:
اس واقعہ کا تعلق 263 قبل مسیح سے ہے‘ اس کا تعلق تین ممالک کے اوائلی عہد سے ہے۔ ”وی“ ملک کے جنرل ڈینگ آئی (Deng Ai) کو شو ملک پر حملہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا‘ اس ملک پر حملہ کرنے کیلئے ڈینگ آئی‘ کو جیان من ملک سے گزرنا پڑتا تھا جہاں دشمن کی ایک طاقتور فوج موجود تھی۔ اس جنرل کے ساتھ دس ہزار فوج موجود تھی جس کو اس نے ایک سمت لے کر پیش قدمی کا حکم دیا‘ اس طرح وہ ینگ پنگ کے پہاڑی علاقے کے پیچیدہ راستوں سے آگے بڑھنے لگا اور 2 سو میل ویران علاقے میں سفر کیا مختلف مقامات سے اسے پہاڑوں میں سرنگیں کھود کر آگے بڑھنا پڑا تھا جب یہ فوج میج(Mage) کے پہاڑ پر پہنچی تو آگے بڑھنے کیلئے راستہ بند تھا‘ جنرل ڈینگ نے یہ کیا کہ خود کو فوج کے سامنے چادر میں لپیٹ کر پہاڑکی چوٹی سے لوٹ پوٹ ہوتا نیچے پہنچا اس کے بعد اس کی فوج کے سپاہی رسیوں کی مدد سے ایک ایک کرکے نیچے پہنچے اورفوراََ جیان گیوؤ(Jian Gyou)پہاڑی پر قبضہ کرلیا‘ اس کے بعد جلد ہی انہوں نے میانزوشہر کو فتح کر لیا۔ بعدازاں نہایت تیز رفتاری سے آگے بڑھتے ہوئے وہ نومبر میں چینگو(Chengdu) پہنچے اور دشمن پر اچانک جاکر حملہ آور ہوئے۔ شو‘ ملک کت جنرل لیوشن نے مجبوراً ہار تسلیم کرلی۔
یہ جنگ انتہائی تیزی کے ساتھ اچانک حملہ کرنے کی وجہ سے مشہور ہے۔

گئان دو(Guan du) کی جنگ:
یہ 200ء کا واقعہ ہے۔ اس زمانے میں چاؤ چاؤ اور یئان شاؤ(Yuan Shao) کی فوجیں گئان دو (Guan do) شہر کے پاس ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوئی تھیں۔ یئان شاؤ کی فوج کے پاس اشیائے خوردونوش کا اچھا خاصا سامان اور ہتھیار وغیرہ بھی موجود تھے اس لئے وہ طویل عرصے تک لڑنے کے قابل تھے‘ اس کے مقابلے میں چاؤ چاؤ کی فوج کے پاس خوراک کم تھی اس لئے اس کی خواہش تھی کہ جنگ زیادہ طویل نہ ہو بلکہ جلد ختم ہو اس لئے وہ بہت فکر مند تھا کہ کیا کیا جائے؟ اس وقت یئان شاؤ کااکسویو(Xu You) نامی ایک فوجی مشیر کسی جرم کی سزا سے بھاگ کر چاؤ چاؤ کے پاس پہنچا تھا جسے اس نے جلد ہی اپنا فوجی مشیر مقرر کردیا تھا۔

چاؤ چاؤ سے ملاقات کے وقت اس نے اکسویو سے مشورہ کیا اور کہا کہ ”میں یئان کی فوج کے ساتھ تیز رفتاری سے لڑ کر اسے شکست دینا چاہتا ہوں لیکن میں اس لئے ایسا نہیں کرسکتا کیونکہ میرے پاس تھوڑی سی فوج ہے پیچھے بھی نہیں ہٹ سکتا کیونکہ یہ ڈر ہے کہ ہوسکتا ہے کہ یئان میرے پیچھے لگے اور میری فوج کا ستیا ناس کردے مجھے توقع ہے کہ تم اس سلسلے میں ضرور اچھا مشورہ دوگے۔“

اکسویو نے اس سے پوچھا کہ ”چاؤ جنگ کے میدان میں تمہارا اہم مسئلہ کیا ہے؟“ چاؤ نے کہا کہ ”یئان کے پاس ہر چیز ہے اور بہت زیادہ ہے اس لئے وہ طویل عرصے تک جنگ لڑسکتا ہے لیکن اس کی نسبت میرے پاس ہر چیز ادھوری ہے اور میں زیادہ دیر تک لڑنے کے قابل نہیں ہوں۔“

جس پر اکسویو نے اس سے کہا کہ ”تمہارے لئے اہم مسئلہ خوراک کا ہے۔ یئان نے خوراک کا سارا سامان ووکاؤ(Wuco) میں رکھا ہے…… جس کی حفاظت کیلئے انتہائی تھوڑی سی فوج رکھی گئی ہے تم اپنی فوج لے جا کر وو کاؤ پر چھاپہ مارو اور وہاں رکھے گئے کھانے پینے کے سامان کو آگ لگا کر راکھ کر دو، یہ دیکھ کر یئان کی فوج کے پیروں تلے زمین کھسک جائے گی۔“

چاؤ چاؤ نے اس مشورے پر عمل کرتے ہوئے ووکاؤ پر جا کر چھاپہ مارا اور یئان کی فوج کی اشیائے خوردونوش کے بڑے حصے کو جلا کر راکھ کر ڈالا‘ اس اچانک واردات کا جب یئان کی فوج کو پتہ چلا تو اس کی فوج پریشان ہو گئی اور پیچھے ہٹنے لگی‘ ان کے حوصلے کمزور پڑ گئے‘ اس لئے پیچھے ہٹتے ہوئے ان میں بدنظمی پیدا ہوگئی‘ چاؤ نے اپنی فوج کے ساتھ اس فوج کا پیچھا کیا اور باآسانی انہیں شکست دے دی۔ اس ایک ہی وار میں یئان کے ہزاروں فوجی مارے گئے تھے۔ اس کے بعد بھی چاؤ نے یئان کو چانگ تینگ کے پاس شکست دی تھی‘ اس کے کچھ عرصہ بعد شو بیمار ہو کر مرگیا اس کے دو بیٹوں کے درمیان تخت پر جھگڑا شروع ہوا چاؤ نے ان کے درمیان نااتفافی دیکھ کر حملہ کردیا اور انہیں مار کر ختم کردیا‘ اس واقعہ کے بعد چاؤ نے وسطی علاقوں کو فتح کرنے کے ارادے سے وسطی علاقوں کے شمالی حصوں میں جاکر اپنا مرکز قائم کیا تھا۔
اس واقعہ سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کبھی کبھی جنگ کا نتیجہ خاص حکمت عملی اختیار کرنے سے جنگ کے میدان سے باہر بھی نکلتا ہے‘ یہ دشمن پر اچانک حملہ آور ہونے کی ایک اور مثال ہے جسے ”ابلتی ہوئی دیگچیوں کے نیچے سے ایندھن نکال دینا“ کہتے ہیں۔

ان مثالوں میں ہمیں غیر معمولی فوج کا استعمال دیکھنے میں آتا ہے‘ اس کے علاوہ پیپلز لبریشن آرمی(PLA) کی تاریخ میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں‘ ہم وی لیا نوزی کے تصور یا خیال کو شاید درست قرار نہ دیں کہ کسی محاذ پر اصلی لڑائی یا جنگ سے قبل حاصل ہونے والے عارضی نتائج کی بنیاد پر فوج کو روایتی یا غیرمعمولی فوج قرار دیں۔

دینگ ایئے کی فوج نے ینگ پنگ کی پہاڑی کو عبور کرکے دشمن پر حملہ کیا تھا‘ یہ اصلی جنگ مہم سے قبل کا واقعہ ہے لیکن اس فوجی دستے کو بھی غیر معمولی فوج کہا جاتا ہے۔ چاؤ چاؤ نے بھی اصلی جنگ شروع کرنے سے قبل ”ووکاؤ“ میں موجودیئان کی اشیائے خوردونوش کو جلا کر راکھ کردیا تھا‘ اس واقعے میں حصہ لینے والی فوج بھی غیر معمولی فوج تھی ایسی ہی مثال جنرل ”تیان ون“ کی ہے جو جنگ سے قبل بھینسوں کی دموں کے ساتھ خشک لکڑیوں پر تیل ڈال کر اور آگ لگا کر دشمن کے لشکر پر اچانک حملہ آور ہوا تھا۔ ایسی باتیں جنگ کے کسی بھی مرحلے کے دوران رونما ہوسکتی ہیں‘ ہم یہ بات آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ دینگ نے ایسی ہی عام فوج سے غیرمعمولی فوجی کام لیا تھا‘ جنرل تیان ڈن نے بھی عام فوج سے بھینسوں اور آگ والا کام لے کر اسے غیر معمولی فوج بنادیا تھا۔

1948ء میں ”ہوئی ھئی“(Hui Hai) کی پیپلز لبریشن آرمی کی طرف سے شروع کردہ مہم کے دوران چینی فوج اور دشمن حلقوں کے درمیان ہونے والے مقابلوں میں حصہ لینے والی چینی فوج عام فوج تھی لیکن اس نے بعض اہم فوجی خدمات سرانجام دی تھیں جس کی وجہ سے اسے غیر معمولی فوج کہا جاتا تھا‘ اسی طرح سن زو نے بھی اسی خیال کا اظہار کیا ہے۔

غیر معمولی اور عام رواجی افواج‘ ایک جدلیاتی اتحاد ہے جس میں اندرونی ہیر پھیر ہوتی رہتی ہے۔ جنگ کے میدان پر کسی تبدیلی کے نقطہ نگاہ سے عام فوج کو اہم ذمہ داریاں دے کر غیر معمولی فوج بنایا جاسکتا ہے جیسے کہ دفاع کی خاطر دریا کو پیٹھ دے کر دشمن سے لڑنے یا دشمن کے پیچھے ہٹنے کے تمام راستے روک دینا اور فتح حاصل کرنا لشکر کی صف بندی بھی اس طرح کی جائے کہ اس کی نقل و حرکت میں آسانی اور لچک ہو انہی فوجی اصولوں کو الگ الگ انداز میں استعمال کرکے بھی غیر معمولی فوجی خدمت میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ چین کی تاریخ میں ایسی کئی جنگیں ہیں جو سینکڑوں برسوں تک لگاتار چلتی رہیں (انہیں بہار اور خزاں کی جنگیں بھی کہا جاتا ہے) ان جنگوں کے طور طریقے بالکل مختلف تھے‘ اسی طرح ہر محاذ کی جنگ کا انداز بھی جدا جدا تھا لیکن معلوم یہ ہوتا ہے کہ ان محاذوں پر سن زو کے جنگی اصولوں کو مختلف انداز میں استعمال کیا گیا ہے‘ مثال کے طور پر جنگ شروع کرنے سے قبل صحیح اندازہ لگانا‘ حکمت عملی کے فن پر سوچ و بچار کرنا‘ دشمن پر اچانک حملہ آور ہونا ‘پہل کاری سے کام لینا‘ دشمن کی قوت کاصحیح انداز میں تجزیہ کرنا‘ اپنی قوت کا بھی صحیح انداز میں اندازہ لگانا‘ دشمن فوج کے چھوٹے سے حصے پر حملہ کرنے کیلئے اپنی فوج کے بڑے حصے کو استعمال کرنا وغیرہ۔
مختصراً یہ کہ سن زو کا قول ہے کہ: ”مختلف قسم کی جنگی چالوں کا فن‘ تدبر و ہوشیاری‘ اور فہم و فراست پر منحصر ہے۔“

نتیجہ:
غیر معمولی اور عام قسم کی فوجوں سے متعلق سن زو کی فکر کو مختصر الفاظ میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ ”لشکر میں غیرمعمولی اور مختلف قسم کے فوجی مقرر کئے جائیں تاکہ دشمن فریق کو قبل از وقت فوجی نقل وحرکت کا پتہ نہ چل سکے۔“

سن زو کا کہنا ہے کہ ”جنگ دشمن کو دھوکہ دینے کا دوسرا نام ہے۔“ دیگر معنوں میں اس کا مفہوم یہ ہوسکتا ہے کہ اپنے دشمن کو ہمیشہ الجھا کر حواس باختہ کرنے کے جتن کیئے جائیں۔ دشمن پر اچانک زوردار طریقے سے حملہ آور ہوا جائے‘ اپنی فوج کو ایسے مقام اور وقت پر استعمال کیا جائے کہ دشمن کو اس کا وہم و گمان بھی نہ ہو‘ ہمیشہ دشمن کے کمزور مقام پر پوری قوت سے حملہ آور ہوا جائے‘ غیر معمولی فوج کی تقرری اور استعمال ایسے مقام سے شروع کیا جائے جو زیادہ مضبوط مستحکم اور ناقابل تسخیر ہو‘ اس کے علاوہ آپ کو دور اندیش‘ بہادر‘ چوکس‘ محتاط اور نہایت خبردار ہونا چاہیے‘ نقل وحرکت کو تیز رفتار ہونا چاہیے‘ اس غیرمعمولی فوج کا انداز‘ دشمن فوج کے ہر قسم کے فوجی جتھے کے ساتھ بھڑ کر اسے مات دینے جیسا ہو۔

غیرمعمولی اور عام فوجیں ایک دوسرے میں تبدیل ہوسکتی ہیں۔ ان کی شکل و صورت بھی ایک جیسی ہوتی ہے۔ یہ فوجی معاملات کی ایک جدلیاتی نوعیت یا خاص زبان ہے‘ غیر معمولی فوج کی تقرری اور استعمال کیلئے کسی خاص فوجی کتاب کے ضابطوں اور اصولوں سے چپکا نہ جائے‘ اور انہیں ناقابل تبدیل نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ اس معاملے میں آپ کو لچکدار ہونا چاہیے اور پیدا ہونے والی تازہ صورتحال کے مطابق اس فوج میں ہیر پھیر کرتے رہنا چاہیے‘ اس بات کو دل سے تسلیم کر لینا چاہئے کہ اس کائنات میں ایسے کوئی آفاقی اصول موجود نہیں ہیں جن پر عمل کرکے ہرقسم کی کشیدگی یا تضاد کو حل کرنے میں کامیابی حاصل کی جاسکے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔