کراچی سے لاپتہ دو طالب علم بازیاب

125

کراچی سے جبری طور پر لاپتہ کیے جانیوالے دو بلوچ طالب علم بازیاب ہوگئے۔

دی بلوچستان پوسٹ نیوز ڈیسک کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کراچی کے علاقے گلشن اقبال سے رواں سال سولہ مئی کو جبری طور پر لاپتہ کیے جانے والے دو طالب علم آج بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گئے۔

بازیاب ہونیوالوں میں کراچی میں ایم فل زولوجی کا طالب علم ناصر عظیم سکنہ کیچ اور طالب علم رحمدل پیر محمد سکنہ کیچ ہے، دونوں افراد کو ایک ساتھ لاپتہ کیا گیا تھا۔

دونوں طالب علموں کے جبری گمشدگی کے خلاف بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن نے ایک پریس کانفرنس میں آواز اٹھائی تھی۔

خیال رہے بلوچستان سمیت سندھ، پنجاب اور خیبرپختواہ میں بھی بلوچ نوجوانوں کے جبری گمشدگی کے واقعات پیش آچکے ہیں جبکہ بیرون ممالک سے اب انسانی حقوق کے کارکن راشد حسین بلوچ کی جبری گمشدگی رپورٹ ہوچکی ہے۔

بلوچ طلبہ کے گمشدگی کے واقعات کے حوالے سے پریس کانفرنس میں بی ایچ آر کے وائس چیئرپرسن طیبہ بلوچ کا کہنا تھا کہ گذشتہ کچھ عرصوں میں طالب علموں کے گرد گھیرا مکمل تنگ کردیا گیا ہے۔ طالب علموں کی ماورائے عدالت گرفتاری میں خاصی شدت لائی گئی ہیں۔ بلوچستان، کراچی، پنجاب اور ملک کے دیگر علاقوں کے یونیورسٹیز اور ہاسٹلز سے کمسن بلوچ طالب علم لاپتہ کیئے گئے یا ان طالب علموں کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کرنے کے لئے متعدد اقدامات کئے گئے۔

واضح رہے بلوچستان کے مختلف علاقے سے کئی افراد بازیاب ہوچکے ہیں جبکہ اسی کے ساتھ کئی افراد کے جبری گمشدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ بلوچ سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں پاکستانی فورسز اور خفیہ ادارے برائے راست ملوث ہیں۔