جنگی حکمتِ عملی | قسط 2 – پہلاباب (حصہ اوّل)

84

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ
جنگی حکمتِ عملی اور اُس کا تحقیقی جائزہ

مصنف: سَن زُو
ترجمہ: عابد میر | نظرِثانی: ننگر چنا

قسط 2 | پہلا باب – دفاعی حکمت عملی (حصہ اوّل)

جنگ کی حکمت عملی کے فن سے متعلق غور و فکر سن زو کا بنیادی نظریہ ہے جس کے مطابق دشمن کو فقط فوجی قوت سے ہی نہیں بلکہ ہوشیاری‘ چالا کی اور عقلمندی سے بھی شکست دینے کی کوشش کرنی چاہیئے۔ اُسے اس بات کا یقین تھا کہ دو فوجی لشکروں کے مابین مقابلہ فقط فوجی کارکردگی کا نہیں ہوتا بلکہ اس تضاد کے ساتھ دیگر پہلو مثلاً سیاست، اقتصادیات، فوجی قوت اور سفارت کاری بھی اپنا نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔

سن زو کا جنگ کے دوران تین باتوں جیسے کہ نیک نیتی سے جدوجہد، معاملات پر سنجیدگی سے غور و فکر اور انتظام میں تدبر سے کام لینے پر زور ہوتا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ ”جنگ کسی بھی ریاست کیلئے نہایت اہم معاملہ ہے کیونکہ اس میں زندگی اور موت کا سوال ہے اگر اس میں فتح حاصل ہوتو بقاء ہے اور شکست حاصل ہو تو تباہی۔ اس لئے ضروری ہے کہ جنگ سے وابستہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی کئی بار سوچا جائے اور غور و فکر کیا جائے۔

جنگ سے وابستہ پانچ اہم باتیں

سن زو کا کہنا ہے کہ جنگ کا اندازہ لگانے کیلئے پانچ باتوں پر توجہ دینا انتہائی ضروری ہے جس کے بعد دشمن کے حلقے اور اپنے حالات کا تقابلی جائزہ لینا ہوگا، تاکہ ان باتوں کا صحیح اندازہ لگایا جاسکے کہ جنگ کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ یہ بیان کردہ باتیں درج ذیل ہیں:
1۔ سیاست۔2۔ موسم۔3۔ مقامی جغرافیائی صورتحال۔4۔ فوجی قوت۔5۔ اصول۔

مختصر الفاظ میں اگر یہ کہا جائے کہ سن زو کا ایقان تھا کہ ان باتوں پر گہر سوچ و بچار کی جائے جو جنگ کی فتح اور شکست کا فیصلہ کرتی ہیں‘ ان میں سے پانچ اہم اور سات کم اہم باتیں ہیں جو جنگ کے معاملے میں نہایت اہم سمجھی جاتی ہیں۔
لفظ ”سیاست“ سے سن زو کا مطلب ہے کہ قیادت کو ایسی سیاسی حکمت عملی یا ان میں سے ایسی باتیں اختیار کرنی چاہئیں کہ ان کی رعایا ان کے ساتھ ہر عمل اور ہر حصے میں ہم آہنگ ہوجائے۔

”موسم“ سے اس کی مراد بعض فطرتی چیزیں اور ان کے اثرات ہیں جیسے کہ شب و روز‘ برسات اور شفاف دن‘ خوشگوار موسم‘ سردی گرمی اور مناسب موسم سے مطلوبہ کام لینا اور بیکار عناصر سے بچاؤ‘ مقامی جغرافیائی صورتحال(Terrian) سے سن زو کا مطلب یہ ہے کہ فاصلہ یا مطلوبہ زمینی سطح سفر کرنے میں آسان ہے یا کٹھن یا وہ علاقہ آگے بڑھ کر حملہ کرنے کیلئے مناسب ہے یا دفاعی جنگ کے لئے؟ جہاں تک فوجی کمانڈر یا قیادت کا تعلق ہے تو اس میں ایک جنرل جتنی دانش‘ نیک نیتی‘ خلوص‘ دلی وسعت‘ بہادری‘ احتیاط‘ سخت گیری کی خصوصیات بھی ہونی چاہئیں۔ اس کے ہاں اصول (Doctrine) کا مطلب ہے فوجی ترتیب و ضابطہ‘ تنظیم اور فوجی عملداروں مناسب ذمہ داریاں سونپنا‘ ہر کام کے اصول و ضوابط میں باقاعدگی اور فوجی نقل و حرکت کا انتظام کرنا وغیرہ۔

سن زو کے نقطہ نظر کے مطابق مندرجہ بالا باتوں کے تجربے سے جنگ میں فتح یا شکست کا باآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ان باتوں کی مزید جانچ پڑتال کیلئے درج ذیل سات سوالات کے جواب دینے ہوں گے جو اہمیت کے لحاظ سے ثانوی درجے کی باتیں ہیں:
1۔ جنگ کرنے والے دونوں حلقوں کی سیاسی قیادت میں سے زیادہ دانشمند اور معاملہ فہم کون ہے؟
2۔ دونوں اطراف کی عسکری قیادت میں سے زیادہ عقلمند یا قابل کون ہے؟
3۔ دونوں فریقین کی افواج میں سے کس کو زیادہ فطری اور مقامی جغرافیائی سہولیات میسر ہیں؟
4۔ دونوں میں سے کس فوج میں ضابطہ اور ترتیب زیادہ ہے؟
5۔ دونوں میں سے کونسی فوج زیادہ طاقتور ہے؟
6۔کس فوج میں ترتیب یافتہ عملدار اور سپاہی زیادہ ہیں؟
7۔ کس فوج میں انعام‘ سزا کا نظام اور روشن خیالی زیادہ ہے؟

اگر کوئی شخص مندرجہ بالا مذکورہ تمام باتوں کا جامع انداز میں تجزیہ کرے گا تو اسے مکمل پتہ چل جائے گا کہ دونوں فریقین میں سے کس کی فتح ہوگی؟ لیکن جہاں تک موجودہ دور کے جدید ہتھیاروں کی جنگ کاتعلق ہے تو مندرجہ بالا نقاط نامکمل ہیں۔البتہ دوہزار سال قبل سن زو کے دور میں یہ باتیں اہم سمجھی جاتی تھیں۔

چین اور جاپان کی جنگ کے دوران کامریڈ ماؤزے تنگ نے فوجی نقطہ نگاہ سے ایک شاندار مقالہ لکھا تھا جس کا عنوان تھا‘On The Protracted War جس میں اس نے سیاسی‘ اقتصادی‘ فوجی‘ سفارتی اور جغرافیائی نقاط کا اچھی طرح سے جائزہ لیا تھا‘ اس طرح وہ اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ چین حملہ آور جاپان کو شکست دے گا۔ تاریخ نے اس کی اس پیشنگوئی کو سچ ثابت کیا‘ چین کا آنے والا دور حملہ آور جاپان سے مختلف ہوگا اور چین میں اس وقت تک بہت بڑی تبدیلی آچکی ہوگی لیکن سن زو کی جنگ کا تجزیہ اور چین کی جنگی حکمت عملی کے فن کی اہمیت تب بھی وہی پہلے جیسی رہتی ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔