جنگی حکمتِ عملی | قسط 6 – پہلاباب (آخری حصہ)

56

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ
جنگی حکمتِ عملی اور اُس کا تحقیقی جائزہ

مصنف: سَن زُو
ترجمہ: عابد میر | نظرِثانی: ننگر چنا

قسط 6 | پہلا باب – دفاعی حکمت عملی (آخری حصہ)

جنگی میدان میں بصیرت کا استعمال:
یہ اصول کہ ”اس کے بعد دوسرا بہتر طریقہ دشمن کی فوج پر حملہ کرنا ہے۔“
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ دشمن کو محض فوج کے ذریعے شکست دی جائے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جنگ کے میدان میں بصیرت کا استعمال انتہائی ضروری ہوتا ہے چین کی جنگی تاریخ میں فوجی حکمت عملی کے فن میں دانش مندی کا استعمال بہت زیادہ نظر آئے گا۔

فشوئی(Feishui) دریا کا محاذ:
383 قبل مسیح میں جنرل فوجیان(Fu Jian) نے مشرقی”جن“ پر یلغار کردی یہ قدیم ”کن“ خاندان کا دور تھا۔ ”جن“ کے ”کسو آن“(Xuan) اورکسے شے(Xie Shi) نامی دوجنرل بھی تھے جنہوں نے فوجیان کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنی فوجوں کو فشوئی دریا کے جنوبی کنارے کی طرف بڑھنے کا حکم دیا‘ جنرل فوجیان کے ساتھ لشکر کی تعداد تین لاکھ تھی جو”جن“ کی فوج سے انتہائی زیادہ تھا جو فقط 80 ہزار تھا‘ اس لئے اکسو آن اور اکسے شے کو فقط اپنی بصیرت کے ذریعے دشمن کو شکست دینی تھی‘ دونوں حریف فریقین فشوئی دریا کے کنارے گھات لگائے بیٹھے تھے۔

جنرل اکسے نے دریائے اکسو آن کے دوسرے کنارے پر موجود فوج کا اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ تعداد میں بہت زیادہ ہیں لیکن ان کے فوجی نظم وضبط میں انتہائی کمی ہے‘ پیدل اور گھڑسوار دستے آپس میں خلط ملط ہیں۔

اس کے علاوہ ہر اول یا پیش دستہ اور فوج کا پیچھے کاعقبی دستہ ایک دوسرے سے بہت زیادہ دور ہیں علاوہ ازیں فوجیان کے لشکر کے جرنیلوں کو جنگی حکمت عملی کے فن سے متعلق کوئی خاص علم نہیں تھا‘ اگر اس کے ہر اول دستے کو شکست دی جائے تو باقی ساری فوج کے پاؤں اکھڑ جائیں گے اور وہ زیادہ دیر ٹک نہیں پائے گی‘ یوں ”مشرقی جن“ کی فتح یقینی بن جائے گی۔ جنرل کسے‘کسو آن نے یہ اندازہ بھی لگا لیا تھا کہ ”کن“ کی فوج کی موجودہ بدنظمی کے دوران اگر ان پر حملہ کیا گیا تو فتح لازماََ اسی کی ہے۔ یہ بات سوچ کر اس نے اپنا قاصد فوجیان کی طرف بھیجا کہ وہ اپنے لشکر کو کچھ عرصے کیلئے دریا سے کچھ فاصلے پر پیچھے ہٹائے تاکہ کسے‘ کسوہان کی فوج اس پار اترے اور اس سے مقابلہ کرے۔ اس کے فوجی کمانڈر نے یہ بات قبول کرکے اپنی فوج کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا اس فوج میں بدنظمی تو پہلے ہی تھی لیکن پیچھے ہٹنے کی وجہ سے اس میں مزید بدنظمی پیدا ہو گئی‘ اس کے علاوہ دوسری بات یہ ہوئی کہ ”کن“ کی فوج میں ایک ملازم تھا جس نے فوجیان کے سامنے شکست مان لی اس کو جیسے ایک سنہرا موقع مل گیا کہ اس بدنظمی کے دوران زور سے ایسے نعرے لگانے لگا کہ ”کن کی فوج کو شکست ہوگئی۔“ کن کی باقی ماندہ فوج اس غلط بات کو سچ سمجھ بیٹھی۔ پیدل اور گھڑ سواروں نے بھی پیچھے ہٹنے کے دوران ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کی‘ اس لئے فوج کی ساری ترتیب بگڑ کر الجھاؤ کا شکار ہوگئی۔ ”جن“ فوج کا کمانڈر دریا پار کرتے ہوئے تیر سے گھائل ہوگیا‘ اس لئے اس نے تن تنہا شمال کی طرف دریائے(Hui) کی جانب اپنے گھوڑے کو دوڑایا۔
اس جنگ کو ”دریائے فشوئی کا محاذ“ کہاجاتا ہے۔

گائکسیا(Gaixia) کا محاذ:
جنگی حکمت عملی میں بصیرت کے استعمال کی ایک مثال 202 قبل مسیح میں بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ مغربی ہن(Hun) کے حکمران نے مارشل ہن اکسن(Han Xin) کو حکم دیا کہ وہ گائکسیا جاکر ”چوجی“ فوج کا سامنا کرے جس کی قیادت جنرل اکسیانگ یو (Xiang Yu) کررہے تھے۔”چو“ کی فوج طاقتور تھی جس کی تعداد 90 ہزار تھی۔
اس کے علاوہ جنرل اکسیانگ بھی ایک معروف اور نامور بہادر انسان تھے جن کے ساتھ کوئی بھی اکیلا جرنیل مقابلے کی ہمت نہیں کرپاتا تھا‘ ہن اکسن نے سوچ بچار کرکے ایک اہم فیصلہ کر لیا تھا۔ ہن کی فوجیں جیولشن(Jiulishan) کے پہاڑی علاقے میں ایک جگہ گھات لگا کر بیٹھ گئیں‘ اس کے بعد اس ذہین فوجی کمانڈر نے لی ژاؤ چی نامی ایک فوجی عملدار سے کہا کہ وہ جنرل اکسیانگ یو کو دھوکہ دے کر اس گھات والی جگہ تک لے آئے‘ اکسیانگ یو کو مزید پریشان کرنے کیلئے اپنے فوجی یونٹس کو باری باری اس سے لڑنے کیلئے بھیجتا رہا۔ ”چو“ کی فوجوں کو نہ تو آرام مل پایا اور نہ ہی وہ کچھ کھاپی سکیں‘ اس کے بعد ہن اکسن نے اس پر بھر پور حملہ کیا اور زبردست جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا۔

جنگ کے دوران اکسیانگ یوپرتین بار گھات لگائی گئی اور اس نے فرارہونے کے دوران ذاتی طور پر اپنی فوج کی بارہ سے زیادہ بارکمان کی تھی‘ وہ مخالف فوج کے حملوں سے بچنے کیلئے بھاگنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنے دس کے لگ بھگ کر جرنیل بھی مرواچکا تھا۔ آخر کار اسے اپنی فوج کو پیچھے ہٹنے کا حکم دینا پڑا اس لئے کہ اس کے لشکر کو نہ تو آرام میسر تھا نہ ہی کھانے پینے کی رسد تھی اور نہ ہی کسی تازہ دم فوج کی آمد کا آسرا تھا۔ جنرل ہن اکسن‘ فتح کے بعد اکسیانگ یو کے پیچھے لگ گیا اور انہیں کیس دم لینے کی مہلت بھی نہیں دی۔ اکسیانگ یو‘ اس شکست کا صدمہ برداشت نہیں کرپایا اور اپنا سر کاٹ کر خود کشی کرلی اور ”چو“ کی باقی ماندہ باغی فوج نے ہارمان لی۔

اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ مارشل ہن اکسن نے گائکسیا کی یہ جنگ صحیح فوجی حکمت عملی اختیار کرنے کی وجہ سے جیتی تھی‘ اگر وہ فتح کیلئے محض فوج کو استعمال کرتا تو جنگ کا نتیجہ اس کے برعکس نکلتا اور ”چو“ کے لشکر کا اس طرح مکمل خاتمہ نہ ہوپاتا۔

نتیجہ:
اب ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ سن زو کے جنگی حکمت عملی سے متعلق قائم کردہ اصولوں سے ہم نے کیا سیکھا ہے؟ اس نے اپنی کتاب ”جنگی فن“ کے آغاز میں ہی اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جنگ ملک (اور قوموں) کے لئے ایک اہم حیثیت رکھتی ہے ‘یہ زندگی اور موت کا معاملہ ہے‘ یہ بقاء اور تباہی کا ایک راستہ ہے‘ اس لئے لازم ہے کہ اس کا اچھی طرح سے تجزیہ کیا جائے۔ اس کے تناظرمیں جنگی حکمت عملی سے منسلک پانچ اہم نکات اور سات ثانوی نکات یاکم اہمیت کی حامل باتوں کا تقابلی جائزہ لینا چاہئے۔ سب سے پہلے ہمیں ”جنگی قوت“ پر غور و فکر اور اس کا تجزیہ کرنا چاہیئے‘ اس کے بعد اپنی اور دشمن کی خوبیوں اور خامیوں پر نظر رکھنی چاہئے‘ عسکری کمانڈر میں ایسی خاصیتیں ہونی چاہئیں کہ وہ بغیر کسی خون خرابے کے فتح حاصل کرنے کا اہل ہو اور جنگی حکمت عملی کے فن کا بھی ماہر ہو۔

ہم نے دیکھا ہے کہ سن زو نے اپنی کتاب میں اسی بات پر زیادہ زور دیا ہے کہ دشمن کی اختیار کردہ حکمت عملی کو نقصان پہنچانا ضروری ہے۔ سفارتکاری کے ذریعے دشمن کے اتحاد کو ڈانواں ڈول کرنے کے عمل کو وہ ثانوی حیثیت دیتا ہے‘ اس کی سوچ کے مطابق تیسرے نمبر کی اہم بات جنگی میدان میں دشمن کی فوج پر حملہ کرنا ہے۔ جنگی حکمت عملی میں سب سے خراب بات شہروں پر حملہ کرنا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ جنگ لڑنا محض عسکری (نوعیت کا) معاملہ نہیں ہے بلکہ اس کا سیاست‘ اقتصادیات اور جغرافیائی حالات سے بھی گہرا تعلق ہے‘ اگر ان باتوں پر گہرائی کے ساتھ سوچ بچار کی جائے تو دشمن کو باآسانی شکست دی جاسکے گی۔ وہ پیش قدمی (Initiative) اور آگے بڑھ کر دشمن پر پہلے وار کرنے کو زیادہ اہمیت دیتا ہے‘ اس کا یہ بھی خیال ہے کہ دشمن پر نہایت تیز رفتاری سے حملہ کیا جائے تاکہ جنگ کا فیصلہ جلدی ہوجائے‘ طویل جنگ کیلئے کبھی بھی سوچنا نہیں چاہئے۔(یہ باتیں سن زو کے دور کے سیاسی واقتصادی حالات سے متعلق ہیں۔)

سن زو کا خیال ہے کہ جنگی حکمت عملی کو ترتیب دینا ریاست کا کام ہے جرنیل کا کام ہے‘ فوج میں نظم وضبط اور ترتیب کو قائم رکھنا اور جنگ سے متعلق ہدایات دینا‘ دوسرے معنوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ جنگ کے میدان سے باہر جنگی حکمت عملی سے متعلق گہرائی سے غور و فکر کیا جائے‘ ایسی باتیں ”ہر قسم کی جنگ“ میں فتح کی علامت ہوتی ہیں‘ سوچا بھی فقط ان باتوں پر جائے جن پر عملی اقدامات بھی اٹھائے جاسکیں‘ اس لئے بعض خوش فہمیوں سے متعلق سوچنا بھی بے کار کام ہے۔

سن زو نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ جاری جنگ کے دوران کمانڈر کو جارحیت سے کام لینا چاہیئے اور اس کے رویے میں لچک کا ہونا بھی لازمی ہے‘ اس کے علاوہ جنگ کی پیچیدہ اور نازک صورتحال پر بھی نظر رکھی جائے اور دشمن اپنی فوج کے جس حصے کو ناقابلِ شکست اور ناقابلِ فتح سمجھ کر آگے بڑھے اسی پر حملہ کیا جائے‘ ایسا کرنے سے دشمن دہل کررہ جائے گا اور رواں جنگ کے دوران فیصلہ کن تبدیلی آجائے گی‘ اس کے بعد مناسب موقع کی تاڑ میں رہنا چاہیئے اور جنگ کو اپنی فتح کی طرف موڑ دیا جائے۔

ملک (اور قوم) کے طویل المدتی مفاد کو نظر میں رکھ کر جنگی حکمت عملی ترتیب دینی چاہئے لیکن ”قلیل المدتی ضرورت“ کو خوامخواہ زیادہ اہمیت نہ دی جائے۔ جنگ کی منصوبہ بندی کی نسبت حکمت عملی کا فن کہیں زیادہ پیچیدہ اور مشکل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ خوبیوں‘ خامیوں اور نفع و نقصان سے متعلق بھی کھلے دل سے سوچ و بچار کرنا پڑے گا اور ہر عنصر سے فائدہ لینے کی کوشش کرنی ہوگی اور نقصان پہنچانے والی ہر بات سے کسی نہ کسی طرح خود کو بچانا ہوگا۔ (نقصان پہنچانے والی تمام باتوں سے بچ جانے کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔)

آخر میں یہ کہنا بھی لازمی ہے کہ دنیا میں جس طرح ہر بات کے دوپہلو ہوتے ہیں اسی طرح بعض نکات کمزور اور بعض طاقتور ہوتے ہیں جہاں خوبیاں ہوتی ہیں وہیں خامیاں بھی ہوتی ہیں یہ جدلیات کا ایک اصول ہے‘ حالات کے مطابق ایسی باتوں کو الٹ کر مخالف روپ بھی دیا جاسکتا ہے لیکن فیصلہ کن اور اہم بات یہ ہے کہ چھوٹے اور معمولی عناصر کی وجہ سے کبھی بھی گمراہ نہیں ہونا چاہیئے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔