نیشنل کوسٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا قیام سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں پر قبضے کی سازش ہے – نیشنل پارٹی

48
کوئٹہ

نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام نیشنل کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام‘ ایکسپریس وے کے منصوبے میں ماہی گیروں کے مطالبہ پر عمل درآمد میں تاخیر، غیر قانونی ٹرالرنگ اور منشیات کی وباء کے خلاف گوادر سمیت بلوچستان بھر میں احتجاجی مظاہرے کیئے گئے۔

گوادر مظاہرے میں نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکریڑی خیر بخش بلوچ، سی سی ممبر ملک نصیر احمد شاہوانی، صوبائی جوائنٹ سیکریڑی رب نواز شاہ، ضلعی صدر فیض نگوری، تحصیل نائب صدر حفیظ جعفر اور رہنماء اسماعیل شیخ شامل تھے۔

گوادر پریس کلب کے سامنے مظاہرے سے مقررین خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا قیام صوبائی خود مختاری اور اٹھارویں ترمیم پر عملہ ہے، وفاقی حکومت نے بلوچستان اور سندھ کے ساحلوں کو اپنے زیر تسلط لانے کا منصوبہ بنایا ہے جس سے کالونیل دور کی یاد تازہ ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر بلوچستان کو قدرت نے قدرتی اور معدنی وسائل سے مالا مال کیا ہے تو وفاق کیونکر مضطرب ہے اگر وفاقی صوبوں کے اختیار پر یقین رکھتی ہے یا ساحل کی ترقی چاہتی ہے تو بلوچستان کوسٹل ڈویلمپنٹ اتھارٹی پہلے سے وجود رکھتی ہے اس کی بنیاد پر بلوچستان کے ساحلی علاقوں کو ترقی دی جائے نیشنل کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا منصوبہ صوبے کے ساحل وسائل پر اختیار کی نفی ہے۔

انہوں نے کہا کہ افسوس ہوتا ہے کہ بلوچستان کی ایک قوم پرست جماعت اور حق خود ارادیت کی چپمئن وفاقی حکومت کی اتحادی ہوکر بلوچستان کے خلاف ہونے والی اس مذموم سازش پر خاموش ہے بلوچستان میں اپوزیشن نام کی کوئی چیز نہیں سب حکومت میں ہیں اور عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گوادر میں ایکسپریس وے کے منصوبے پر ماہی گیروں کے مطالبات پر عمل درآمد میں ہونے والی تاخیر سے یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ وفاقی اور صوبائی حکومت ماہی گیروں کے روزگار کے تحفظ کے لیئے سنجید ہ نہیں، ماہی گیروں کے مطالبات پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں مقامی آبادی کا بنیادی روزگار ختم ہوجائے گا حکومت ایک طرف سی پیک اور ترقیاتی عمل سے مقامی آبادی کے روشن مستقبل کی نو ید سنارہی ہے لیکن دوسری طرف مقامی ماہی گیر جو آبادی کا 80فیصد حصہ ہیں ان کے روزگار کے تحفظ کے لیئے سنجیدہ کوشش نہیں کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ضلع گوادر کے سمندری حدود میں غیرقانونی ٹرالرنگ میں ہوشربا اضافہ ہوچکا ہے صوبائی حکومت اور محکمہ فشریز ٹرالر مافیا کی سرپرستی کرکے ماہی گیروں کے روزگار کو تباہ کررہی ہے جبکہ گوادر میں منشیات کی وبا تیزی سے پھیل گئی ہے اور یہ ایک منظم سازش کے ذریعے پروان چڑھایا جارہا ہے تاکہ گوادر کو دوسرا لیاری بناکر یہاں کے نوجوانوں کو مفلوج کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی گوادر کے عوام کے ساتھ کسی بھی زیادتی اور ناانصافی کو قبول نہیں کریگی نیشنل کوسٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا قیام کسی بھی صورت منظور نہیں ہے جس کے خلاف نیشنل پارٹی سخت سیاسی اور جمہوری مزاحمت کرے گی۔

خیال نیشنل پارٹی کے مرکزی کال پر گوادر، کوئٹہ، نوشکی، خضدار، پنجگور، کوہلو، تمبو، مستونگ، کچھی، جعفر آباد اور دیگر علاقوں سمیت سندھ اور پنجاب میں مظاہرے کیئے گئے۔

یشنل پارٹی کے مرکزی صدر و سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ، مرکزی سیکریٹری جنرل جان محمدبلیدی نے رمضان میمن کی قیادت میںکراچی پریس کلب پر منعقد ہونے مظاہرے میں شرکت کی۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے مرکزی اورصوبائی رہنماؤں نے حکومت کوخبردار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت غیرآئینی اقدامات کرنے سے گریز کرے۔ رہنماؤں نے کہا نیشنل کوسٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا قیام وفاق کی طرف سے صوبائی خود مختاری میں برائے راست مداخلت ہے، ساحلی علاقے سمندر کے کنارے سے لیکر سمندر کے اندر 12 ناٹیکل میل صوبائی حکومت کے تصرف میں آتے ہیں اوران کے استعمال کا پورا اختیار صوبائی وحدتوں کے پاس ہے حکومت کی جانب سے نیشنل کوسٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا قیام سندھ اوربلوچستان کے سمندر اوراس کے ساحلی علاقوں پرغیرآئینی طور پر قبضہ جمانے کی سازش ہے۔