جنگی حکمتِ عملی | قسط 5 – پہلاباب (حصہ چہارم)

56

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ
جنگی حکمتِ عملی اور اُس کا تحقیقی جائزہ

مصنف: سَن زُو
ترجمہ: عابد میر | نظرِثانی: ننگر چنا

قسط 5 | پہلا باب – دفاعی حکمت عملی (حصہ چہارم)

سفارت کاری:
سن زو نے سفارتکاری کو بہت اہمیت دی ہے۔ وہ مختلف حکمرانوں سے اتحاد کرکے مشترکہ دشمن سے مقابلہ کرتا تھا۔ ان دنوں ملک”وو“ موجودہ دور کے سوژو(Suzhou) اور ووسی(Wusi) کے علاقوں پر مشتمل تھا اس کے مغربی اطراف میں چو (Cu) نامی ایک ملک تھا۔ (اب یہ ہوبےHobei‘ انہوئےAnhui اور ہوننHunan کے علاقوں پر مشتمل ہے) یہ دونوں ممالک آپس میں الجھے ہوئے تھے۔ اس لئے ہمیشہ ان کی سرحدی کشیدگی جاری رہتی تھی۔ سن زو کی ہر وقت کی (QI) سے اتحاد کی خواہش ہوتی تھی جو ملک ”وو“ سے مغرب کی طرف تھا کیونکہ ایسا کرنے سے اس طرف سے کوئی خدشہ نہیں رہتا اور یکسوئی کے ساتھ ”چو“(Cu) سے جنگ کرنے میں آسانی تھی۔

سن زو کی کتاب ”جنگی فن“ میں دشمنوں کے قائم شدہ اتحاد کو ختم کرنے اور گرانے کو بہت اہمیت دی گئی ہے جو جنگی حکمت عملی کے فن میں عملی طور پر بڑا مقام رکھتی ہے‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ سفارتکاری کے ذریعے دشمن کے جنگی نقشے میں مقامی جغرافیہ کو نظر میں رکھتے ہوئے اپنی فوجی ترتیب اختیار کرتے کے (خاص حکمت عملی کے ذریعے) دشمن کو شکست دی جائے‘ اس نکتے کو واضح کرنے کیلئے ذیل میں تین مثالیں دی گئی ہیں۔

اسٹالن کا ہٹلر کے ساتھ عدم جارحیت کا معاہدہ:
دوسری عالمی جنگ سے قبل سوویت یونین نے باہمی تعاون کے لئے برطانیہ اور فرانس سے ایک معاہدے کی کوشش کی تھی تاکہ نازی جرمنی کے حملوں سے بچا جاسکے۔ اس زمانے میں ان دونوں ممالک کی کوشش یہ تھی کہ جرمنی کا رخ مشرق یا روس کی طرف کیا جائے اس لئے روس نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ مذکورہ تینوں ممالک کے درمیان ایک دوسرے کیلئے کوئی معاہدہ طے ہوجائے لیکن برطانیہ اور فرانس نے اس بات کو پرکاہ برابر اہمیت نہ دی لہٰذا اسٹالن نے اور کوئی راہ نہ پاکر جرمنی کے ساتھ عدم جارحیت کا معاہدہ کرلیا۔ اس معاہدے کے بعد جرمنی نے کچھ وقت کیلئے روس کی طرف پیش قدمی روک دی‘اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ روس کو عسکری تیاریوں کا سنہری موقع مل گیا‘ ان دنوں برطانیہ اور فرانس کے حکمران روس کے حکمرانوں جتنے باخبر نہ تھے۔ جلد ہی ہٹلر انہیں دن میں تارے دکھانے لگا تھا اور اس نے اپنی تیز رفتار جنگی حکمت عملی کے ذریعے انہیں ہلا کر رکھ دیا تھا۔ کامریڈ ماؤزے تنگ کے بقول ”انہوں نے اپنے پیروں پر خود کلہاڑی ماری تھی۔“

اسٹالن نے تدبر سے کام لیتے ہوئے ہٹلر کے ساتھ عدم جارحیت کا معاہدہ کیا اور یوں اسے جنگی تیاریاں کرنے کی مہلت مل گئی۔ یہ بات فوجی حکمت عملی کے نقطہ نظر سے انتہائی اہم ہے۔

کی (QI) اور چو(Cu) کے مابین قائم اتحاد کا خاتمہ:
جنگوں کے دور(221-1475ق۔م) میں کن(Qin) کے حکمرانوں کی ”کی“(Qi) پر یلغار کرنے کی خواہش تھی لیکن اس زمانے میں کی اور چوکے مابین اتحاد کا معاہدہ موجود تھا اس لئے وہ اس پر یلغار سے کنی کترارہا تھا جس کی وجہ سے کن کے حکمران ”ژینگ یی“ نے چو پہنچتے ہی ملکہ نن سے جاکر ملاقات کی اور تحفے کے طور پر قیمتی موتی اور سنگ شیشم کے پتھر انہیں پیش کئے اور عرض کیا کہ چو کے حکمران کی طرف یہ پیغام بھجوایا جائے کہ کن کے حکمران نے ژنگ یی کو ملک چو کے حکمران کی جانب سفیر کے طور پر بھیجا ہے کہ بادشاہ اپنے ملک کا چھ سو ”لی“ علاقہ اس شرط کے ساتھ ”چو“ کے حوالے کرنے کیلئے تیار ہے کہ وہ ان کے ساتھ عدم جارحیت اور اتحاد کا معاہدہ کرے گا۔“

چو کے بادشاہ نے ژانگ یی سے ملاقات کی۔ ملک کن کے سفیر ژانگ یی نے اسے گزارش کی کہ اگر وہ کن کے حکمران سے دوستی کرلیں تو اس سے انہیں بے پناہ فائدہ پہنچے گا۔ حکمران چو‘ علاقے کی پیشکش کے دام میں آ گیا (جو چھ سو’لی‘ یا دوسو میلوں کے برابر تھا) اور کن کے حکمران سے اتحاد کرنے کا وعدہ کیا۔ کی کے حکمران کو جب چو اور ژنگ یی کے درمیان ہونے والی گفتگو کی بھنک پڑی تو وہ بہت سیخ پا ہوا اور یہ سمجھا کہ یہ اس کے خلاف سازش ہے اس کے بعد کی اور کن دوست سے بدل کر ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔

حقیقت یہ ہے کہ دوسو میل علاقہ دینے کی پیشکش ایک دھوکہ تھا۔ جب ”چو“ بادشاہ کا سفیر پیش کردہ علاقہ لینے کے لئے کن پہنچا تو ژنگ یی نے اس سے کہا کہ ”میں نے کن کا دو سو میل علاقہ دینے کیلئے نہیں کہا تھا بلکہ میں نے تو صرف دو میل کہا تھا جو کن کے نہیں بلکہ میرے علاقے میں سے ہے۔“ جب بادشاہ چو کو اس فریب کا پتہ چلا تو بہت بھڑکا اور کن پر حملے کیلئے فوج روانہ کردی لیکن اسے شکست ہوئی اس زمانے سے ”چو“ کا ملک اکیلا ہوگیا اور ”کی‘چواتحاد“ ٹوٹنے کی وجہ سے ”کن“ نے دونوں ممالک فتح کرلئے۔

جن (Jinاورکن(Qin) کا اتحاد:
بہارا ورخزاں کے دور میں (476-770 قبل مسیح) میں ژینگ (Zheng) ملک کے حکمران نے کوشش کرکے ”جن“ اور ”کن“ ممالک کے درمیان قائم اتحاد کو ختم کروادیا تھا‘ اس زمانے میں مذکورہ بالا دونوں حکمران ژینگ پر حملہ آور ہوئے تھے۔ یہ ملک چھوٹا سا تھا اور دونوں طاقتور ریاستوں جن اور کن کے مابین پس رہا تھا ژینگ نے چو سے اتحاد کیا تھا‘ اسے یہ آسرا تھا کہ مشکل گھڑی میں وہ اس کی مدد ضرور کرے گا لیکن وہ کن اور جن کی قوت سے خوفزدہ ہوگیا تھا‘ اس لئے اس کی طرف اپنی فوج بھجوا نہیں پایا‘ ژینگ تب انتہائی خراب صورتحال میں گرفتار تھا‘ اس کشیدہ صورتحال میں ژینگ نے اپنے ایک فصیح وبلیغ اور دانشمند اہلکار ژوژیوو (Shu Zhweu) کو بادشاہ کن کی طرف روانہ کیا‘ اس نے کن حکمران سے پوچھا کہ آپ”جن“ کی حمایت کرکے ژینگ پہ یلغار کر رہے ہیں اس کا سبب کیا ہے؟ کن نے اس سے کہا کہ ”اس کا سبب یہ ہے کہ ژینگ نے‘ جن کے ساتھ دھوکہ کیا۔

اس پہ ژوژیوو نے اس سے گزارش کی کہ یہ بالکل ٹھیک ہے کہ ژینگ نے جن سے دغا کی تھی لیکن وہ ہمیشہ راجا ”کن“ کی بے انتہا عزت کرتا ہے اور اسے انتہائی بڑا حکمران سمجھتا ہے‘ ”جناب! آپ عقل مند اورداتا ہیں آپ نے جن کو مضبوط کیا ہے اور اب بھی اسے مضبوط کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور ژینگ پر حملہ کرنے کا سوچ رہے ہیں اس کا ملک بہت دور ہے آپ کا لشکر اس ملک کی طرف سفر کرکے بہت تھک جائے گا‘ ژینگ کا ملک فتح ہونے کے بعد ”جن“ تو نہایت طاقتور ہوجائے گا آپ اور ”جن“ آپس میں ہمسایہ ہیں اگر وہ مزید طاقتور ہوگیا تو وہ پھر ملک ”کن“ کے لئے خطرے کا سبب بن سکتا ہے‘مجھے ملک ”کن“ کے مستقبل سے متعلق تشویش لاحق ہوگئی ہے ”جن“ کا ملک وفادار اور مخلص نہیں ہے اس نے کسی زمانے میں ”کن“ کے حکمران سے وعدہ کیا تھا کہ وہ دریائے ہنگ(Hung) کے مغربی کنارے کا علاقہ اسے دے گا لیکن اس نے اپنا یہ وعدہ کبھی وفا نہیں کیا بلکہ اس نے اپنی فوجیں بھیج کر ملک ”کن“ کی سرحدوں پر خوف اور خطرے کے حالات پیدا کردیئے تھے‘ کیا آپ اپنے ہمسایہ حکمران کو مختلف اقسام کے طعام کھلانا پسند فرمائیں گے جس کی نیت چیتے جیسی خونخوار ہے؟ اس لئے ”کن“ کے حکمران کو میرا مشورہ تو یہ ہے کہ وہ اتنی بڑی مہم سے دستبردار ہوکر واپس لوٹ جائیں‘ ایسا کرنا ملک ”کن“ کے مفاد میں ہے اگر ”کن“ کے بادشاہ میرا مشورہ مانیں گے اور یہیں سے اپنی فوجیں واپس کرلیں گے تو ژینگ آپ کو خراج ادا کرنے کیلئے تیار ہے‘ اگر کن کا حکمران وسطی میدانی علاقوں کی طرف فوج کو لے جائے گا تو ژینگ کا ملک آپ کا فوجی مدد گار بننے کیلئے بھی تیار ہے اس سے ”جن“ کے کسی امکانی خطرے کے دوران ملک ژینگ کے مشرقی و مغربی علاقہ ”کن“ کے بادشاہ کے لئے دفاع کی دیوار بن سکتا ہے۔“

اس کھری اور سچی رائے کے اظہار پر کن بادشاہ کوئی بھی جواب نہیں دے سکا ‘اس کی خاموشی سے لگتا تھا کہ وہ ہر بات کو سمجھ چکا ہے‘ اس کے بعد کن کے بادشاہ نے اپنی فوج واپس بلالی۔

اس بادشاہ کی فوج واپس ہونے کے بعد ”جن“ بادشاہ نے سمجھ لیا کہ ”چو“ کا حکمران ژینگ کا اتحادی ہے اگر وہ ژینگ پر لشکر کشی کرے گا تو ”چو“ ضرور اس کی مدد کرے گا اس لئے ”جن“ نے بھی اپنی فوج واپس کر بلالی اور بغیر کسی خون خرابے کے ژینگ کا گھیراؤ ختم کردیا گیا۔ چین کی جنگی تاریخ کی یہ انوکھی مثال ہے کہ سفارتکاری کی طاقت کے ذریعے کسی ملک کے خلاف گھیراؤ ختم کردیا گیا ہو۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔