تیرہ نومبر، ہماری کوتاہیاں، کمزوریاں اور ذمہ داریاں ۔ حکیم واڈیلہ

137

تیرہ نومبر، ہماری کوتاہیاں، کمزوریاں اور ذمہ داریاں۔

حکیم واڈیلہ

دی بلوچستان پوسٹ

ہر سال کی طرح اس سال بھی بلوچ قوم، بلوچ سیاسی جماعتیں اور تنظیمیں بلوچ شہداء کو یاد کرکے خراج تحسین پیش کرنے کی خاطر مختلف پروگراموں کا انعقاد کررہی ہیں۔ اور ابھی سے ہی تیرہ نومبر کی خاطر تیاریوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ یقیناً تیرہ نومبر موجودہ بلوچ قومی تحریک میں انتہائی اہمیت کا حامل دن ہے۔ اس دن کا چناؤ اور اس کے پیچھے کارفرما سوچ اور مثبت حکمت عملی کے بدولت آج تقریباً تمام فریقین (ماسوائے بی آر پی کے جو کہ ان کا بحیثیت سیاسی پارٹی بنیادی جمہوری و سیاسی حق ہے) بلوچ شہداء کو تیرہ نومبر کے دن یاد کرتے ہیں۔ اور انہیں بھرپور خراج تحسین پیش کرتے ہیں، اور یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم تمام شہیدوں کے خون کا بدلہ بلوچستان کی آزادی کی صورت میں لینگے۔ یقیناً قومی شہیدوں کو یاد کرنا انہیں خراج عقیدت پیش کرنا ایک انتہائی اہم عمل اور بحیثیت قوم ہماری ذمہ داری اور فرائض میں شامل ہے، لیکن کیا ہماری ذمہ داری صرف ایک مخصوص دن اور مخصوص پروگرام تک محدود ہوجاتی ہے؟

آیئے آج ہم تیرہ نومبر کے حوالے سے اپنی زمہ داریوں کا تعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس بات سے ہم سب ہی واقف ہیں کہ تیرہ نومبر کیوں منایا جاتا ہے۔ اور یقیناً یہ بھی ہم سب سمجھتے ہیں کہ شہیدوں کو سلام پیش کرنے اور خراج تحسین پیش کرنے کی بنیادی وجہ کیا ہے۔ لیکن کیا ہم واقعتاً سلام پیش کرنے اور خراج تحسین پیش کرنے کے بعد اُن شہداء کے عمل، ان کی زندگی، ان کے کردار و انکے دکھائے ہوئے راستوں پر ایمانداری سے محو سفر ہیں؟ بقول شہید غلام محمد بلوچ “اگر میں دوسروں کو انکی شہادت پر سرخ سلام پیش کرسکتا ہوں تو اپنی خاطر یہ شہادت کیوں قبول نہیں کرسکتا“ یقیناً بہت سے احباب یہ ضرور سوچیں گے یا کہیں گے کہ لندن میں بیٹھ کر شہید غلام محمد کے اقوال کا حوالہ دینا بہت آسان ہے لیکن گراونڈ میں موجود رہ کر جدوجہد کرنا اتنا ہی مشکل۔ اس حقیقت کو جانتے، مانتے اورسمجھتے ہوئے کہ ہم جو بیرون ممالک میں مقیم خاص طور پر یورپ اور امریکہ جیسے ممالک میں جہاں ہمیں کم از کم ریاستی موت کا خطرہ نہیں( جس پر گذشتہ تحریر میں بھی لکھ چکا ہوں) تو ہم پر اور بھی زیادہ زمہ داریاں عائد ہوجاتی ہیں۔ کیونکہ آج بلوچستان میں سیاسی عمل کے وجود کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔ سیاسی رہنماوں، طالب علموں اور استادوں کا اغواء و قتل خود اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ بہر حال بلوچستان کے سیاسی ماحول کو مد نظر رکھتے ہوئے اور وہاں کے لوگوں کی خاطر آواز اٹھانے والے ایک ادنیٰ سیاسی کارکن کی حیثیت سے جو کچھ دیکھ رہا ہوں، سوچ رہا ہوں اور کہنا چاہتا ہوں وہ قلم بند کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

تیرہ نومبر جسے تجدید عہد کا دن بھی کہا جاتا ہے۔ اس دن کی حیثیت ایک دن کی نہیں یہ دن در حقیقت اُس سائیکل کا سب سے اہم پیڈل ہے جو سال کے تین سو پینسٹھ دن چلتا رہتا ہے۔ تیرہ نومبر ایک ایسی شام نہیں جو ایک دن میں آتی اور چلی جاتی ہو، یا کوئی ایسا تہوار نہیں جو تین دن، پانچ دن یا سات دن طویل ہو۔ بلکہ اس دن کو ہزاروں شہیدوں کی مائیں، بہنیں، اولادیں، بزرگ، دوست احباب اپنے کسی پیارے کو یاد کرکے انکی قربانی کا قابل فخر حوالہ بیان کرنے کے ساتھ ساتھ بلوچ قومی جہدکاروں کی کامیابی کیلئے دعا گو ہوتے ہیں۔

بلوچ جہدکاروں کی کامیابی کے لئے دعا گو ہونے والی ماؤں کی امیدیں اور ہمارے کردار کا تعین۔

کیا ہم نے کبھی بھی اس بابت سوچنے کی ضرورت محسوس کی ہے کہ آج ہم بحیثیت تحریک کے وارث جس تحریک کی وجہ سے ہم میں سے اکثر کو عزت، شہرت اور جو نام میسر ہوا ہے کیا ہم واقعی اس نام اور عزت کی لاج رکھ رہے ہیں؟ کیا ہم واقعی سنجیدگی سے اس بات کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں کہ جس ماں نے اپنے لخت جگر کی مسخ شدہ لاش دیکھی ہو اس کی امیدیں اور توقعات ہم سے کیا ہونگی؟ کیا ہم اب تک اس سوچ کی بندش سے آزاد ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ کاش اگر وہ (شخص، کردار، کارست) زندہ ہوتا/ہوتے تو آج حالات یک سر بدلے ہوئے ہوتے؟ کیا آج کے حالات و واقعات میں جہاں ایک طرف دشمن پوری شدت کے ساتھ مختلف حربے استعمال کرکے بلوچ قومی غیرت، ننگ و ناموس اور بلوچ شناخت و تاریخ کو مسخ کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہا ہے ایسے حالات میں سستی، کاہلی، مصروفیات اور مجبوریوں کا بہانہ بنانا کونسی قومی و اخلاقی ذمہ داری کی زمرے میں آسکتا ہے؟ آج جہاں ایک طرف بلوچ نوجوان سر پر کفن باندھ کر یہ جانتے ہوئے کہ جس مشن پر ہم جارہے ہیں وہاں سے واپسی ناممکن ہے۔ اس طرح کی عظیم قربانیوں کے باوجود بھی انتہائی سطحی اور غیر ضروری مسائل میں الجھنا شہداء کے قربانیوں کی تذلیل نہیں؟ کیا ان سنگین حالات میں اتحاد و یکجہتی کا نعرہ لگانے کے بجائے اپنی موجودہ قوت کو یکجاء کرنے اور اسے بہترین حکمت عملی و دور رس نتائج پر مبنی پلاننگ کے ذریعے منظم و کارآمد بنانے کے اشد ضرورت نہیں؟ یقیناً ان تمام مسائل و سوالات کا جواب و حل ہمارے عمل، بہتر حکمت عملی و ایمانداری میں پوشیدہ ہیں۔

آج کے سنگین حالات میں جہاں عالمی و علاقائی حالات میں انتہائی تیزی سے تبدیلی کے آثار نظر آرہے ہیں تو وہیں غیر فطری ریاست پاکستان کو درپیش اندرون و بیرون مسائل بھی مزید بڑھتے جارہے ہیں، آج پاکستان میں جس طرح کے حالات پیدا ہوچکے ہیں، وہ یقیناً بلوچوں کے لئے بہت اہم اور مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں لیکن کیا بلوچ لیڈر شپ، کیڈرز اور دانشوران ان حالات کو سمجھنے، پرکھنے اور انتہائی باریک بینی سے تجزیہ کرکے فیصلہ کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں؟ یا ایک مرتبہ پھر ہم ہاتھ آنے والے بہترین مواقع گواں کر یہ کہہ دینگے کہ ہوسکتا ہے یہ حالات ہمارے حق میں نہیں تھے کیونکہ حالات کبھی بھی ہمارے مرضی و منشاء سے ہمارے حق میں یا خلاف نہیں ہونگے البتہ آج بلوچ کے پاس ایک سنہرا موقع ہے، جہاں بلوچ مزاحمت کار سی پیک پر کاری ضرب لگانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ جہاں ریاست اس قدر مجبور ہوچکا ہے کہ درس گاہوں کو جیل میں تبدیل کرچکا ہے۔ جہاں لوگ ریاستی ڈر و خوف کو للکارتے ہوئے اپنے حقوق کی خاطر سامنے آچُکے ہیں۔ اور خصوصی طور ایسے حالات میں جب پاکستانی فوج کی بدمعاشی اور بدکرداری کو دنیا سمجھ رہی ہے اور وہ ان پر ظاہری و باطنی طور پر پریشر دے رہی ہے کہ ریاست اپنے غنڈہ گردی کو لگام دے۔

ان تمام حالات کا مطالعہ کرکے بہترین حکمت عملی بناکر قومی تحریک کو نئی اور بہترین سمت دینا ہی حقیقی طور پر شہدائے بلوچستان اور تیرہ نومبر کے دن کے حوالے سے بہترین خراج تحسین ہوسکتا ہے ۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔