بی ایس او قومی درسگاہ ہے، اس کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ

146

بلوچ آزادی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے 52 ویں یوم تاسیس کے موقع پر بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے رہنماؤں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ مجھے فخرہے کہ میرے سیاسی سفر کا آغاز بی ایس او جیسے پلیٹ فارم سے ہوا اور بی ایس او نے قومی تحریک اور قومی خدمت کے لئے مجھ سمیت ہزاروں دوستوں کی تربیت کی۔ بی ایس او بلوچ قوم کے چند بنیادی ستونوں میں سے ایک اہم ستون اور قومی درسگاہ ہے۔ اس درسگاہ کی خدما ت بلوچ قومی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا کہ بی ایس او نے قومی سوچ کی سمت اور منزل کے تعین میں بنیادی کردار ادا کیا۔ بلوچ قوم کی حمایت اور طلباء کی شب و روز محنت اور قربانیوں کی وجہ سے بی ایس او نصف صدی سے زائد عرصے سے بلوچ طلباء کی رہنمائی کرتا آ رہا ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بلوچ طلباء کی تربیت اور ان میں قومی شعور پھیلانے میں بی ایس او نے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا ہے۔ اس درسگاہ سے فارغ طلباء نے قومی تحریک میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی ایس او کی سیاست کو پاکستان سمیت ہر اس قوت نے خطرہ سمجھا ہے جو قبضہ گیریت میں شریک جرم تھے۔ جو بلوچ قومی تقدیر پر اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے رہے، ان کی آج بھی کوئی کمی نہیں۔ اسی لئے بی ایس او کی تاریخ نشیب و فراز سے عبارت ہے۔ لیکن قومی سوچ و فکر سے مزین نوجوانوں کو آفرین ہے جنہوں نے اندرونی رسہ کشی، ریاستی مظالم اور پابندیوں کے باوجود اس تنظیم کا وجود برقرار رکھا ہے۔ ماضی کے مظالم کی طویل فہرست اپنی جگہ، موجودہ دور میں بھی بی ایس او کے بے شمار رہنما قتل کئے جاچکے ہیں۔ متعدد رہنما پاکستان کی جبری گمشدگی کی پالیسی کا شکار ہوکر کئی سالوں سے لاپتہ ہیں۔ حتیٰ کہ اس میں بی ایس او کے چیئرمین زاہد بلوچ اور وائس چیئرمین ذاکر مجید بھی شامل ہیں۔ تنظیم کے چنیدہ اور سرکردہ رہنماؤں کو اس طرح لاپتہ رکھنے اور کئی اہم رہنماؤں کو شہید کرنے کے باوجود بی ایس او کا کاروان کہیں نہیں رکا ہے۔ یہ عزم و استقلال کا واضح ثبوت ہے۔

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا کہ قمبر چاکر، الیاس نظر، شفیع بلوچ اور کامریڈ قیوم بلوچ سمیت کئی اہم رہنماؤں کو جس طرح دوران حراست تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کیا گیا، تاریخ میں شاید ہی طلباءتنظیموں کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا ہو۔ بلوچ طلباءتنظیم کے ساتھ پاکستان کی یہ درندگی بلوچ قوم سے نفرت کا اظہار اور ہماری قومی غلامی کی علامت ہیں۔ ریاست پاکستان کسی بھی طرح اس بات کا قائل نہیں کہ بلوچ نوجوان قومی سوچ کے ساتھ تعلیم حاصل کریں۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچ طلباء کی گمشدگی، شہادت اور تشدد روز کا معمول بن چکے ہیں۔ اسی طرح بلوچستان یونیورسٹی کا حالیہ کیمرہ اسکینڈل بھی پاکستان کی اسی پالیسی کا حصہ ہے۔ جس طرح بلوچستان یونیورسٹی کو ایک چھاؤنی میں تبدیل کرنے کے باوجود طلباء نے اپنی تعلیم ترک نہیں کی تو بلیک میلنگ اور تعلیمی ماحول کو پراگندہ کرنے کی پالیسی اپنائی گئی۔

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میں اس تنظیم کا حصہ رہا ہوں۔ طالب علمی کے زمانے میں بی ایس او سے وابستگی، بی ایس او (آزاد) کا قیام اور اس کے ذریعے بی ایس او کی حقیقی روح اور اصل مقصد کی بحالی کا سفر میری زندگی کے اہم ادوار میں سے ایک ہیں۔ 2002 میں ہم نے فکری دوستوں کے ساتھ ملکر بی ایس او کو پارلیمانی سیاست کی چنگل سے آزاد کرکے فدا احمد شہید سمیت ان شہداءکے فلسفے کو بحال کیا جو پارلیمنٹ کو سراب اور بلوچ قوم کے لئے زہر قاتل قرار دے چکے تھے۔ یوں بی ایس او کی اس شق کو عملًا بحال کیا جو بلوچستان کی آزادی ہے۔ اس دن سے آج تک بی ایس او (آزاد) اپنا وہی کردار بھرپور طریقے سے سرانجام دے رہا ہے جس مقصد کیلئے باون سال قبل اس کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بی ایس او نے ثابت کیا ہے کہ ادارہ اور ادارہ سازی قوموں کی تقدیر بدلنے میں واحد کردار ہوتی ہیں کیونکہ اداروں کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ شہید فدا، شہید اسلم بلوچ، شہید ڈاکٹر سلیم سے لیکر شہید حاصل بلوچ تک بی ایس او نے اس سفر میں ان گنت قربانیاں دی ہیں۔ ان قربانیوں سے پاکستانی مظالم آشکار ہوچکی ہیں اور ساتھ ہی دنیا پر واضح ہو چکا ہے کہ بلوچ قوم اپنی سرزمین اور آزادی کی تحریک سے کسی قیمت دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔