کوئٹہ میں لاپتہ افراد کیلئے احتجاج

69

بلوچستان دارالحکومت کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاج کو 3750 دن مکمل ہوگئے۔ مشکے سے اللہ بخش بلوچ، شہک بلوچ، کوئٹہ سے انسانی حقوق کے کارکن حوران بلوچ، بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے وائس چیئرپرسن طیبہ بلوچ نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

اس موقعے پر وی بی ایم پی کے رہنما ماما قدیر بلوچ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے بلوچوں کی لاپتہ شہداء کی آواز اسلام آباد کے ایوانوں سے ٹکرا رہی ہے پرامن اور جمہوری انداز میں مدلل اور منطقی جنگ ہارنے کے بعد ریاست پاکستان نے اپنی پوری ریاستی قوت بلوچ کے آواز کو دبانے کیلئے تاریخ کی بھیانک ترین فوجی آپریشنوں کا آغاز کردیا ہے اس کے ساتھ ریاستی تشکیل کردہ ڈیتھ اسکواڈ گروپوں کے ذریعے بلوچوں کا قتل عام بھی جاری ہے۔

انہوں نے کہا 48 برس کے بعد بلوچستان کا غم ہے نہ بنگالی عوام کا جہاں 30 لاکھ بنگالیوں کا قتل عام کیا گیا، 60 ہزار بنگالی عورتوں کی عصمت دری کی گئی یہ تو جنگ کے دوران پیش آنے والے غیر انسانی واقعات ہیں اقوام متحدہ کی ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان میں خواتین پر تشدد ایک ریاستی وباء کی شکل اختیار کررہی ہے کیونکہ اکثر خواتین انصاف کی عدم دستیابی کی سبب خاموش رہتی ہے کیونکہ بلوچستان اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کے عمل کو گذشتہ ستر سالوں سے ریاستی طاقت کے ذریعے ایک تسلسل کے ساتھ دبانے اور خاموش کرانے کی کوشش جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی جبر تشدد ریاستی دہشت گردی، ریاستی فوجی طاقت کے غیر قانونی، غیر آئینی اور غیر انسانی سلوک سے دو چار بلوچ مظلوم قوم جمہوری انداز میں پاکستانی 22 کروڑ عوام پاکستانی عدلیہ پاکستانی پارلیمانی اداروں اور میڈیا میں پیش کرتی چلی آرہی ہے کہ ریاستی کفر کے نظام سے چل سکتے ہیں مگر ظلم سے قائم نہیں ہوسکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نہتے آبادیوں پر فضائی حملہ کیا جارہا ہے، چادر و چار دیواریوں کی تقدس کو فورسز کے ہاتھوں روندھتے ہوئے معصوم اور بیگناہ شہریوں کو گھروں سے اٹھاکر ہزاروں کی تعداد میں لاپتہ کیا گیا ہے مگر اس کے باوجود بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کی آواز دبانے کی کوشش کررہے ہیں۔