تعلیمی نظام اور مستونگ – امجد دھوار

32

تعلیمی نظام اور مستونگ

تحریر: امجد دھوار

دی بلوچستان پوسٹ

تعلیم سیکھنے کی سہولت فراہم کرنے کا عمل، یا علم ، ہنر ، اقدار ، عقائد ، اور عادات کے حصول کا عمل ہے۔ تعلیمی طریقوں میں کہانی سنانے ، مباحثہ کرنے ، تعلیم دینے ، تربیت اور ہدایت دینے والی تحقیق شامل ہوتی ہے، تعلیم اکثر اساتذہ کی رہنمائی میں ہوتی ہے تاہم سیکھنے والے خود کو تعلیم بھی دے سکتے ہیں، تعلیم رسمی یا غیر رسمی ترتیبات اور کسی بھی تجربے پر ہوسکتی ہے، جس کے سوچنے محسوس کرنے یا اعمال کو تعلیمی سمجھا جاسکتا ہے۔

مستونگ کی مجموعی آبادی 280461 سے زیادہ ہے، کل آبادی میں مردوں کی تعداد 157963 سے زیادہ ہے خواتین 138498 سے زیادہ ہیں۔

تعلیمی حوالے سے مستونگ کو دیکھا جائے، حکومت طرف سے کوئی ایسی پلاننگ نہیں بنائی گئی جس سے تعلیمی نظام سخت ہو حکومت نے ہر طرح سے تعلیمی نظام کو انکاؤنٹر کرنے کی کوشش کی ہے، جہاں بھی عوام اپنی مدد آپ کے تحت تعلیمی کو بہتر کرنے کی کوشش میں ہیں، اوپر تعلم دشمن عناصر کسی نہ کسی طریقے سے تعلمی نظام کو خراب کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔

مجھے یاد ہے جب میں مستونگ کے ایک پراویٹ تعلیمی دارے میں پڑھ رہا تھا، تب بھی تعلیمی سسٹم کو دبانے کی کوشش کی جا رہی تھی یہاں تک کہ کئی حلقوں کی طرف سے سکول بند کرنے کی دھمکی بھی دی گئی، سکول پر فائرنگ بھی کی گئی جو تعلیمی نظام کیساتھ ایک بڑی خیانت تھی، مگر حکومت کی طرف سے اس کے خلاف کوئی عمل درآمد نہ ہوئی۔

بی بی سی کے ایک رپوٹ کے مطابق بلوچستان کے ضلع مستونگ میں اسکن الرجی سے پریشان کئی گرلز سکولوں کی طالبات نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ صرف مستونگ شہر اور اس کے نواحی علاقوں کے گرلز سکولوں کی طالبات الرجی سے کیوں متاثر ہو رہی ہیں؟

یہ سوال اٹھا جب ایک طالبہ کو سکول میں الرجی اور سانس کی تکلیف کے بعد علاج کے لیے سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا گرلز ہائی سکول شمس آباد مستونگ میں یہ تیسرا سکول تھا، جس میں 30 کے لگ بھگ طالبات الرجی سے متاثر ہوئیں، جن میں سے بعض کو ابتدائی طبی امداد کے بعد مزید علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کیا گیا تھا، ایک اور طالبہ نے بتایا کہ سکول کے اسمبلی کے بعد جب وہ کلاس رومز میں گئیں تو انھوں نے بے چینی محسوس کی، اسی طرح سول ہسپتال آنے والی تمام طالبات کا یہ کہنا تھا کہ جب وہ کلاس رومز میں گئیں تو انہیں پہلے ایک کڑوی سی بو محسوس ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ان کے جسم پر خارش شروع ہوئی۔

اسی طرح ساروان پریس کلب کے ایک صحافی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ انکشاف کیا کہ انہیں اس سنگین مسئلے کو ہائی لائٹ کرنے سے کئی حلقوں سے روکا جا رہا ہے، حکومت کی طرف سے ایک نارمل سی اسکن الرجی بنائی جارہی تھی مگر اس کی حقیقت کچھ اور تھی جسے نہ کسی گورنمنٹ ہسپتال نے ظاہر کی اور نا ایجوکیشن منسٹر نے ظاہر کی، ہر کوئی اس مسئلے سے جان چھڑانے کی کوشش میں تھا۔

اسی طرح چند روز پہلے مستونگ کے تاریخی اور سب سے بڑی ہائی سکول جو کہ مستونگ کے مین بازار میں ہے، جس کا نام گورنمٹ پائلٹ ہائی سکول ہے، جس میں مستونگ کے دور دراز علاقوں سے طلباء علم کی پیاس بھجانے آتے ہیں اور جسکا پرنسپل ارض محمد صاحب تھا، جو کہ بچپن ہی سے تعلیم کے میدان میں بہت ہی تیز تھا، مجھے یاد ہے 2004 میں بھی ارض محمد صاحب مستونگ کے ایک پراویٹ سکول حراء ہائی سکول میں ریاضی کے استاد تھے، جو بہت ہی محنتی اور قابل استاد تھے، ان کی سب سے بڑی خاصیت یہ تھی کہ وہ شاگرد کی نفسیات کو سمجھ کر پڑھاتا تھا، اب وہ پائلٹ سکول میں اپنے تعلمی فرائض سرانجام دے رہے تھے اور زیرو کلاسس بھی لیے رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا مستونگ کیلئے تعلمی میدان میں میں امید کی ایک نئی کرن جاگ چکی ہے مگر اچانک سے انکا تبادلہ کہیں اور کیا گیا جو کہ مستونگ کہ طلباء کیساتھ ایک بہت بڑی نا انصافی ہے، ایسے لوگ جو اپنی مدد آپ کے تحت تعلمی سسٹم کو چلا رہے ہیں، بد قسمتی سے انہیں بھی کوئی روادار نہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔