جنگی حالات و مقامی لوگوں کی نفیسات – ہونک بلوچ

56

جنگی حالات و مقامی لوگوں کی نفیسات

تحریر: ہونک بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

دنیا میں یہ بحث کا فی دیکھنے کو مل رہا ہے کہ اکثر لوگ نفسیاتی مریض ہیں اس کی وجوہات کیا ہیں، کیوں لوگ نفسیاتی مریض ہو رہے، اکثر کہتے ہیں کہ اس کی وجوہات دنیا میں جنگ ہے اور خاص کر ترقی پزیر ممالک میں بے روزگاری اور غربت ہے جس کی علاج نہیں ہو رہی ہے اس لئے ترقی پزیر ممالک میں ایسے لوگ خود کو مطمئین کرنے کے لئے مولویوں اور پیر و فقیروں کی مد د سے دعاوں اور تعویزوں کا سہا را لیے جاتے حتاکہ کچھ سہولیات نا ہونے کی صورت میں لوگ یقین کی حد تک ان کے پاس جاتے ہیں اس سے اپنی علا ج ڈونڈنے کی کوشش کر تے ہیں مگر حقیقت یہی ہے ان کی علاج یہ نہیں جو لوگ مطمین ہونے جایا کرتے ہیں اس سے یہ اخذ کی جاتی ہے ڈاکٹر اور نفسیاتی علاج نہ ہو نے کی وجہ اپنی مدد آپ کہہ سکتے ہیں، یہ مجبوری کی صورت کرتے ہیں۔

کچھ سمجھنے کے بعد سب سے پہلے نفسیات کے متعلق جاننے کی کو شش کر تے ہیں ’’نفسیات کا علم کسے کہتے ہیں جس کے تحت بنیادی طور پر انسان کی ذہنی اور دماغی زندگی اس کی ابتدا اور اس کے مختلف پہلوؤں پر بحث کی جاتی ہے‘‘ (نو ٹ یہ الفا ظ کسی اور کے ہیں جو مجھے اچھے لگے اس لئے بغیر رد بدل کے آپ تک پہنچا رہا ہوں)

نفسیات کی تعریف مختلف مفکرین نے الگ الگ الفاظ میں کی ہے لیکن تمام مفکرین کے خیالات کو یکجا کر دیا جائے تو نفسیات کی تعریف یہی ہوگی کہ ایک ایسی سائنس (علم) جس کے تحت انسان کے دماغ، ذہن، خیالات، احساسات، کردار اور اس سے سرزد ہونے والے مختلف افعال پر بحث کی جاتی ہے۔

اب چونکہ علم نفسیات کے تحت انسان کی ذہنی زندگی کے مختلف پہلو زیر بحث آتے ہیں اس لیے انسان کے تعلق کی بنا پر مختلف شعبوں میں الگ الگ بحث اور تحقیق کی جانے لگی ہے لیکن ہم چند ایسے چیزوں کو بحث کرتے ہیں جس سے ہماری قوم دو چار ہے، خاص کر جنگی نفسیات کا شکار ہونا جسے ذہنی مریض کہتے جو جنگی نفسیات کی بنیاد پر پیش آتا ہے۔

سماجی نفسیات (Social Psychology)
نفسیات کی اس شاخ کے تحت فرد اور سماج کے تعلق سے افعال پر بحث کی جاتی ہے۔ اس کے تحت فرد کی اجتماعی زندگی، رسم و رواج، عادات و اطوار اور فرد کا اپنے ماحول سے رشتہ جیسے مسائل پر بحث ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جس لوگوں کی پرورش ہوتی ہے اسی طرح زندگی کی گزار رہے ہیں ان کی شخصیات ویسی دیکھی جاتی ہے، بی بی سی اردو کی ۲۰۱۲ رپورٹ کے مطابق ’’دنیا بھر میں پینتالیس کروڑ لوگ کسی نا کسی طرح کی ذہنی بیماری کا شکار ہیں جس میں سے تقریباً ایک تہائی مریض ترقی پذیر ممالک میں ہیں‘‘

بلوچستان جسے نوآبادیاتی ممالک میں رہنے والے تحقیق کریں اس سے ہم کتنے لوگ شکار ہیں کیونکہ ہم اپنے اختیار اور مطابق سے سوچ نہیں سکتے، اٹھ نہیں سکتے، کام نہیں کرسکتے اور کاروبار نہیں کرسکتے ہیں وغیرہ وغیرہ

اسی رپورٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں رہنے والے ایسے دس میں سے آٹھ مریضوں کا تو علاج ہی نہیں کیا جاتا ہے۔ ذہنی طور پر بیماروں کو یہ مرض یا تو متعدی بیماری سے لگا یا پھر قدرتی آفات یا جنگ جیسے حالات سے بچنے کے بعد وہ اس میں مبتلا ہوئے۔

ہم بلوچستان پر نگاہ ڈالنے کی کوشش کریں کس کیفیت میں بلوچ گزر رہی ہے، قدرتی آفات تو مصنوعی اور قدرتی یہاں ہوتے رہتے ہیں کبھی اللہ کی طرف یا کبھی پاکستانی فوج کی طرف اسی طرح قحط تو کہیں پر سیلاب ایسے میں زلزلہ اور پاکستانی فوج کی جبر و تشدد کی کردار وہاں بلوچوں کی جبری طور پر اغوا نما گرفتاری، تشدد زدہ لا شیں فوج کے قائم کردہ ڈیتھ اسکواڈ اوپر سے تعلیم جسے زیور سے دور رکھنا یہ سب بیماریا ں بلوچستان میں پائے جاتے ہیں، اندازا لگایا جاسکتا ہے ہر دوسرا انسان نفیساتی الجھنوں کا شکار ہوتا ہے۔

کچھ کہانیوں کا ذکر کرتا ہوں؛ مشکے میں بوڑھی عورت جس کے خاوند فوت ہوچکا تھا، ایک رات پاکستانی فوج اُس عورت کے گھر میں جاتے ہیں گرمیوں کے رات تھی جہاں سارے لوگ باہر سوتے ہیں کیونکہ وہاں بجلی جیسی سہولت مسیر نہیں، بوڑھی عورت اٹھ کر بیٹھ جاتی ہے تو فوجی اُس عورت پر لائٹ مارکر پوچھتا ہے کدھر ہے آپ کے خاوند جو نظر نہیں آتا ہے تو عورت کہتی ہے میرے خاوند مرچکا ہے اس دنیا میں نہیں ہے وہ فوجی کہتا ہے نہیں آپ اپنے خاوند کے بارے میں نہیں بتا رہے ہیں کیونکہ وہ پہاڑوں میں ہمارے خلاف لڑ رہا ہے، اس طرح بلوچ تذلیل ہو رہا ہے۔

ایک اور واقعہ مشکے کا بتا رہا ہوں ایک مزدور کافی وقت سے بیرون ممالک مزدوری کرنے کیلئے چلے گے تھے جب وہ بڑی وقت کے بعد اپنے گھر واپس جا رہا تھا ان کے والد اپنے علاقے کی حالات بہتر جانتے تھے جہاں سینکڑوں فوجی چوکیاں قائم تھے اس لئے وہ کراچی سے ان کے لئے جاتے تاکہ اپنے ساتھ لائیں جب باقی چوکیوں سے گزر کر ہر چوکی پر روایات کے مطابق روک پر تلاشی لیا جاتا جن کی تعدار بہت ہے۔
گجر کے مین فوجی کیمپ کے سامنے لوکل گاڑی حسب معمول روک لیا جاتا ہے تو سب سے پوچھا جاتا ہے کہ جس جس کے پاس امن کارڈ نہیں ہے وہ اُتر جائیں، امن کارڈ وہی ہے جسے فوج لوگوں کو دیتے ہیں اس کے پاس نہیں تھا اسے اتر کر کہتے امن کارڈ کیوں نہیں بنایا ہے اس کے وجوہات کیا ہے۔ یہ اپنے بچوں کی دیکھنے کے لئے دو مہینے چھٹیاں گزارنے کیلئے آئے تھے اسے روز پیشی پر مانگا جاتا تھا صرف اس لئے ان میں خوف موجود رہے ایسے میں لوگ ذہنی مریض بن چکے ہیں۔

مشکے میں شادیوں سے دلہے کو اٹھا کر ان کو شہید کیا گیا ہے، خوشی کی جگہ ماتم کا سما رہی ہے یہ صورت حال ایک جگہ نہیں پوری بلوچستان میں ملتا ہے اس وقت بلوچستان میں ذہنی مریض ہزاروں کی تعداد میں ملتی ہے، جو نفیساتی مریض ہوچکے ہیں جس کی وجہ قابض پاکستان کی جبر و تشد د ہے۔

دشت مکران میں کچھ ایسے واقعات ہوچکے ہیں جو بیاں کرنے سے انسانی ہکاں بکاں ہو جاتا ہے۔ حال ہی میں طلبا اور طالبات کے ساتھ بلوچستان میں جو رویہ روا رکھا گیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان جیسے ملک میں، جہاں گذشتہ چالیس برس سے جنگ جاری ہے، تقریباً ہر خاندان کا ایک یا اس سے زیادہ فرد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ایک تخمینے کے مطابق ۲۵ برس سے اوپر کے تقریباً نصف افغان شہری ڈیپریشن، اضطراب یا ہیجان جیسی ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہیں لیکن دارالحکومت کابل کے باہر ذہنی امراض کے علاج کے لیے کوئی بھی انتظام نہیں ہے لیکن ذہنی امراض سے متاثرہ لوگوں کے لیے افغانستان اکیلا ملک نہیں اور ایسے مریضوں کی نصف آبادی ان ممالک میں ہے جہاں دو لاکھ مریضوں پر ایک نفسیاتی ماہر یا اس سے بھی کم ہے۔

دو ہزار دس میں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے رکن ممالک کے وزراء نے ذہنی بیماریوں سے متعلق توجہ دینے اور بیداری مہم چلانے جیسے امور کی بات کہی تھی لیکن اس سمت میں اب تک کوئی خاطر خواہ کوشش نظر نہیں آتی۔ البتہ کینیڈا کی حکومت نے کہا ہے کہ ذہنی امراض کی تشخیص اور ان کے علاج کے لیے وہ تقریباً دو کروڑ ڈالر کی امداد فراہم کرے گا۔

’گرینڈ چيلنج کینیڈ‘ نامی ایک تنظیم نے اس کا بیڑا اٹھایا ہے اور صحت کی بہتری اور کاؤنسلنگ جیسی سہولیات مہیا کرے گي۔
تنظیم کے ڈاکٹر پیٹر سنگر کا کہنا ہے ’غریب اور اوسط درجے کے ممالک میں ذہنی بیماریوں کے علاج کے لیے فنڈز کی بہت کمی ہے جہاں ذہنی امراض کو دیگر بیماریوں کی طرح ہی نظر انداز کیا جاتا ہے۔

افغانستان جو ایک ملک تو ہے جہاں جنگی تباہ کاری سے لوگ ذہنی مریض یعنی نفسیاتی مریض ہوچکے ہیں، یہ انسانی تباہی جنگ، غربت، نا انصافی پیدا کرتے ہیں حاتکہ لوگ خود کشی بھی کرتے ہیں۔

بلوچستان جو پاکستان کی نوآبادی ہے وہاں آزادی کی جدوجہد شروع ہے لوگ اپنے حق آزادی کے لئے جدوجہد کررہے ہیں وہی پاکستان کے جبر جاری ہیں پاکستانی فوج کی تاریخ میں ان کی بہیودگی کے بارے میں ہر باشعور شخص جانتا ہے کہ ایک زندہ تاریخ جو بنگلادیش میں پوری دنیا نے دیکھ لی ہے پڑچکی ہے وہی سب کچھ بلوچستان میں پاکستانی فوج کررہی ہے اس وقت بلوچستان میں ایسا گھر باقی نہیں جو پا کستانی جبر سے مبرا ہوں، ہر گھر سے کوئی نہ کوئی بلوچ فرزند شہید یا غائب ہے ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو ان کے تشدد گاہوں سے آزاد ہو کر آئے ہیں بعد میں خود کشی کرچکے ہیں ایسی حالات میں بلوچستان کے لوگ کس طرح کے زندگی گزار رہے ہیں اندازہ لگا سکتے ہیں غر بت، جبر و تشدد، نا انصافی بلوچ گذشتہ ستر سالوں سے دیکھ رہا ہے جس طرح بلوچ اپنی ذہنی صلاحتیں کھورہے ہیں جس طرح کے حالات سے افغا نستان اور دیگر جنگی ممالک کے لوگ گذر رہے ہیں اس طرح کے حالات سے بلوچ دوچار ہے۔

اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ بلوچستان میں فیک فائنڈنگ مشن بیجے تاکہ بلوچستان کی اصل صورت حال سے ان کو اور باقی دنیا کو آگاہی مل سکیں پاکستان کی بیہودگی اور نا انصافی کس سطح پر ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔